یہ اُس وقت کی بات ہے جب سیاسی سوجھ اور لکھنے کا شوق ہم سے کوسوں دور ہوا کرتے تھے ۔یہاں تک کہ ہمیں معلوم ہی نہیں تھا کہ گلگت بلتستان کی قانونی حیثیت کیا ہے اور منقسم لداخ کے ہزاروں خاندانوں کے بچھڑ جانے کا ماتم کیا ہوتا ہے۔ اُس وقت یوں سمجھئے کہ اپنی ذات کے بارے میں بھی اتنا علم نہیں تھا کہ آخر ہم نے زندگی کو لیکر کہاں جانا ہے۔ جس کی بنیادی وجہ بلتستان میں غیر معیاری سرکاری تعلیم اورساتھ میں ہماری غربت مان لیجئے۔ اُس دوران کراچی کے کچی آبادی بلتستانی کالونی میں جہاں گلگت سے بھی تعلق رکھنےوالوں کی کثیر آبادی ہے،مرحوم سید حیدر شاہ رضوی روزانہ شام کے وقت ہم جیسے آوارہ قسم کے لڑکوں کو جمع کرکے تاریخ پر درس دیتے ،تعلیم کی اہمیت پر تقریر کرتے اور گلگت بلتستان میں جاری سامراجی نظام کے حوالے سے تلقین کرتے تو سر سے گزر جاتا تھا۔ مرحوم سید حیدر شاہ رضوی اکثر اوقات لداخ کا ذکر کیا کرتے تھے جو بعد میں جاکر معلوم ہوا کہ لداخ سے مطلب بلتستان کے موجودہ چار اضلاع اور سرحد پار دو اضلاع ہیں جسے خونی لیکر کے درمیان تقسیم کی ہوئی ہے۔ وہ اکثر مہاجرین کا ذکر کرتے ہوئے دکھ کا اظہار کرتے تھے اور لداخ کے قدیم تجارتی راستوں کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے لمبی آہ کرتے تو اُن کو گھیر کر کھڑے لڑکے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھا کرتے تھے کہ کونسی فکر ہمیں دی جارہی ہے۔
اُن کے ہاتھ میں ایک تسبیح ہوا کرتے تھے بات کرتے کرتے وہ اکثر اوقات جذباتی بھی ہوجاتے لیکن تسبیح کے دانوں کو بھی مسلسل گن رہے ہوتے تھے۔بس یوں سمجھ لیجئے کہ ہم نے حیدرشاہ کو سمجھنا شروع کیا اور اُنکی ہربات خاموشی سے سُن لیتے لیکن کتابوں سے تصدیق کیلئے نہ پیسے ہوا کرتے تھے اور نہ ہی یہ معلوم تھا کہ گلگت بلتستان کی تاریخ کے حوالےسے کتابیں ملتی ہے کہ بھی نہیں۔وہ جب بھی گرمیوں میں بلتستان جاتے تو گلگت بلتستان کی سیاسی محرمیوں کی خاتمے کیلئے مختلف انداز میں تحریک چلاتے تھے جس میں سرحد کھولو تحریک وہ مقدمہ ہے جس نے حیدر شاہ کو غدار اور راء کا ایجنٹ بنایا۔ یوں کچھ عرصے بعد برادر منظور حسین پروانہ ہمارے پڑوسی اور سنئیر تھے اور اُن کے ساتھ بلتستان اسٹوڈنٹس فیڈریشن میں کام کرنے کا موقع ملا۔ گلگت بلتستان میں جاری جبر اور استحصالی نظام کے بارے میں معلومات ملی اور ہم نے رفتہ رفتہ گلگت بلتستان پر قلم اُٹھانا شروع کردیا لیکن بدقسمتی سے غربت نے تعلیم کو آگے بڑھانے نہ دیا اور ہم زمانہ طالب علمی میں ہی تعلیم کو ادھورا چھوڑ کر دیار غیر میں محنت مزدوری کیلئے جانے کا فیصلہ کیا تاکہ غربت کا مقابلہ کرسکے جس میں کافی حد تک کامیابی ملی لیکن کچھ خواب ادھورا رہ گیا جو کہ میرا ذاتی معاملہ ہے۔
