آج کے دور میں تحریک انصاف اور اسکی سوشل میڈیا ٹیم سے وابستہ رہنا بھی بڑے جوکھم کا کام ہے۔ انسان پریشانی اور بعض اوقات پشیمانی کا شکار ہوجاتا ہے کہ وہ عوامی موقف اور مفادات کو مقدم رکھے یا حکومت کے تمام مثبت اور منفی اقدامات پر اسکی تائید میں جواز تراشے۔*
*قصہ ہے ہماری گلگت بلتستان کی انصافی حکومت کے اس اقدام کا جس میں گلگت بلتستان میں بیک وقت دو نیشنل پارکس کے قیام کا اعلان کرکے معاشرے میں ایک ہلچل مچادی ہے۔ کوئی اسکی تعریف کرتے نہیں تھکتا تو کوئی اس کے عام عوام بالخصوص جن علاقوں کو نیشنل پارک ڈکلئیر کیا ہے کی عوام پر مضمرات کو لیکر اہل اقتدار کو جگانے اور ان کو ایسے اقدامات سے باز رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ راقم نے بھی آبادی والے علاقوں پر مشتمل نیشنل پارک بنانے پر اپنی ہی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا تو کچھ شدید انصافی دوستوں کو ہماری یہ جسارت بالکل پسند نہ آئی۔ دوستوں کا اعتراض آیا کہ مثبت پہلو بھی دیکھا کریں اور یہ کہ تنقید کرکے مایوسی نہ پھیلایا کریں۔ سو ان شدید انصافی دوستوں کی نصیحت پر کان دھر کر یہ کالم نیشنل پارک اور اسکے عام عوام پر مثبت اثرات پر لکھنے جارہا ہوں۔ امید ہے میرے شدید انصافی ساتھی اور دیگر باشعور طبقات اس مضمون کو ہضم کر پائیں گے۔*
نیشنل پارک کے چند مفید اور مثبت پہلو مندرجہ زیل ہیں۔
1- نیشنل پارک کی حدود میں جنگلی جانور جیسے مارخور اور مارکوپولو شیپ کے شکار پر پابندی ہوگی۔ اس سے ٹرافی ہنٹنگ کا رواج دیکر لوکل کمیونٹی کے اشتراک سے پیسہ کمایا جاسکتا ہے۔
2- نیشنل پارک بنیادی طور پر اس علاقے کو اسکے قدرتی شکل میں برقرار رکھنے اور جنگلی حیات کے لئے محفوظ اور انسانی مداخلت سے پاک رکھنے کے لئے بنائے جاتے ہیں لہذا ان پارکس کے قیام سے ان علاقوں میں قدرتی ماحول میں عام لوگوں کی مداخلت کم ہوگی اور جنگلی حیات کو آزادی اور آئینی تحفظ مل جائے گا۔ یوں چوہتر سال بعد انسانوں کو نہ سہی جانوروں کو تو آئینی اور قانونی شناخت مل جائیگی۔
3- نیشنل پارک کی حدود میں کوئی بھی شخص رہائش اختیار نہیں کرسکتا۔ اگرچہ موجودہ حکومت میں اس قانون پر عمل در آمد مشکل نظر آتا ہے لیکن بعد میں آنے والی کوئی بھی حکومت اس قانون پر عمل در آمد کرائے تو اس وسیع علاقے کو مقامی چرواہوں اور عام لوگوں کے وجود سے پاک کرکے جنگلی حیات اور قومی مفاد کے لئے ایک وسیع و عریض خوبصورت علاقہ میسر آسکتا ہے۔
4- نیشنل پارک کی حدود میں کوئی بھی شخص جنگلی حیات کا شکار یا انہیں پکڑ نہیں سکتا۔ ٹرافی ہنٹنگ اور بااثر طبقات کو البتہ اس سے استثناء حاصل ہوگا۔ اس سے جنگلی حیات کی افزائش ہوگی اور بچی کھچی عوام کی آمدنی میں اضافے کا ایک امکان بھی رہے گا۔
5- کوئی بھی شخص نیشنل پارک کی حدود میں آتشیں اسلحہ نہیں لاسکتا۔ اس قانون کی وجہ سے اس علاقے میں رہنے والے لوگ آتشیں اسلحے کا شکار ہونے سے بچ جائیں گے۔ یہ بھی ایک بہت بڑا فائدہ ہے۔
