وزیر تعلیم گلگت بلتستان کے نام شگر برالدو سے علی شفا کا کھلا خط

0 0

محترم راجہ محمد اعظم خان صاحب امید ہے مزاج گرامی بخیر ہونگے اور دعا گو ہوں کہ آپ سلامت رہیں جناب وزیر تعلیم صاحب آپ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ تعلیم جیسے مقدس وزارت آپکو ملی جوکہ بحثیت ایک طالب علم میں سمجھتا ہوں کہ آپکی راجگی نظام جو صدیوں سے ہے آپ کے لیے بہت بڑا اعزاز ہے سابق وزیر تعلیم جناب ابرہیم ثنائی صاحب سے بھی ہماری اچھی دوستی ہے اور بہت اچھے پالیسی سازی کے حوالے سے ملاقاتیں رہی، آج میری طرف سے آپکو پورے گلگت بلتستان کے لیے نہیں اندرونی شگر کے لیے درخواست کرنے ہیں تو محترم راجا صاحب آپکو تو مجھے سے زیادہ علم ہوگا اندرون شگر تعلیم کا فقدان ہے اعلی تعلیم کی طرف توجہ نہ ہونے کے برابر ہیں اس زبوں حالی کے کئی وجوہات ہیں ہم انکو ایک ایک کرکے زکر کرتے بھی ہیں تو جو وقت گزرا اس نے واپس نہیں آنا ہے لھذا بہتر یہی ہے کہ ہم آگئے کا سوچیں کہ کیا کرنا تو راجہ صاحب آپ سے گزشتہ کئی سالوں سے مسلسل ملاقاتیں رہی ہیں لیکن کبھی تہذیب پر اور ادب بلتستان تو ثقافت پر لیکن بدقسمتی سے تعلیم کے اوپر کھبی بات نہیں ہوسکی۔۔۔ میرا تعلق ملیار روندو سے جہاں آج بھی صرف دو کمروں والا ایک اسکول 🏫 ہے لڑکیوں کے لیے تو سرے سے کوئی عمارت بننی ہی نہیں مشکل موسمی حالات میں کھلے آسمان تلے تعلیم کی پیاس بجھانے کی کوشش جاری ہے۔۔۔ جناب تو بات کرتے ہیں شگر کی میرا شگر سے گزشتہ بارہ سالوں کا ایک یارانہ ہے میں این جی اوز میں کام کرتا ہوتو شگر شروع سے میرے لیے ایک گھر کی حیثیت رکھتا ہے اور میں ہمیشہ شگر والوں کی تعریفیں کرتا رہتا ہوں ماشااللہ بہت اچھے لوگوں کی سر زمیں ہے ۔۔۔اندرون شگر میں نظام تعلیم بہت ابتر ہے دوہزار سترہ کے نومبر میں ایک ٹیم کے ساتھ میں اپو علی گون گیا تو وہاں ہوٹل پر چیرمین صاحب اور کچھ نوجوانوں سے ملاقات ہوئی تو پتہ چلا پورے اسکول میں ایک ہی ٹیچر ہے تو میں ڈی ڈی او صآحب سے درخواست کرکے اسی ہفتے میں ایک اور استاد کا اضافہ کیا لیکن پتہ نہیں کتنا عرصہ وہ استاد وہاں رہے ہم نے بلتستان یوتھ الائنس کے ذریعے جب استادوں کو ایل پی سی ایریا بھیج دیا تو سب سے زیادہ مشکل شگر میں پیش آئی جسکی اصل وجہ ایسے استادوں کا ہے جو تنخواہوں کے لیے بھرتی ہیں رہتے سکردو میں غریب عوام کا کیا قصور وہ اپنے بچوں کو مجبوری یا خوشی انجانے میں گورنمنٹ اسکول میں داخل کرتے ہیں تو اس نظام کو ٹھیک کرنا ہم سب کا فرض ہے ۔۔ اندرونی شگر پرائیویٹ اسکولوں کا کوئی نظام نہیں جسکی وجہ سے والدین اور بچوں کے پاس ایک ہی راستہ گورنمٹ اسکول جس کی حالت سب کو پتہ ہے داسو بالا دسمبر اسی سال میں گیا تھا وہاں ایک اسکول کی خستہ حالت دیکھ کر مجھے رونا آیا مقامی لوگوں کی سوچ اور نمایندگی کرنے والوں کی لاپرواہی پر ۔۔ اسکول کی پیکچرز میرے پاس ہیں ۔۔ رجب قمر جوکہ بحثیت ایکٹو صحافی کام کرتے کا تعلق اسی گاؤں سے ان سے بات ہوئی تو پتہ چلا انکی کوششوں سے استادوں میں اضافہ ہوا ہے اور اسکول کی بلڈنگ بہت خستہ حالت میں ہے اسی طرح باشہ ویلی کے بھی حالات بہت نزک ہیں ۔۔ آپ سے گزارش ہے آندرونی ںشگر کے لیے دیامیر کی طرح کا ایک پیکج منظور کروائیں تاکہ میل فیملی ایجوکیشن کو بڑھانے میں مدد ملے یہ لوگ فوج میڈیا کی نظر میں اس لیے نہیں کیونکہ آج تک انھون نے کوئی اسکول جلایا نہیں ورنہ اسٹبلشمنٹ شاید انکو بھی کوئی پیکج دیتا فوج کے کمانڈر شاید یہاں پر بھی جرگے کرتے مجھے سابق کمانڈر ایف سی این اے ڈاکٹر احسان محمود صاحب کی باتوں پر بھی دکھ ہوا جو یہ کہتے نہیں تھکتے تھے کہ شگر برالدو اور اراندو میں فلاں فلاں میرا دوست ہے ہیلی کاپٹر سے چکر بھی لگایا کچھ ٹیچرز دینے کا بھی ذکر کیا تھا غالباً ایک دفعہ لیکن کھبی یہاں تعلیم جرگہ نہی لگایا یہاں تو تعلیم کا ماحول ہی نہیں یوں کہیں دیامیر سے شگر بیس سال تعلیم میں پچھے ہے تو غلط نہیں ہوگا ۔۔ مجھے نہیں پتہ جنرل صاحب کی مجبوریاں کیا رہی ورنہ عملاً وہ ایک علم دوست شخصیت ہیں شاید ادارے کی پالیسی اجازت نہیں دی گئی ہو لیکن راجہ صاحب آپکو تو کوئی مسلہ نہیں آپ شگر کے لیے ایک اسپیشل پیکج کی بات کریں جوکہ بہت ضروری ہی نہیں واجب ہے آپ سے ملاقات کا منصوبہ تھا جو نہیں ہوسکا میرے ملک سے باہر اپنی تعلیمی مصروفیات کی وجہ سے لیکن آپکو اللہ تعالیٰ نے مواقعہ دیا تو امر ہونے کے لیے چانس لیں ۔
تعلیم ںسے بہتر کوئی خدمت نہیں ہوسکتی نسلیں آپکی محبت میں گرفتار رہیں گئی ایک لیڈر کی کامیابی بس یہی بے ۔
پروفیسر علی شفا
واشنگٹن ڈی سی

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website