سمجھ نہیں آرہا میں کیا لکھو ں، کیسے لکھوں،کونسے الفاظ رقم کروں،قلم پر سے میرا اختیار اٹھ رہا ہے۔ ذہن ساتھ چھوڑ رہا ہے، ہزارہ شیعہ برادری سے تعزیت و تسلیت عرض کروں یا انہیں ہی ان سانحات کا ذمہ دار ٹھہراؤں،الفاظ ساتھ نہیں دے رہے۔ جذبات کی رو مجھ پر غالب ہے۔ آنکھوں میں کوئٹہ مچھ کے شہدا ء کے ہاتھ بندے جنازے، گولیوں سے چھلنی بدن، خون سے لت پت جسم، گلے کٹے سر، ذبح شدہ گردنیں، زخموں سے چور بدن ہیں۔دوسری طرف کوئٹہ کی ٹھٹھرتی سردی،شہد اء کے جنازے لیے دھرنے میں شریک مائیں،بہنیں،بچے،بوڑھے،نوجوان اور شہداء کے خانوادہ انصاف کے منتظر ہیں۔ وہی ایک بہن کی آہ وبکا دل ہلا کر رکھ دیتی ہے کہ اب گھر میں جنازے اٹھانے کے لیے کوئی مرد نہیں بچا،گھر کے تمام مرد شہید ہوچکے ہیں،اب تو ہمارے سروں پر کوئی سائبان نہیں رہا۔سانحہ مچھ میں کوئٹہ ہزارہ برادری کے 20افراد شہید ہوچکے ہیں۔ اقدام قتل کی ذمہ داری داعش نے قبول کی ہے۔ راقم کے ذہن میں یہی سوال ابھر رہے ہیں ہے کہ انہیں کس جرم میں مارا گیا؟ ان کا جرم کیا تھا؟ انہیں کس جرم کی پاداش میں شہید کیا گیا؟ جنازوں کو پامال کیا گیا؟ گردنیں کاٹی گئیں؟ قرآن کریم بھی بے گناہ افراد کے قتل کے متعلق پوچھ رہا ہے
“بای ذنب قتلت “ترجمہ انہیں کس جرم میں مارا گیا (القرآن،سورۃ التکویر،آیت ۹)
ہزارہ شیعہ کا جرم کیا ہے؟ بلوچستان میں ہزارہ ہی نشانے پر کیوں ہیں؟ آخر کیوں؟ یہ سب کب تک جاری رہے گا؟ آگ اور خون کا یہ کھیل کب بند ہوگا؟ کیا حکومت اور سیکیورٹی ادارے ہزارہ شیعہ برادری کے آخری فرد کے قتل کیے جانے کے منتظر ہیں؟ کوئی اقدامات کیوں نہیں کیے جارہے ہیں؟ دہشتگردوں کو لگام کیوں نہیں دی جارہی ہے؟ قاتلوں کو گرفتار کیوں نہیں کیا جارہا ہے؟ شہداء کے ورثاء کو انصاف کیوں نہیں مل رہا؟ بلوچستان میں ہر ڈیڑھ سو میٹر کے فاصلے پر چیک پوائنٹس ہیں،پاک فوج، ایف سی اورپولیس کے جوان چوکس کھڑے ہیں، پھر یہ دہشتگرد کہاں سے آتے ہیں؟ معصوم شہریوں کا قتل عام کرتے ہیں اور چلے جاتے ہیں،کسی کو کانوں کان خبر تک نہیں ہوتی،کیوں؟ دنیا کی بہترین فوج، دنیا کی نمبر ون انٹلیجنس ایجنسی،دنیا کے بہترین دفاعی صلاحیت کی حامل ریاست پاکستان شہریوں کے تحفظ میں ناکام کیوں ؟ ہزارہ شیعہ برادری کے اوپر اب تک 1600سو سے زائد حملے ہوئے،د و سو سے زائد جنازے ایک ساتھ اٹھائے، نماز پنجگانہ سے زیادہ نمازہ جنازہ کی آدائیگی عمل میں آئی۔ ہر واقعے کے بعدا فسوس کے پیٖغامات ملتے ہیں،چند دن دھرنے دیے،خون کا سودا کیا، بلوچستان حکومت اور حکومت پاکستان کی طرف سے امداد کا اعلان کیا گیا،لاشیں اجتماعی قبروں میں منوں مٹی تلے دفنائی گئیں مگر مستقیل حل کسی نے تلاش نہیں کیا۔ آرمی چیف نے کوئٹہ کا دورہ کیا،فوج کی طرف سے ماضی میں کی جانے والی غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے آئندہ غلطیاں نہ دھرانے کا وعدہ بھی کیا۔شہدا ء کے ورثا کو دلاسے دیتے رہے،مگر عملی اقدامات حکومت،ریاست اور پاک فوج کی جانب سے دیکھنے کو نہیں ملے۔ بلوچستان میں سیکیورٹی کے خدشات ہمیشہ سے رہے ہیں،مگر یہ کیسے ممکن ہے کہ اتنا بڑا سانحہ ہوا ور کسی کو اس کی پیش گی اطلاع تک نہ ہو۔ حکومت پاکستان اور ادارے داعش کے وجود کے انکار ی ہیں مگر داعش نے حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ریاست آخر اپنے شہریوں کے تحفظ میں کیوں ناکام ہے، بھارت،اسرائیل،امریکہ سمیت پاکستان دشمن قوتیں ملک میں تخریبی سرگرمیوں کے فروغ میں مصروف ہیں مگر ہمارے ادارے تحفظ فراہم کرنے میں ناکام کیوں ہیں۔ دوسری بات مجھے سمجھ یہ نہیں آرہی کہ ہزارہ ہی نشانے پر کیوں ہیں،ہزارہ شیعہ کمیونٹی کا قتل عام اس سے قبل بھی کیا جاچکا ہے،دو،تین سو جنازے ایک ساتھ اٹھانے کے باجود بھی ریاست مخالف کوئی عمل نہیں کیا گیا، ہزارہ کے قتل سے کبھی فرقہ واریت پروان نہیں چڑھی، شیعہ برادری احتجاج کررہی ہے،پر امن احتجاج،کوئی جلاو گیراو نہیں پھر بھی نشانے پر شیعہ ہزارہ ہی کیوں ہیں۔ یہ جنگ فرقہ وارانہ نہیں البتہ اس کے ٹارگٹ ضرور شیعہ ہیں،یہ political warfare کا حصہ ہے اور پولیٹیکل وار فیئر کوئی تیسری طاقت نہیں بلکہ اپنے ہی ادارے کھیل رہے ہیں جس کا ادرا ک سب کو ہے۔مگر ہزارہ شیعہ کمیونٹی کو بھی اب سمجھنا چاہیے،کیونکہ ریاست،حکومت اور سیکیورٹی ادارے یا تو برُی طرح تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہیں یا پھر تحفظ فراہم کرنا ہی نہیں چاہتے ہیں۔اس لیے ہزارہ شیعہ برادری کو اپنا تحفظ خود کرنا ہوگا، اپنی حفاظت کی ذمہ داری اپنے ہی سر لینا ہوگا۔نہیں تو یہ جنازے اٹھانے کا سلسلہ چلتا رہے گا۔ جنرل موسیٰ خان کے قبیلے کو اب یہ بتانا ہوگا کہ وہ اپنی حفاظت خود کرسکتے ہیں۔جنرل موسیٰ خان چیف آف آرمی اسٹاف تھے، 1965ء کی جنگ میں دشمن کے ناپاک عزائم کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خاک میں ملادیا تھا، مگراب انہیں کا قبیلہ محفوظ نہیں۔مسلسل حملوں کی زد میں آنے کے بعد ہزارہ کمیونٹی کے بااثر،کاروباری اور سرمائیہ دار لوگ سرمائیہ سمیت دوسرے ممالک منتقل ہوگئے ہیں۔ اب رہے سہے مزدور طبقہ کا قتل جاری ہے۔سیکیورٹی حصار میں جکڑا بلوچستان آج بھی دہشتگردوں کے رحم وکرم پر ہے، کئی کامیاب آپریشنز کے بعد بھی دہشت گردوں کی کامیاب کارروائیاں اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ دہشتگرد نہ صرف بلوچستان کے پہاڑوں میں چھپے ہوئے ہیں بلکہ اداروں میں بھی پائے جاتے ہیں۔ریاست،حکومت اور سیکیورٹی اداروں کو اب یہ واضح کرنا ہوگا کہ وہ عملی اقدامات کرنے سے گریزاں کیوں ہیں۔ کونسی ایسی مجبوریاں ہیں جو شہری دفاع وتحفظ پر آڑے آتی ہیں۔انہیں کیوں شہریوں کے تحفظ سے کوئی سروکار نہیں، کیا ان کے اپنے خاندان یورپی ممالک میں ہیں اور ریٹائرمنٹ کے بعد وہی منتقل ہونا ہے۔ اگرریاست،حکومت اور سیکیورٹی ادارے اب بھی کوئی غلطی کربیٹھیں تو پھر خدا ہی حافظ ہے۔ خدا پاکستان کے دشمن،امن کے دشمنوں کے ناپاک عزائم کو ناکام بنائے آمین
تحریر:عبدالحسین آزاد
جنازے اٹھائے کون؟؟
More Stories
شاہراہ بلتستان ،شاہراہ قراقرم کی زبوں حالی اور سیاحت کا مستقبل۔
دیرینہ کارکنوں کی قربانیاں اور سیاسی جماعتیں
اقوام متحدہ میں گلگت بلتستان کا مقدمہ ہے یا نہیں ؟