6- کوئی بھی شخص نیشنل پارک کی حدود میں ڈومیسٹک جانور یعنی گائے بیل بھیڑ بکریاں گدھے گھوڑے نہیں لاسکتا نہ پال سکتا ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہے کہ جب یہ جانور نہیں ہونگے تو بے چارے جنگلی جانوروں کو کھانے کو کافی مقدار میں گھاس پھوس ملے گی اور ملک میں سبزہ میں بھی اضافہ ہوگا۔ ویسے بھی غریب لوگ یہ جانور رکھ کر سارا سال انکو پالنے میں خوار ہوتے ہیں۔ تمام بالائی علاقوں کو نیشنل پارک قرار دینے سے پورے علاقے کو چرواہوں اور چراگاہوں کی لعنت سے پاک کیا جاسکتا ہے۔
7- کوئی بھی شخص نیشنل پارک میں موجود گھاس کی کٹائی نہیں کرسکتا یا پارک میں موجود کسی بھی درخت کو یا اسکی شاخ کو کاٹ نہیں سکتا سوائے سرکاری اجازت نامے کے۔ اس کا فائدہ بھی جنگلی حیات اور قدرتی ماحول کی بقا کے ساتھ ہے۔ اس قانون سے ڈومیسٹک جانوروں کی حوصلہ شکنی بھی مقصود ہے۔
8- کوئی بھی شخص نیشنل پارک کی حدود میں زمین کاشت نہیں کرسکتا۔ اس قانون کا مقصد زمین کو انسانی عمل دخل سے محفوظ رکھنا ہے تاکہ انسان اس زمین کا غلط استعمال کرکے اپنی فصلیں آپ پیدا نہ کرسکے۔ ویسے بھی جب گندم اور چاول اور دیگر فصلیں پنجاب اور دیگر علاقوں سے آتی ہیں تو پھر ان علاقوں میں کاشت کاری کرنے کیوں دی جائے۔ اس تناظر میں ضروری ہے کہ گلگت بلتستان کے تمام علاقوں کو نیشنل پارک قرار دیکر کاشت کاری پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔
9- کوئی بھی شخص نیشنل پارک میں سے کوئی پھول تک نہیں توڑ سکتا۔ نہ کوئی درخت یا کسی پتھر کو اسکی جگہ سے اٹھا سکتا ہے نہ ہی اسکی جگہ تبدیل کرسکتا ہے۔ نہ ہی کسی بھی قدرتی یا انسانی تعمیر میں کوئی بھی تبدیلی کرسکتا ہے۔ جو کچھ جیسا ہے ویسا ہی رکھنا ضروری ہے تاکہ جنگلی حیات کے لئے اس ماحول کو محفوظ بنایا جاسکے۔
10- تمام لوگوں پر نیشنل پارک کی حدود میں آفیسران کی طرف سے ملنے والے کسی بھی قانونی حکم کو ماننا واجب ہوگا۔ نہ ماننے کی صورت میں قانونی کاروائی عمل میں لائی جاسکتی ہے۔
11- نیشنل پارک کی حدود میں گندگی پھیلانا اور پانی کو گندا کرنا سخت ممنوع ہے۔ اس سے جنگلی حیات اور آبی حیات کو ناپیدی کا خطرہ ہے۔ گندگی پھیلانے اور گندا پانی پلانے کے لئے انسانی آبادیاں اور شہری علاقے موجود ہیں جہاں انسان اپنی انا کی تسکین کرسکتے ہیں۔
*سننے میں آرہا ہے کہ دیوسائی نیشنل پارک کی حدود میں آنے والے لوگوں نے بھی ایک عرصہ اسکے خلاف مقدمہ بازی میں لگایا اور پھر کچھ معاملہ فہم لوگوں کی وجہ سے ایڈجسٹمنٹ ہوئی۔ لیکن اس کا نتیجہ یہ ہے کہ داسخرم استور والے اب بھی اپنی ہی زمینوں پر جانے کے لئے دو سو روپے کی ٹکٹ ادا کرتے ہیں پھر اپنی زمینوں پر جاتے ہیں۔ یوں سرکار کی آمدنی کا یہ ایک نہایت قابل قدر طریقہ ہے۔*
*ہم حکومت سے اس بابت پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ گلگت بلتستان کے چودہ اضلاع کو کم از کم اٹھائیس نیشنل پارکس میں تقسیم کرے اور پورے گلگت بلتستان کو ان فائدوں سے مستفید ہونے دے۔ تاکہ آبادی کو بھی کنٹرول کیا جاسکے اور جنحلی حیات کو بھی بچایا جاسکے۔ نیز اس سے بچ جانے اور قبول کرنے والے لوگوں کی انکم میں اضافہ بھی ہوسکتا ہے۔ لہذا حکومت وقت اس مطالبے کو سیرئیس لے اور عمل درآمد کو یقینی بنائے
تحریر ۔ تحسین علی رانا
More Stories
شاہراہ بلتستان ،شاہراہ قراقرم کی زبوں حالی اور سیاحت کا مستقبل۔
دیرینہ کارکنوں کی قربانیاں اور سیاسی جماعتیں
اقوام متحدہ میں گلگت بلتستان کا مقدمہ ہے یا نہیں ؟