کل ملتان سے میرے کتاب چہرے سے بنے دوست جناب ڈاکٹر طاہر صاحب کا فون آیا کہنے لگے ثاقب صاحب ہم ابھی تک اپنے زرعی امور کو وقت پر نمٹا نہیں پائے ہیں اور اسی لئے آپکی طرف تحقیقی سفر پر نہیں آسکے ہیں۔
طاہر صاحب ایک پلانٹ بریڈر ہے، ممالک غیر سے تربیت یافتہ ہیں اور مستقبل میں پاکستان کے اندر سبزیات کی ہائبرڈ بیج بنانے کے جنون میں مبتلا ہیں۔
بہت سے لوگوں کو ملک کی خدمت کرنے کا خبط لگ جاتا ہے، یہ حضرت بھی اسی میں مبتلا ہے اور ماحولیاتی مطالعہ کے بعد اس کام کے لئے گلگت بلتستان کو موزوں جگہ سمجھتے ہوئے یہاں ایک تفصیلی وزٹ کرنا چاہتے تھے۔ مگر معمولات زراعت کی تبدیلی سے وہ اپنے شیڈول سے ہٹ گئے۔
کہنے لگے ہمارا کاٹن خراب ہوگیا، مکھی کا حملہ شدت سے ہے، یہ کلائیمٹ چینج سے ہوا، میں نے پوچھا طاہر صاحب کیسے مجھے سمجھائیں!
” مکھی کا دوران حیات گرمی میں تیز ہوتا ہے، پہلے چودہ دن میں ایک پاپولیشن سرکل ہوتی تو اب یہی سرکل سات دن میں مکمل ہورہی ہے جس سے مکھی پاپولیشن قابو سے باہر ہے، ہم سپرے کرکے تھک گئے مگر کنٹرول سے باہر ہے”
میں نے آج موسمی تبدیلی کے خوفناک اثر کے بارے میں سنا، طاہر صاحب مذید کہنے لگے اسوقت الٹرا وائلٹ شعاعوں کا اینڈکس ملتان میں 85 پر ہے جب کہ نارمل 35 ہونا چاہئے۔ ہمارے پنجاب میں سٹریس باغات تیزی سے ختم ہورہے ہیں، فضلات وقت پر کاشت نہیں ہو پارہی، وقت پر تیار نہیں ہورہا، پورا نظام الٹ پلٹ ہورہا ہے۔ میں پریشان ہوا ڈاکٹر صاحب اسکا کوئی حل؟
کہنے لگا درخت لگائیں درخت، سڑکوں پہ کاربن ڈائی آکسائڈ کم کریں, ماحول کی اہمیت کو سمجھیں، اسکا یہی حل ہے۔
اگر ہم نے ایسا نہیں کیا تو ہمارے پانی کے ذخائر ختم ہونگے، ہمارے کراپینگ سکیم فیل ہوجائے گا، ہمارے کھیت کھلیان سوکھے میں بدل سکتے ہیں، قحط کے خطرے سے دوچار ممالک میں ہم ابھی سے شامل ہیں، اگر بھوک کا راج ہوگا تو سب کچھ بدل جائے گا سب کچھ۔ ڈاکٹر صاحب کی آواز میں درد بھی شامل تھا، میرا دل دہل کر رہ گیا۔
کیا ایسے وقت میں قوموں کا نام نشان مٹنے کے لئے پھر کسی جنگ کی ضرورت رہیگی؟ ہرگز نہیں، ہمیں موسمی تبدیلیوں کے عوامل کو سمجھنا ہوگا، لوگوں کو خطرات سے آگاہ کرنا ہوگا اور اپنے طرز عمل کو بھی بدلنا ہوگا۔
عمران خان حکومت واحد حکومت ہے جس نے اس تبدیلی کے اثرات کو محسوس کیا اور ملک میں پلانٹیشن ڈرائیو شروع کی اربوں روپئے اس مد میں رکھے گئے ہیں مگر کیا ہمارے ادارے اس رقم کو واقعی موثر انداز میں استعمال کرپائینگے؟ یہ ایک بڑا سوال ہے۔
تحریر جی ایم ثاقب سکردو،
More Stories
شاہراہ بلتستان ،شاہراہ قراقرم کی زبوں حالی اور سیاحت کا مستقبل۔
دیرینہ کارکنوں کی قربانیاں اور سیاسی جماعتیں
اقوام متحدہ میں گلگت بلتستان کا مقدمہ ہے یا نہیں ؟