بابا جان و دیگر سیاسی اسیران کی رہائی کے لیے دھرنے کے حوالے سے بی بی سی میں “محمد زبیر خان” نامی صحافی نے لکھنے کی کوشش کی ہے جو کہ خوش آئند بات ہے مگر موصوف نے حقائق کو کئی جگہوں پہ مسخ کرنے کی کوشش کی ہے
موصوف نے ناکافی معلومات کی وجہ سے غلط معلومات دیکر بی بی سی جیسے ادارے کو بھی مشکوک بنا دی ہے۔
بی بی سی کے صحافی محمد زبیر نے لکھا ہے کہ “بابا جان اور ان کے دیگر 18 ساتھیوں کو عدالت نے ’فرقہ وارانہ فسادات‘ کا مرتکب بھی قرار دیا تھا۔ ان مقدمات میں مجموعی طور پر 18 افراد کو نامزد کیا گیا تھا۔ جس میں سے دو کے مقدمات ابھی بھی دہشت گردی کی عدالت میں زیر سماعت ہیں جبکہ ایک مجرم عامر خان کو شدید بیمار ہونے کی وجہ سے دو سال قبل ضمانت دی گئی تھی اور آج (بدھ) وہ وفات پا گئے ہیں”.
یہ سچ نہیں ہے باباجان سمیت دیگر ساتھیوں کو “فرقہ وارنہ فسادات” میں مرتکب کسی عدالت نے قرار نہیں دی ہے جیل میں باباجان کے ساتھ چودہ سیاسی کارکنان شامل تھے جن میں سے اس وقت بارہ سزا کاٹ رہے ہیں۔
موصوف نے لکھا ہے کہ “مجرم” عامر شدید بیمار ہونے کی وجہ سے ضمانت پہ تھے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ عامر خان کو باعزت بری کیا گیا تھا عدالت میں اس کے اوپر لگائے گئے تمام الزامات ثابت نہیں ہوسکے۔ عامر خان کل انتقال کر گئے وہ زندگی ہی میں تمام تر الزامات سے باعزت بری ہوئے تھے۔
انہوں نے لکھا ہے کہ “حکومت کی جانب سے مطالبے پر توجہ نہ دینے کے باعث متاثرین نے گلگت بلتستان کے وزیر اعلیٰ سید مہدی شاہ کی آمد پر شاہراہ قراقرم کو بلاک کیا تھا”.
یہاں بھی حقائق کو مسخ کرکے بیان کیا گیا ہے متاثرین نے اس وقت روڑ بلاک نہیں کیا تھا بلکہ وہ سابق وزیر اعلی مہدی شاہ سے ملاقات کرکے اپنے مطالبات پیش کرنا چاہتے تھے مگر طاقت کے نشت میں چور مہدی شاہ متاثرین سے ملنے کے بجائے روڑ خالی کرنے پہ بضد تھے
ایک اور عبارت میں اس نے لکھا ہے کہ
“اس وقت ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق سنہ 2011 میں ہونے والے اس عوامی احتجاج کے دوران مظاہرین اور پولیس کے درمیاں تصادم ہوا۔ پولیس کے مطابق مظاہرین کی اپنی فائرنگ سے احتجاج میں شریک ایک باپ اور بیٹا ہلاک ہوئے تاہم مظاہرین کا دعویٰ تھا کہ پولیس نے مظاہرین پر فائرنگ کی جس سے ہلاکتیں ہوئیں”.
اس عبارت میں بھی حقائق کو مسخ کیا گیا ہے پولیس کے فائرنگ کی وجہ سے باپ بیٹے شہید ہوگئے تھے اس کے مقدمے بھی بنے تھے مگر بعد میں ان کو باعزت بری کیا گیا۔ پولیس کا یہ دعویٰ تھا تو وہ مقدمہ پولیس کے خلاف کس بنیاد پہ بنایا گیا تھا؟؟
ایک اور عبارت میں محمد زبیر لکھتے ہیں کہ “سرکاری رپورٹس کے مطابق باپ بیٹا کی ہلاکت کے بعد وادی ہنزہ میں بڑے پیمانے پر ہنگامے پھوٹ پڑے تھے اور اس دوران عوامی املاک کو نذرِ آتش کیا گیا۔ ان مظاہروں کا اہتمام عوامی ورکر پارٹی کی اپیل پر کیا گیا جبکہ اس ’پرتشدد‘ احتجاج کی قیادت بابا جان اور ان کے 14 ساتھیوں نے کی تھی”.
