گلگت بلتستان کے فلک بوس پہاڑوں کی قسمت میں کچھ دہائیاں ایسی بھی آئیں جہاں کی تاریخ کشت و خون سے عبارت ہے۔۔۔ 90 کی دہائی کے بعد ہر گزرا ہوا دن بدترین بدامنی کا حوالہ بن کر انگنت گھروں کے گلشن میں آگ و خون کا کھیل لیکر آیا۔۔۔ جہاں گلگت کی گلیاں خون آلود ہوئیں وہاں قراقرم ہائی وے انسانیت کیلئے سرخ لیکر بن گئی۔۔ انسانی تصور محدود دائروں میں سفر کرتا ہوا انسانی معراج سے عاری ہوتا گیا۔۔ مقامی آبادی کے رویوں میں تشدد کی تعلیم سرائیت کرتی گئی جبکہ سیاسی دبستان داستان جبہ و دستار کا علم اٹھاتے ہوئے مذہبی تقسیم کا محتاج رہا، قدریں، روایات، خلوص، وفا اور اپنائیت کے سارے چراغ بدامنی کی ہوا کے نذر ہوتے گئے۔ ماحول کی گھٹن میں جب زندگی بھیک مانگنے لگی تو کچھ خرقہ پوش اپنی خون آلود روایات کے باغی ہو کر امن کیلئے آگے بڑھے، ان میں سرفہرست سیف الرحمن شہید تھے جنہوں نے بدامنی کی دیوار پر امن کے چراغ روشن کئے۔ امن کے اس سفر میں جہاں انہیں اپنوں سے بے مروتی کے تحفے ملے وہاں ماحول کی ناسازگاری اور رائج مزاج بھی بڑی رکاوٹ بن کر سامنے آئے ۔ سیف الرحمن شہید نے امن کے مشن کو اپنا اوڑھنا بچھوبا بنایا۔۔ گلی کوچوں میں جا کر امن کی بھیک مانگی اور گلگت بلتستان کے شاندار مستقبل کا روڈ میپ دیا۔ اپنی سیاسی جدوجہد کو امن سے مشروط کیا، اپنی صلاحیتوں کو امن سے وابستہ کیا اور وہ دن بھی ان پہنچا جب اپنی زندگی کو امن کے نام کرتے ہوئے ہمشہ ہمشہ کیلئے سو گئے ۔۔ وفا کی یہ داستان لفظوں کی محتاج ہر گز نہیں مگر زندہ قومیں اپنے محسنوں کو یاد کرتی ہیں انہیں خراج عقیدت پیش کرتی ہیں کیونکہ اس عمل سے اچھی روایات کو نئی زندگی ملتی ہے، امن فروغ پاتا ہے اور زندگی کو مسکراہٹ نصیب ہوتی ہے۔۔ یہ 2003 کی بات ہے جب گلگت بلتستان شدید مسلکی تقسیم کے ایندھن میں جل رہا تھا، ہر طرف آہ و بکا اور نفسا نفسی کا راج تھا، ایک دوسرے کے گلے کاٹنے کا چلن عام تھا، کاروبار زندگی ٹھپ تعلیم و صحت کے شعبے تقسیم تھے۔۔۔ گلگت شہر نو گو ایریاز میں بٹ چکا تھا، انسانیت سسک سسک کر دم توڑ چکی تھی، انسانی وقار عام بات تھی۔۔۔ ایسے حالات میں شہر کراچی میں نگر سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کو نشانہ بنایا گیا گیا، جب ان کی میتیں گلگت ائیر پورٹ پر اتاری جا رہی تھیں تو شہر کے حالات کشیدہ ہوئے، کشروٹ سے گزرتے ہوئے قافلے نے جب شدید نعرے لگائے تو وہاں کی مقامی آبادی بھی متشدد رویے کے ساتھ باہر نکلی،ان میں سے کچھ نوجوان بامسلح تھے، سیف الرحمن نے اپنے محلے کے ایک نوجوان سے کلاشنکوف چھینی اور باقی مظاہرین کو وہاں سے منتشر کرنے میں اہم کردار ادا کیا جس وجہ پورا شہر ایک بڑی بدامنی سے محفوظ رہا۔۔۔۔امن کے اس رویے کی پاداش میں اگلے دن سیف الرحمن کے اپنوں نے انہیں سر عام گولیاں برسا کر شہید کیا۔۔ امن کیلئے بہنے والا خون کے یہ قطرے آنے والی نسلوں کی زندگی سنوار گئے اور یہ قافلہ مزید وسعت پاتا گیا۔۔۔ الحمد اللہ آج پورے گلگت بلتستان میں امن کے چراغ روشن ہیں، زندگی کو مسکراہٹیں مل چکی ہیں، نوگو ایریاز ختم ہو چکے ہیں، خوشحالی اس خطے کے دروازے پر دستک دے چکی ہے۔۔۔۔ 17 برس قبل لگایا گیا امن کا پودا تناور درخت بن چکا ہے اور جب بھی 19 مارچ کا دن آتا ہے ہمارے ہاتھ بے اختیار دعا کو اٹھتے ہیں ہم شہید امن کیلئے مغفرت کی دعا اس عہد و تجدید کے ساتھ کرتے ہیں کہ ہم سیاست کو امن سے مشروط کریں گے اور وفا کی داستان کو مزید پختہ کریں گے۔۔۔
تحریر : فیض اللہ فراق۔۔۔
More Stories
شاہراہ بلتستان ،شاہراہ قراقرم کی زبوں حالی اور سیاحت کا مستقبل۔
دیرینہ کارکنوں کی قربانیاں اور سیاسی جماعتیں
اقوام متحدہ میں گلگت بلتستان کا مقدمہ ہے یا نہیں ؟