مچھ میں ہونے والے مظالم پر اس ملک کی ہر آنکھ اشکبار ہے۔ انسانی تاریخ کے اس جبر پر سب کو دکھ ہوا ہے۔ راقم اس ظلم کے خلاف 2 کالم لکھ چکا ہوں اور حسینی صفوں میں موجود ابن زیاد اور شمر کی نشاندہی کرنے کے ساتھ ساتھ ان تماشائیوں کا تذکرہ بھی کرچکا ہوں جنہوں نے کوفیوں کا کردار ادا کیا۔۔۔۔ بے حس کرداروں کا بھی تذکرہ ہوچکا ہے جنہوں نے مصلحتوں کے کمبل اوڑھے انسانی ظلم کو تماشہ کی نظر سے دیکھا لیکن ان تمام حوالوں سے ہٹ کر اس حقیقت کی بھی نشاندہی لازمی ہے کہ آخر ہمارے ملک میں اس نوعیت کے واقعات کیوں پیش آتے ہیں؟ بیگناہ انسانی جانوں کے ساتھ کیوں کھیلا جاتا ہے؟ اور مظلوم ہزارہ برادری کی نسل کشی کیوں ہو رہی ہے؟ اس میں دو رائے نہیں ہے کہ ہزارہ برادری پر ہونے والے ظلم کی تاریخ پرانی ہے اور عشروں سے ان کے گلے کاٹے جا رہے ہیں اسی طرح ملک کے دیگر صوبوں میں بھی فرقہ وارانہ رنگ دینے کیلئے ان گنت اور بینگاہوں کا بے تحاشا خون اب تک بہہ چکا ہے۔ مچھ میں پیش آنے والے دلخراش واقعہ کو بطور انسان دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ہزارہ برادری پر حملہ انسانیت اور پاکستان پر حملہ ہے۔۔ اسی بلوچستان میں پاک فوج کے سینکڑوں جگر گوشے دشمن کی سازش کو بے نقاب کرتے ہوئے جان کی بازی ہار گئے ہیں۔۔۔ اپنی زندگیوں سے کھیلتے ہوئے انہی گمنام غازیوں اور شہیدوں نے “کلبھوشن یادیو ” جیسے منظم نیٹ ورک کو بے نقاب کیا ہے جس نے ہزاروں بیگناہ پاکستانیوں کے خون سے کھیلا۔۔۔۔اور آج بھی اس نوعیت کے ایجنٹ پڑوسی ممالک کے تعاون سے وہاں پر موجود ہیں جو بیرونی محاذ پر پسپائی کی صورت میں سرمایہ کاری کے ذریعے اندرونی محاذ پر پاکستانیوں کو آزمائش میں ڈالنے پر بضد ہیں۔۔۔۔ بدقسمتی یہ ہے کہ انہی سازشوں کے زیادہ تر شکار ہزارہ برادری کے پرامن اور مظلوم لوگ رہے ہیں۔۔۔۔کیا کوئی یہ جانتا ہے کہ ملک کے گمنام ادارے دشمن کی سازشوں سے ہونے والے ایسے 10 واقعات روزانہ روکنے میں کامیاب ہوتے ہیں جبکہ بعض اوقات دشمن اپنی چال میں کامیاب ہوتا ہے۔۔۔ پاکستان کو عدم استحکام سے دو چار کرنے کیلئے بھارتی ایجنسی “را” پاکستان کو اندر سے فرقہ وارانہ بنیادوں پر نئے تقسیم کا نہ صرف منصوبہ بنا چکا ہے بلکہ اس عمل کو تقویت دینے کیلئے بھاری سرمایہ کاری بھی ہو رہی ہے ایسے میں جہاں ریاست شہری کی جان و مال کے تحفظ کا ذمہ دار ہے وہاں شہری پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ہر واقعے کو اپنی کم فہم دانشوری کی نظر سے دیکھنے کے بجائے اپنے اداروں پر اعتماد کرتے ہوئے اس کی تہہ تک پہنچیں اور حقائق سامنے آنے تک کسی بھی قسم کی مبالغہ آرائی اور بے صبری سے گریز کریں۔۔۔ ذرا ایک لمحے کیلئے سوچیں کہ ہزارہ برادری کے نصف درجن بیگناہ مزدوروں کی ہلاکت سے ریاست کا کیا فائدہ ہے؟ اور اس ظلم پر کون خوش ہے؟ اس سے کس کا فائدہ ہے اور اس واقعے کا بینفشری کون ہے؟ اس نازک موڑ پر ہم مچھ کے متاثرین کی آڑ میں کیوں اداروں اور افواج پاکستان کے خلاف نعرے لگاتے ہیں؟ سکردو میں مچھ واقعہ کی آڑ میں افواج پاکستان کی مقدس وردی کے حوالے سے لگائے جانے والے نعرے انتہائی دل گرفتہ اور افسوس ناک ہیں۔۔ اس طرح کے اختراع کی ہم مذمت کرتے ہیں اور وزیر اعلی سمیت صوبائی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ایسے افراد کی چھان بین کریں جو اپنے اداروں کے خلاف زبان درازی کرنے سے نہیں کتراتے ہیں۔۔۔ ان افراد کے خلاف کاروائی عمل میں لائیں جو مچھ کے مظلوموں کی آڑ میں افواج پاکستان کے خلاف زبان درازی میں پیش پیش رہے ہیں۔۔۔۔۔
تحریر: فیض اللہ فراق۔
“
More Stories
شاہراہ بلتستان ،شاہراہ قراقرم کی زبوں حالی اور سیاحت کا مستقبل۔
دیرینہ کارکنوں کی قربانیاں اور سیاسی جماعتیں
اقوام متحدہ میں گلگت بلتستان کا مقدمہ ہے یا نہیں ؟