افراد خانہ میں امتیازی سلوک ایک عارف کی نظر میں

0 0

کہا جاتا ہے کہ مجتہد متجزی ، بزرگ عارف شیخ علی برولمو مرحوم تبلیغ کے سلسلے میں کھرمنگ کے سرحدی گاؤں بریسل پہنچا تو عمائدین ان کی استقبال کے لئے جمع ہوے ، ایک ایک سے وہ ہاتھ ملا رہا تھا کہ ایک شخص سے ہاتھ ملاتے ہی انہوں نے زیر لب لاحول ولا قوہ۔۔۔۔۔ پڑھا ، ان کے ساتھی نے آہستگی سے پوچھا قبلہ خیریت؟ انہوں نے فرمایا کہ ابھی جس شخص سے ہاتھ ملایا مجھے جہنم کی تپش کا احساس ہوا ، یہ بات کسی طرح اس شخص تک پہنچی اور وہ دوسرے دن شیخ علی مرحوم کے پاس پہنچا اور کہا کہ مجھ سے ہاتھ ملا کے آپ نے ایسا فرمایا میری غلطی کیا ہے بتادیں تو مہربانی ہوگی تاکہ میں اصلاح کروں ، شیخ نے پوچھا “اچھا وہ تیرا ہاتھ تھا؟” کہا “جی قبلہ”
پوچھا ” ذریعہ معاش کیا ہے؟”
کہا ” کھیتوں میں کام کرتا ہوں اور مال مویشی پالتا ہوں بس گذارہ ہوجاتا ہے ”
پوچھا ” اپنے اور پورے اہل و عیال کے کھانوں (رزق) کی تفصیل بتاؤ”
غربت کا زمانہ تھا ، اس بندے نے جواب دیا ” بیوی بچے شلجم ،خشک خوبانی اور ستو وغیرہ سے پیٹ کی آگ بجھاتے ہیں جبکہ میں چونکہ گھر کا سربراہ ہوں اس لیے صبح شام ایک آدھ روٹی اپنے لئیے تیار کرواتا ہوں”
یہ سننا تھا کہ غصے سے شیخ علی کا چہرہ سرخ ہوا اور ساتھیوں کو کہا کہ یہ شخص جس بچھونے پہ بیٹھا ہے اس کے جانے کے بعد اس کو بھی دھو لینا ، استغفرُللہ گھر والوں کو روکھی سوکھی کھلا کے اپنے لیے من پسند کھانا کھاتے ہو۔۔ !!!”

(گھر میں بوڑھے والدین اور چھوٹے بچوں کو منفی اٹھائیس ڈگری سرد موسم میں چھوڑ کر پنڈی ،کراچی اور لاہور تشریف لے جانے والے دوستوں کے لیے ایک خاموش پیغام)

م۔ناروی

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website