گلگت بلتستان کی دس اضلاع کے چوبیس حلقوں میںعام انتخابات ہونے جارہا ہے اور میرا تعلق بھی پچھلے 72 سالوں سے آئینی حقوق سے محروم اس علاقے سے ہے جہاں عام آدمی سادہ اور بیوقوف، سیاست دان ،لیڈر چالاک اور کرسی کے نشے میں مست،جہاںبیشتر مولوی مصلحت پسند اور نیم مُلا انتہا پسند،جہاں شاہی آفیسروں کی پروٹوکول میں غریب دربدر، جہاں سیاسی نمائندوں اور سرکردہگانوں کے ہمسائے میں لوگ بھوکے ننگے سوتے ہیں،جہاں سماج میں حق کے لیے لڑنے والوں پر فورتھ شیڈول لگتاہے،جہاں قومی مسئلے پر ڈٹ جانے والوں پر غداری کا کیس تھوپتا ہے اور جیل بھیجتا ہے،جہاں حقیقی عوامی لیڈر کو سلو پوائزن دیتا ہے تو کبھی کسی گولی مارتا ہے، جہاں بیوروکریسی 70فیصد فنڈز اپنے عیاشیوں کے لئے خرچ کر رہی ہے،جہاں کارگل روڈ کھولنے کا مطالبہ کرنے والوں پر کبھی اے ٹی اے لگتا ہے تو کبھی ایف آئی آر ہوتا ہے ، جہاں خیرالنسا ء کی میت جس کے ورثا ء دریا کے اُس پار تھے ملوکیت کے علمبردار اور جمہوریت کے دعویدار اس میت کو دریا پار نہیں کراسکے اور کئی دنوں کے سفربہ ذریعہ مظفر آباد لہہ لداخ بھیجنا پڑا ۔ میرا تعلق اس سر زمین سے ہے جہاں شعراء کے بجائے حکومت شاعری فرماتی ہے، جہاں وفاداری کے بہت گن تو گاتے ہیں مگر وفاداری تبدیل کرنے کا ریکارڈ بھی قائم کر کے شہہ سرخی بن جاتی ہے،میرا تعلق بھی اِسی جگے سے ہے جسے یہاں کے لوگ سر زمین اہلبیت ؑ کہتے ہیں ،طلاب اسے علماء کی سر زمین کہتا ہے،سیاح اسے معدنیات کی سر زمین کہتا ہے تو دنیا کے نقشے پر اس کا نام سر زمین بے آئین ہے جبکہ اس کا اصل نام گلگت بلتستان ہے ۔ یہاں آج بھی کئی علاقوں میں صحت اور تعلیم کے سہولیات میسرنہیں ،یہاں آج بھی لوگ پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں،یہاں اکیسوں صدی میں بھی لوگ اندھیرے میں ہے یہاںاس وقت الیکشن سر پہ کھڑا ہے اور نمائندے اب بھی عوام کے درمیان نہیں۔یہاں ہر سال وہی لوگ اسمبلی میں جا کر عوامی مطالبوں پر بحث کرنے کی بجائے اپنی تنخواہ اور مراعات پر بحث کرتے ہیں۔میں کس کو اور کیوں ووٹ دوں؟یہاں ضمیر بگتا ہے،یہاں لوگ بگتے ہیں، یہاں عزت بگتی ہے، یہاں نوکری بگتے ہیں۔تو میں کیوں اور کس کو ووٹ دوں؟،یہاں عقل و شعور سے عاری لوگ سیاسی نمائندوں کے لیے رشتہ داریاں اور تعلق داریاں خراب کرتے ہیں،یہاںالیکشن میں گھروں میںبات طلاق تک پہنچ جاتی ہے پھر بھی ایسے ہی لوگ بے روزگار اور خوار نظر آتے ہیں ۔تو میں کس لیے اور کیوں کر ووٹ دوں؟یہاں پڑھے لکھے ماسٹرز اور ایم فل مرد و خواتین بے روزگار ہیں اور مزدوری کر رہے ہیں جبکہ میٹرکولیٹ سکول ٹیچر بنے ہوئے ہیں،یہاں سیاستدان الیکشن سے پہلے صرف ایک ماہ عوامی لیڈر ہوتا ہے اور الیکشن کے بعد پانچ سال تک ٹھکڈاروں ، پٹواریوں اور چمچوں کا ہی لیڈر بنا رہا رہتا ہے،یہاں انصاف اور عدالت کوسوں دور ہے امیر اور غریب کے لئے الگ لائن ہے،میں کس کو اور کیوں ووٹ دوں؟ یہاں پورے ریجن کے لئے ایک آر ایچ کیو ہے جس میں ریاست کی زمہ داری ہوتے ہوئے بھی سہولیات نہیں،اور عام آدمی کے پاس دوائی لینے کے پیسے نہیں۔یہاں کی واحد شاہراہ جب بند ہوتی ہے تو پٹرول سے لے کر غذائی چیزیں تک قلت ہوتی ہے۔یہاں آٹا سے لے کر پٹرول تک بلیک مارکیٹ ہوتی ہے اور ان بلیک میلرز کوکرسی پر بیٹھنے والوں کی ہی آشربات حاصل ہوتی ہے ۔یہاں لوگ ایک معمولی نوکری کے لئے اپنا ووٹ بیچ دیتے ہیں مگر کوئی بھی بندہ کسی خاص نظریہ کے لئے کسی حق پرست کو نہیں چنتا،یہاں فیس بک اور سوشل میڈیا پہ تو بہت سارے لوگ حق پرست اور قوم پرست لیڈرز کو لائیک کرتے ہیں مگر عملی میدان میں ان کا ساتھ دینے والا نہایت قلیل ہوتا ہے۔