حقیقت یہ ہے کہ عوامی ورکرز پارٹی 2012 میں تین پارٹیوں کے انضمام پہ بنی تھی جلاؤ گھیراؤ کے دوران باباجان ہنزہ کے عمائدین کے ایک وفد کے ساتھ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان سے عوامی مسائل پہ ملاقات کرنے کےلیے نگر میں موجود تھے۔ باپ بیٹے کے شہادت کے بعد اگلے دن باباجان پیدل چل کر علی آباد پہنچ چکا تھا۔ جب باباجان وہاں پہنچ کے احتجاج کی کال دی اس وقت کوئی پرتشدد احتجاج نہیں ہوئی بلکہ باپ بیٹے کے نعش سڑک پہ رکھ کے پرامن دھرنا دئیے تھے
موصوف لکھتا ہے کہ “مظاہروں کے بعد ہنزہ پولیس نے بابا جان اور اُن کے ساتھیوں کو گرفتار کر کے دہشت گردی سمیت دیگر سنگین جرائم کی دفعات کے تحت مقدمات درج کیے”. حقیقت یہ ہے کہ باباجان گرفتار نہیں ہوئے تھے بلکہ ازخود گرفتاری دی تھی از خود گرفتاری اور فورسز کی جانب سے گرفتار کرنے میں بھی واضح فرق ہے۔
محمد زبیر لکھتے ہیں کہ “سنہ 2016 میں بابا جان اور ان کے ساتھی رہا ہوئے اور ہنزہ سے بعض وجوہات کی بنا پر نشست خالی ہوئی تو بابا جان نے ایک بار پر ضمنی انتخابات میں حصہ لینے کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کروائے جو کہ الیکشن کمیشن نے قبول کر لیے۔تاہم اپیلیٹ کورٹ نے الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کے خلاف سوموٹو ایکشن لینے کے علاوہ حکومت کی جانب سے دائر کردہ اپیلوں کی سماعت کرتے ہوئے حکومت کی اپیلوں کو قبول کیا اور تمام کے تمام پندرہ افراد کو مجرم قرار دے دیا۔
اس عبارت میں بھی صاحب نے حقائق کو مسخ کیاہے بابا ضمنی الیکشن بھی جیل سے لڑنے کےلیے کاغذات جمع کیا تھا۔ ریٹرننگ آفیسر پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار ظفر اقبال کے اعتراض پر باباجان کے کاغذات مسترد کی پی پی پی کے ظفر اقبال درخواست لیکر سپریم اپلیٹ کورٹ چلا گیا جہاں اس درخواست کی بنیاد پہ سپریم اپلیٹ کورٹ کے جج رانا شمیم نے سوموٹو ایکشن لیا۔ ہنزہ کے ضمنی الیکشن غیر معینہ مدت تک روک دیا گیا باباجان کے خلاف الیکشن میں اہلیت اور نا اہلی کیس سننے کے بجائے کریمنل کیس کو سنا گیا جو اس سے پہلے ایک سال سے پڑا ہوا تھا۔ اس کیس کو جلدی بازی میں سنا گیا اور بہت کم عرصے میں ہمارے وکلا احسان علی ایڈووکیٹ اور امجد حسین ایڈووکیٹ کو سننے بغیر سزائیں سنائی گئی۔سابق چیف جج رانا شمیم اور جسٹس جاوید اقبال نے باباجان کے خلاف جبکہ مرحوم جسٹس شہباز خان نے باباجان کے حق میں فیصلہ دیا۔
آج ہی ریٹرننگ آفیسر ہنزہ حلقہ چھ نے باباجان کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دئیے ہیں جبکہ عوامی ورکرز پارٹی کے نوجوان امیدوار آصف سخی کے کاغذات نامزدگی صحیح قرار دئیے گئے ہیں۔
قارئین کرام
مقامی میڈیا میں اگر اس قسم کے معلومات شائع کیے جاتے تو ہم بھرپور کوشش کرتے کہ دوبارہ تصحیح کی جائے مگر بی بی سی جیسے ادارے میں شائع شدہ غلط مواد کی تصحیح ہمارے لیے کافی مشکل کام ہے اس تحریر کا مقصد حقائق عوام اور میڈیا کے سامنے لانا ہے یہ تحریر اگر کسی بھی ذرائع سے بی بی سی تک پہنچ جائے تو ہم امید رکھیں گے کہ وہ درستگی کریں گے۔
تحریر : عنایت ابدالی
More Stories
شاہراہ بلتستان ،شاہراہ قراقرم کی زبوں حالی اور سیاحت کا مستقبل۔
دیرینہ کارکنوں کی قربانیاں اور سیاسی جماعتیں
اقوام متحدہ میں گلگت بلتستان کا مقدمہ ہے یا نہیں ؟