محترم قارئین طویل تمہید کا اصل مقصد یہ تھا کہ تاکہ اس وقت جو لوگ سکردو کرگل راہداری کھولنے کیلئے تحریک چلا رہے ہیں اُنہیں اس بات کا علم ہو کہ سرحد کھولو تحریک کو یہاں تک پونچانے میں حیدر شاہ کا خون اور زندگی شامل ہے۔ آج الحمداللہ بلتستان کے یوتھ اور علمائے کرام طلباء تنظیموں نے سکردو کرگل سمیت گلگت بلتستان کے دیگر قدیم تجارتی راستوں کی بحالی کیلئے باقاعدہ عملی طور پر تحریک کا آغاز کردیا ہے۔یوتھ اس معاملے میں پہلے سے کہیں ذیادہ ذمہ دار نظر آتا ہے یہاں تک کہ کاروباری شخصیات بھی اس روڈ کی تجارت کے حوالے سے اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئےکھولنے کا مسلسل مطالبہ کر رہا ہے۔ 5 اگست کو مودوی کی جانب سے کشمیر میں دہشت گردی اور آرٹیکل 370 کا خاتمہ کرکے لداخ کو جموں کشمیر سے کاٹ کر براہ راست دہلی سرکار کے ماتحت کرنے اور گلگت بلتستان کے چلاس تک کے علاقے کو ضلع لہہ لداخ میں شامل کرکے پولٹیکل میپ جاری کرنے اور کشمیر میں جاری ظلم اور بربیت اور ٹینشن کے باوجود سکھ مذہب کے پیروکاروں کی سہولت کیلئے کشمیر میں جاری مودی گردی کو مکمل طور پر نظر انداز کرکے کرتارپور راہدداری کھولنے کے بعد سکردو کرگل راہداری کھولنے کیلئے عوامی مطالبے میں شدت آئی ہے۔ بلتستان کے تمام جامع مساجد سے مسلسل مطالبہ کیا جارہا ہے۔
لیکن دوسری طرف کرگل سکردو روڈ کی بحالی کیلئے جہاں اسلام آباد سرکار لفٹ کرانے کیلئے تیار نہیں وہیں مقامی سطح پر کچھ ایسے مخصوص عناصر بھی موجودنظر آتا ہے جو اس روڈ کو بھی اپنی نوکریوں اور پنشن کی آنکھ سے دیکھتے ہیں۔ اس وقت سوشل میڈیا پر ضلع شگر تعلق رکھنے والے ایک ریٹائرڈ کرنل صاحب کا سکردو کرگل روڈ کے نقصانات اور اس روڈ کے کھلنے کی وجہ سے ممکنہ برائیوں کے حوالے سے ایک تحریر وائرل ہورہا ہے۔ جس میں مصوف منطق پیش کر رہا ہے کہ اس راستے کے کھلنے سے بلتستان کا معاشرہ برائیوں کا مرکز بن سکتا ہے۔وہ عوام کو یہ بتانے کی کوشش کرتا ہے کہ سکردو کرگل راہداری بلتستان کیلئے کسی بھی طرح فائدہ مند نہیں بلکہ نقصان دہ ہے اس روڈ کے کھلنے سے نہ معاشی طور پر کوئی فائدہ ہوسکتا ہے اور نہ ہی عوامی سطح پربھی اسکا کوئی فائدہ نہیں وغیرہ وغیرہ۔
صاحب مکتوب کے طرز تحریر سے یہ بات تو کنفر م ہوگیا کہ موصوف بلتستان کے زمینی حقائق اور دنیا میں انسانیت کی خاطر اُٹھائے جانے والے تاریخی اقدامات سے بلکل ہی نابلد ہیں ۔اگر ایسا نہیں تو بلتستان کا کوئی باسی کس طرح یہ کہہ سکتا ہے کہ کرگل سکردو روڈ کی کوئی اہمیت نہیں۔پاکستان کی جانب سے تمام تر مسائل اور جنگی صورتحال کے باوجود کارتار پور کے کھولنا انسانیت کی بنیاد پر فیصلہ ہے لیکن دوسری طرف متنازعہ خطے کے کم از کم بیس ہزار خاندانوں کو آج تک ملنے نہ دینا ہیعقل رکھنے والوں کیلئے سوچنے کا مقام ہے۔