تین پہاڑی سلسلوں قراقرم ،ہمالیہ اور ہندوکش کے درمیان قدرت کا انمول شاہکار پاکستان کے زیر انتظام خطہ گلگت بلتستان کو دنیا کے بلند بالا گلشیرز،قدرتی وسائل اور آبی ذخائر سے مالا مال خطہ ہونے کے ساتھ ایک زرعی اور سیاحتی خطہ ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے ۔ سیاحت کے شعبے کو گلگت بلتستان کے بغیر نامکمل سمجھا جائے تو غلط نہ ہوگا بلکہ پاکستان کی اگر دنیا میں سیاحت کے حوالے سے کوئی پہچان ہے تو گلگت بلتستان ہی کہ وجہ سے ہے۔لیکن سڑکوں کی عدم دستیابی اور موجود سڑکوں کی ناگفتہ حالت یہاں کے عوام سمیت سیاحوں کیلئے ایک سنگین مسلہ ہے۔
کہتے ہیں معاشی انقلاب کیلئے روڈ نیٹ ورک کاہونا نہایت ضروری ہے کیونکہ کسی بھی خطے کی ترقی میں ذرائع آمدورفت انتہائی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ دنیا میں جتنے بھی معاشی انقلاب آئے ان میں سب سے اہم کردار ذرائع آمدورفت نے ادا کیا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے گلگت بلتستان کے عوام گزشتہ تہتر سے جہاں بنیادی سیاسی حقوق سے محروم ہیں وہیں خراب انفراسٹکچر یہاں کے عوام کا سنگین مسلہ رہا ہے یہی وجہ ہے کہ یہاں کے لوگ جوق درجوق شہروں کی طرف ہجرت کرتے نظر آتا ہے۔ تقسیم برصغیر سے لیکر شاہراہ قراقرم کی تعمیر تک گلگت بلتستان کو پاکستان سے براہ راست ملانے کیلئے کوئی سڑک موجود نہیں تھے البتہ ریاست جموں کشمیرکے دیگر اکائیوں کو ملانے کیلئے وسیع روڈ نیٹ ورک کا ہونا تاریخ کا حصہ ہے۔ لیکن1966 میں جب شاہراہ قراقرم کی تعمیر کا آغاز ہوا تو یقینا جہاں پاکستان گلگت بلتستان کی وجہ سے چین کا ہمسایہ ملک بن گیا وہیں یہاں کے عوام کیلئے بھی اس شاہراہ کی افادیت کا کسی بھی طرح انکار نہیں کی جاسکتی۔لیکن بدقسمتی سے سابق آمر ضیاالحق کے دور میں جب اسلام کے نام پر جہاد کا جو گھناوناکام مسلمانوں کو کافر بنانے کا سلسلہ شروع ہوا تو یہ شاہراہ ایک طرح سے گلگت بلتستان کے عوام کیلئے غیر محفوظ ہوگیا اور آج بھی ہے۔ 1988 سے لیکر آج تک یہ شاہراہ گلگت بلتستان کے عوام کیلئے قتلگاہ بنا ہوا ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ اس سلسلے کو روکنا ناممکن ہے۔
یہی وجہ ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام متبادل محفوظ سڑک کے طور پر قدیم شونٹل ٹنل کی بحالی کر مطالبہ کرتے ہیں ۔ضلع استور سے وادی نیلم کے زریعے گلگت بلتستان کو اسلام آباد سے ملانے کیلئے قدیم شونٹر ٹنل(شونٹر نیلم روڈ )کی بحالی سے جہاں ایک متبادل شاہراہ گلگت بلتستان اور آذاد کشمیر کے درمیان سیاحتی اور معاشی سرگرمیوں کیلئے اہم کردار ادا کرسکتی ہے وہیں گلگت بلتستان سے راولپنڈی کیلئے سفر کا دورانیہ بھی تقریبا آٹھ گھنٹہ کم ہوجائے گا۔ اس روڈ کی تعمیر سے گلگت بلتستان کے عوام کو ذہنی طور پر بھی سکون ملے گا کیونکہ اگر گزشتہ تیس سال کی تاریخ دیکھیں تو گلگت بلتستان کے عوام نے کوہستان کے حدود سے فقط لاشیں ہی اُٹھائی ہیں کیونکہ کوہستان میں بدقسمتی سے مذہبی انتہاء پسندوں کا گڑھ ہے اور یہاں پر مخصوص مائنڈ سیٹ آج گلگت بلتستان کے مسلک شیعہ اور اسماعیلی کو مسلمان ہی نہیں سمجھتے۔ جسے ہم آج کل سوشل میڈیا کی مہربانی سے ویڈیوز کی شکل میں بھی دیکھ رہے ہیں۔
حاصل کردہ معلومات کے مطابق شونٹر وادی نیلم سے رتو استور تک تقریبا صرف 13 کلومیٹر سڑک تعمیر کرنےاورکیل سے شونٹر تک 26 کلومیٹر روڈ کو وسیع کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سڑک کی تعمیر کیلئے 2013 میں اُس وقت چیرمین نیشنل ہائی وے اتھارٹی حامد علی خان نے بھی سیاحتی اور معاشی ضرورت کے پیش نظر اہم اور قابل تعمیر شاہراہ قرار دیکر حکومت پاکستان کو اس سڑک کی تعمیر کیلئے سفارش کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔ اسی طرح آذاد کشمیر گورنمنٹ نے اگست 2017 میں نیشنل ہائی اتھارٹی کو ایک پرپوزل بھی پیش کرکے یہ سڑک محفوظ ہونے قابل تعمیر ہونے اور کم لاگت کے ساتھ بننے کی سفارش کی تھی۔
