زرعی پروجیکٹ ایف پاس کے ہاتھوں آخر کیوں؟

0 0

اکنامک ٹرانسفارمیشن انشیٹو المعروف ای ٹی آئی پروجیکٹ گلگت بلتستان کی زرعی اکانومی کو یکسر تبدیل کرنے اور عام کسان کی زندگی میں سبز انقلاب کی نوید لیکر آنے والا ایک نہایت ہی اہم پروجیکٹ تھا۔ اس پروجیکٹ کے ذریعے پچاس لاکھ کنال نئی زمین زیر کاشت لانا ایک اہم سنگ میل مقرر کیا گیا تھا اسکے علاؤہ کسانوں کو کوآپریٹو سوسائٹی سسٹم میں پرو کر زراعت کو کاروباری سرگرمی بنانا دوسرا اہم حدف مقررکیا گیا تھا۔ یہ ایک خطیر رقم کا پروجیکٹ ہے تقریبا اٹھارہ ارب روپئے کا۔ یہ کسی کی خیرات بھی نہیں بلکہ ایک سوفٹ لون ہے جسے ہم نے کل واپس بھی کرنا ہے۔
میں محکمہ زراعت گلگت بلتستان میں پچھلے بیس سالوں سے رورل ڈیولپمنٹ کا کام اپنے مکمل شوق سے کررہا ہوں یہ نہ صرف میری نوکری ہے بلکہ تسکین کا ذریعہ بھی ہے۔ جب اس پروجیکٹ کو لانچ کیا گیا تو بڑی امیدوں اور جوش کے ساتھ اسکے ممکنہ نتائج پر ہم سب نے باتیں کئیں۔

محکمہ زراعت گلگت بلتستان ایک نامکمل سیٹ اپ کے ساتھ اس علاقے میں کام کررہی ہے۔ اے کے بلغاری سے لیکر آج تک ۔۔ ۔۔ نا مکمل سیٹ اپ ایسے ہے کہ ایک ہی ڈیپارٹمنٹ ریسرچ بھی کررہی ہے زرعی توسیع میں بھی جتے ہوئے ہیں اور لوگوں کے شکستہ واٹر چینلز کی مرمت بھی کررہی ہے۔ نامکمل سیٹ اپ کے باوجود ملک کے دیگر صوبوں سے بہت اچھا کام کرتی ہے۔۔ علاقے میں چیری کی انٹروڈکشن سے اسکی کمرشلائزیش تک ایک لمبا سفر اور اس سفر میں محکمہ زراعت کے بے شمار کارکنوں کی عرق افشانی،آلو کی کمیابی فصل اور پھر نقد آور شئے تک کا سفر، خوبانی کی بے قدر فصل سے لیکر اسکی ویلیو ایڈڈ پروڈکٹ بین القوامی مارکیٹ تک رسائی اور کسان کے لئے یہ منافع بخش فصل بننے تک کا عمل برسوں کی محنت شاقہ اور زرعی کارکنوں کی لازوال قربانیاں اسمیں شامل ہیں۔اسکے بعد علاقے میں شہد کی مکھیوں کی ترویج جدید زراعت کا فروغ فلوریکلچر کا تعارف اور ان جیسے بیشمار ایکٹیویٹیس سے کسان کی ذندگی میں مثبت تبدیلی آئی۔ گلگت بلتستان میں زراعت ہی حقیقت میں غربت ختم کرنے کا واحد ٹول ہے۔ مگر حکمرانوں کا حدف کبھی بھی یہ سیکٹر نہ رہا۔ اس محکمے کو مشکل سے ابتدائی خدو خال دئے گئے ہیں مگر کشمیر طرز کی بھی سیٹ اپ دینے کی کبھی کسی حکومت نے کوشش ہی نہیں کی۔ اسمیں حکمرانوں کے علاؤہ ہمارے اپنے سینئرز کا بھی قصور ہے کہ ذاتیات میں اتنے الجھے رہے کہ ڈیپارٹمنٹ کی توسیع اور ری سٹریکچرینگ میں ہم ابھی تک ناکام رہے۔
ای ٹی آئی پروجیکٹ کے آنے کے بعد ہماری یہی سوچ تھی کہ اب محکمہ زراعت کے پاس فنڈز کی کمی کا بنیادی مسلہ حل ہوجائےگا۔ اس محکمے کو ایک بوسٹ ملےگی اور یقینا علاقے کی زرعی تقدیر بدل جائیگی۔کسان خوشحالی کے سفر کی سمت گامزن ہوگا۔
اے بسا آرزو کہ خاک شد۔ پالیسی سازوں نے سینکڑوں اعلی تعلیم یافتہ ہنر مند افراد کے ہونے کے باوجود ای ٹی آئی پروجیکٹ میں محکمہ زراعت کو بلکل نظر انداز کیا اور برسوں کے تجربہ کار ورکرز کو چھوڑ کر ای ٹی آئی نے نئے لڑکے ہائر کئے جنکو مکمل آزادی سے وہ کام تفویض کیے گئے جنکے لئے لوگوں کی زندگی تجربے میں گزر جاتی ہے تو ایک کامیاب ماڈل قائم کرتے ہیں۔ اسکا نتیجہ یہ نکلا کہ ایک بی اے پاس لڑکا ایی ٹی آئی کا آرچرڈ لگوا رہا ہے۔ناتجربہ کاری کی وجہ سے کسان کو اپریٹوز کو غلط فصلات ریکمینڈ کررہے ہیں، انہوں نے گلگت بلتستان ایگریکلچر کے محکمے کو بلکل ہی نظر انداز کیا ہوا ہے۔ بلکہ ای ٹی آئی اب تو ایک الگ ہی خودمختار ادارہ بن چکا ہے جو ناتجربہ کار ہجوم پر مشتمل ہے۔ اسکا نتیجہ منطقی طور پر ناکامی سے دوچار ہونا ہی تھا۔ یہ خوبصورت اور فائیدہ مند پروجیکٹ ایک مکمل ناکام ایکٹیویٹی بنتی جارہی ہے۔ صرف چند لوگوں کی مونا پولی ہے مگر عام کسان کا فایدہ اسکے وسائل کی نسبت بلکل نہ ہونے کے برابر ہے۔

ہماری حکومت وقت سے گزارش ہے کہ جن لوگوں کی غلط پلاننگ اور مفاد پرستی شخصی پسند نا پسند کی وجہ سے یہ خطیر رقم والا منصوبہ کھٹائی میں پڑا ہوا ہے انہیں اس پروجیکٹ سے فوری الگ کیا جائے، تحقیقات کرکے سزا دیا جائے اور محکمہ زراعت کے تعلیم یافتہ افرادی قوت اور وسائل کو استعمال کرکے اسکے ثمرات کو عام آدمی تک پہنچانے کا سبیل فرمایا جائے۔
اگر شروع میں ہی غلط مشیروں کی باتوں کو اہمیت نہ دیتے اور محکمہ زراعت کو مکمل اس پروجیکٹ میں انوال کرتے تو نوبت یہاں تک نہ پہنچتی۔ آج صوبائی و علاقائی ذمے داروں کے بغیر یہ پروجیکٹ سانسیں گن رہی ہیں۔ حکام اعلی ابھی بھی درست فیصلہ کرے تو وقت ہاتھ سے نہیں گیا ورنہ بہت دیر ہوجائیگی۔
تحریر جاوید سالک

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website