میرا سوال ہے کہ یہاں کس نمائندے کے منشور میں آئینی حقوق ہے؟ کس نمائندے کے منشور میں آزاد کشمیر کے طرز پہ گلگت بلتستان میں سیٹ اپ دینے کا مطالبہ ہے؟ کس کے منشور میں سٹیٹ سبجیکٹ رول ہے؟ این ایف سی ایوارڈ میں حصہ کس نمائندے کا مطالبہ ہے؟ قومی اسمبلی میں کم ازکم چار نشستوں کا مطالبہ کس کا ہے؟ یہاں کس کے منشور میں سکردو کارگل روڈ کے بچھڑے خاندانوں کو ملوانے کے ساتھ علاقے میں سیاحتی و تجارتی انقلاب لانا ہے؟میں کس لیے کس کو اپنا نمائندہ مقرر کروں؟یہاں تو چالاک سیاست دان نظر آتا ہے مگر حقیقی لیڈر نہیں۔یہاں مولوی نظر آتا ہے مگر عالم نہیں یہاں بیوروکریٹ نظر آتا ہے مگر خدمت گار نہیں،یہاں رشوت ،سود ،کرپشن سر ِعام ہوتا ہے مگر ان برائے نام لیڈروں کے منہ پہ تالا لگا ہواہے،میں کیوں اور کسے ووٹ دوں؟یہاں اسمبلی سے لے کر چلنے والی گاڑی تک NCP، یہاں اشیائے خوردنوش سب سے زیادہ ناقص کہ میرے شہر کے لوگ زہر کھا رہے ہیں پکوان ،چاول،انڈے ،پاپڑ سب پلاسٹک کے کہاں سے آرہا ہے کوئی پوچھنے والا نہیں ۔۔ارے جناب تو پھر میں کسے اور کیوں ووٹ دوں؟ یہاں پرانے سیاست دان تو جھوٹے اور وعدہ خلاف ہے ہی تو نئے کونسے دودھ کے دھلے ہوئے ہیں؟ تبدیلی سرکار نے تو مہنگائی اتنی بڑھا دی گئی کہ عام آدمی کا گزر اوقات مشکل ہو ہورہا ہے۔ادویات کے اوپر مہنگائی کی بم گرا دی گئی غریب علاج کہاں سے کریں۔صابن سے لے کر ٹوتھ پیسٹ اور کوکنگ آئل تک مہنگی کر دی گئی۔اب گلگت بلتستان میں بھی پی ٹی آئی کی حکومت آنے والی ہے۔کیا فدا ناشاد اور ابراہیم ثنائی اپنے نئے لیڈر کی نقش قدم پر چلتے ہوئے پچھلی حکومت کے کرپٹ حکمران سے احتساب لیں گے؟ تو میں کیوں اور کس لئے ان کو ووٹ دوں؟میں ایک اپنی زات کے حد تک ایک چھوٹی سی نوکری یا چھوٹا سا ٹھیکہ لینے کے لیے اپنے ضمیر کوکبھی بگنے نہیں دے گا۔سر زمین اہلبیت ؑ والو کیا آپ بھول گئے اس شعر کو
سر داد نہ داد دست د ر دست یزید
کہ وہ کبھی غلط کے ہاتھ پر ہاتھ دے کر اس کے نشان پر مہر لگا کر اس کی حمایت نہیں کرے گا جو زندہ ضمیر کے ساتھ حسین ؑابن علی ؑکو اپنا رہبر مانتا ہے یاد رکھیں آج کے زمانے میں بیعت کا مطلب ووٹ ہے۔لیڈ ر رحمدل ہوتا ہے جو رحمدلی میں کسی کا منصب یا قبیلہ تو دور اس کا مذہب تک نہیں دیکھتا،لیڈر کیسا ہونا چاہییَ؟ اگر کسی ظالم نے کسی مستحق کا حق اپنے شکم میں چھپایا ہو تو شکم چیر کر بھی مظلوم کا حق نکال باہر لاتا ہے،لیڈر کیسا ہو؟ اگر کوئی اس کے خلاف بغاوت بھی کرے تو اس کے عدل سے تنگ آکر نہ کہ اس کے نا اصافی سے تنگ آکر،لیڈر خود بھوک کی شدت کو برداشت کر کے غریبوں اور یتیموں کے گھر اناج اپنے کندھوں پر پہنچاتا ہے اور ایسا لیڈر میں نے تاریخ میں حضرت علی علیہ سلام کی زات کو دیکھا ہے جو کہ سر زمین اہلبیت کے عوام اور لیڈر دونوں کے لیے مشعل راہ ہے۔مگر افسوس یہاں سیاسی پارٹی،اور مذہبی سیاسی پارٹی دونوں کا اللہ ہی حافظ ہے۔۔دوستو! میں نے یہاں کہیں وفاق پرست دیکھا ،کہیں بوٹ چاٹ دیکھا تو کہیں زاتی مفاد پرست تو کہیں درباری ۔ تو میرے عزیزو میں کس بات پر یا کس لیے،کس کو اور کیوں اپنا نمائندہ منتخب کروں۔۔؟؟
تحریر : ایم سعید اکبری
More Stories
شاہراہ بلتستان ،شاہراہ قراقرم کی زبوں حالی اور سیاحت کا مستقبل۔
دیرینہ کارکنوں کی قربانیاں اور سیاسی جماعتیں
اقوام متحدہ میں گلگت بلتستان کا مقدمہ ہے یا نہیں ؟