اس سڑک کی تعمیر کیلئے گلگت بلتستان اور آذاد کشمیر کے مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماوں کامسلسل مطالبہ بھی میڈیا کے ریکارڈ کا حصہ ہے۔لیکن جب ہم گلگت بلتستان حکومت کی طرف دیکھتے ہیں تو اس حوالے سےمسلم لیگ ن کے وزیر اعلیٰ کے کردار انتہائی شکوک شبہات نظر آتا ہے کیونکہ اُن کے حوالے سے ہمیشہ سے ایک بات مشہور ہے کہ وہ فیصلے تعصبات ،نفرت اور پسند ناپسند کی بنیاد پر کرتے ہیں۔اُن کے پاس اس سڑک کی بحالی کو مسترد کرنے کا کوئی جواز نہ تھے تو، میڈیارپورٹ کے مطابق اُنکا کہنا تھا کہ اس روڈ پر برف بہت ذیادہ پڑتی ہے لہذا اس روڈ کیلئے کوشش وقت اور پیسوں کا ضیاع ہے۔
اسی طرح اُنہوں نے سکردو کرگل روڈ کی بحالی کیلئے اربوں خرچہ آنے کابہانہ بنایا تھا۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حفیظ الرحمن کا ظاہری جمہوری چہرہ اور باطن کے انسان میں آسمان زمین کا فرق ہے۔ کیونکہ پہلی بات یہ ہے کہ یہ صرف سفارش ہی کرسکتا تھا اور اُن کے سفارش کی بھی کوئی اہمیت نہیں کیونکہ یہ بات بھی روز روشن کی طرح عیاں ہے کیونکہ گلگت بلتستان کے وزیر اعلیٰ سمیت کابینہ کے اختیارات کانا ڈویژن کے ایک سیکرٹیری کے برابر بھی نہیں اور یہ بات کا اسمبلی کے ممبران سمیت وزیر اعلیٰ ایک بار نہیں بلکہ متعدد بار میڈیا پر برملا اظہار بھی کر چُکے ہیں ۔ لیکن جب ہم اس سڑک کو اگر بیرونی دنیا سے موازنہ کریں تو دنیا میں اس سے بھی خطرناک برفانی علاقوں میں ہائی ویز بنی ہوئی ہے جہاں استور سے بھی کہیں ذیاد ہ برف پڑتی ہے۔ لیکن اس طرح کے برفانی راستے سال بھر کھلا بھی رہتا ہے۔ کیونکہ مہذہب معاشروں میں عوامی حکومت لسانیت، فرقہ واریت اور علاقائیت خاص طور پر مذہبی انتہا پسند سوچ کی بنیاد پر وجود نہیں رکھتے۔ویسے تو قدرت نے گلگت بلتستان کو ہائڈور پاور کی دولت سے مالا مال کررکھا ہے کہ الگ بات ہے کہ ہمارے ہاں نالائقوں کی حکومت ہونے کی وجہ سے یہاں کے عوام کو گرمیوں میں بھی لوڈشیڈنگ کا سامنا کرنا پڑتا ہے مگر شونٹر ٹنل کو سال بھر بحالی رکھنےسولر سسٹم کے زریعے بجلی پیدا کرکے اُس بجلی سے مٹی کے اندر ہیٹ رکھنے کا انتظام کی جاسکتی ہے جس پر لاگت بھی کچھ ذیادہ نہیں، جیسا کہ بہت ممالک میں ایسا ہوتا ہے۔
اس سڑک کی بحالی کیلئے گلگت بلتستان میں عوامی ایکشن کمیٹی،قراقرم نیشنل مومنٹ،پاکستان پیپلزپارٹی سمیت دیگر سیاسی سماجی رہنماوں سمیت آذاد کشمیر کے کئی سیاسی جماعتوں کی جانب سے مسلسل مطالبہ بھی ریکارڈ کا حصہ ہے۔ لہذا وقت کا تقاضا ہے کہ شونٹر ٹنل سمیت سکردو کرگل روڈ کی کو بحال کرنے کیلئے انیٹی ٹیکس مومنٹ،گندم سبسڈی تحریک کی طرز کا تحریک چلائیں کیونکہ نیشل ہائی اتھارٹی کے سفارشات حکومت آذاد کشمیر کا مثبت کردار ہمارے سامنے ہے۔ لیکن گلگت بلتستان حکومت کی جانب سے ماضی سے لیکر آج تک اس سڑک کو بھی قومی حقوق کی طرح نان ایشو سمجھ کر نظرانداز کی ہوئی ہے۔ اب چونکہ گلگت بلتستان میں الیکشن قریب ہے اور یہی بہترین موقع ہے عوام ووٹ مانگنے آنے والوں سے شونٹر ٹنل کی بحالی کا مطالبہکریں کیونکہ اس وقت وفاق میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ہے اور وزیر اعظم عمران خان کا سیاحت کی فروغ کیلئے کوششیں بھی ہمارے سامنے ہے۔لہذا شونٹر ٹنل کی بحالی کیلئے وفاقی سطح پر کوششیں تیز کرنے کی ضرورت ہے تاکہ گلگت بلتستان کے عوام کو ایک محفوظ سڑک کے ساتھ سیاحت کے شعبے میں بھی مزید ترقی آسکے۔
تحریر شیر علی انجم
شونٹر ٹنل کی بحالی۔ معاملہ موت اور زندگی کا ہے۔
More Stories
شاہراہ بلتستان ،شاہراہ قراقرم کی زبوں حالی اور سیاحت کا مستقبل۔
دیرینہ کارکنوں کی قربانیاں اور سیاسی جماعتیں
اقوام متحدہ میں گلگت بلتستان کا مقدمہ ہے یا نہیں ؟