سکردو کرگل روڈ کی بحالی کیلئے نعرہ تجارت کیلئے نہیں بلکہ انسانیت کی خاطر ہے ۔کیونکہ جو ہزاروں خاندان سرحد کے آر پار چند فرسخ پر رہتے ہیں دریا کے اُس پار ایک دوسرے کو دیکھ سکتے ہیں لیکن ملنے نہیں دینا یہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔لیکن بدقسمتی سے گلگت بلتستان میں چونکہ اس طرح کی باتیں کرنے والے ماضی میں غدار آج مشکوک ہوا کرتے ہیں اس وجہ سے کوئی توجہ دینے والا نہیں اور نہ ہی گلگت بلتستان کے بے اختیار اسمبلی کے 33 ممبران کا ضمیراس حوالے زندہ نظر آتا ہے۔ صاحب مکتوب نے جس طرح لکھا ہے کہ کرگل سکردو روڈ کھولنے سے کوئی معاشی انقلاب نہیں آسکتا ہے کلچر کے نام پر چند فحاشی اور گانوں کے سی ڈیز کارگل سے بلتستان میں آئے گا کچھ پرانی روایات پھر سے کلچر کے نام پر تازہ ہو جائے گا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مصوف کو معلوم ہی نہیں کہ دنیا اب گلوبل ولیج بن چُکی ہے کسی بھی قسم کے مواد کا حصول کیلئے بارڈ کی نہیں بلکہ ٹیکنالوجی اور سہولیات کی ضرورت ہوتی ہے اور ویسے بھی سوشل میڈیا کے زریعے معلوم ہوتا ہے کہ معاشرتی قدار اور مذہبی حوالے سے بلتستان کی نسبت کرگل کے عوام قدرے بہتر اور دین فہم ہے۔لیکن جب ہم اپنے معاشرے پر نگاہ ڈالتے ہیں تو شائد موصوف کو معلوم نہیں کہ اسی سکردو شہر میں ایک مقامی بدنام زمانہ شخص کا فحش ویڈیو لوگوں نے تین ہزار روپے دیکر حاصل کئے تھے جوکہ ریکارڈ کا حصہ ہے۔ فحاشی پر مزید گفتگو کیا تو بہت سے لوگوں کی بال کھڑے ہوجائیں کیونکہ معاشرے میں سیاسی،سرکاری اور مذہبی شخصیات کے کرتوت کی داستان اگر کسی نے بیان کی تو بڑے بڑے صاحب عزت افراد معاشرے میں منہ دکھانے کے لائق نہ رہے اس حوالے سے خبریں بھی میڈیا کی زنیت بن چُکی ہے۔لہذا کرگل روڈ کی بحالی سے فحاشی پھیلنے کی الزام لگانے والوں کو معاشرے پر تحقیق کرنے کی ضرورت ہے ورنہ اس یہ بیانیہ بلکل ایسا ہی جس طرح ماضی میں مرحوم سید حیدر شاہ رضوی کو سرحد کھولو تحریک چلانے پر غدار اور راء سے پیسہ لینے اور منظور پروانہ کو کرگل روڈ کھولو تحریک کا حصہ بننے پر غدار بنا کر مقدمہ بنانے کی طرح ہے۔ اب زمانہ بدل گیا ہے پہلے چند افراد کی دھمکیوں سے لوگ ڈرتے تھے الزامات سے خوف کھاتے تھے آج الزامات کو نئی نسل پاوں تلے روند لیتے ہیں جسکا ثبوت معاشرے میں فورتھ شیڈول کا یلغار اور فرزندان بلتستان کا پہلے سے متحرک ہونا ہے۔
لہذا جس طرح علمائے کرام یوتھ مسلسل سوال اُٹھا رہا ہےکہ کرتارپور کھل سکتا ہے تو گلگت بلتستان کے قدیمی تجارتی راستے کس جرم میں بند کرکے رکھا ہے ہزاروں منقسم خاندانوں کو ملنے کیوں نہیں دیا جارہا ہے۔ اس سوال کا منطقی جواب دینے اور سکردو کرگل کوریڈور کی بحالی کیلئے ریاست کی جانب سے کئی بار کے وعدے کو عملی جامہ پہنانے کی ضرورت ہے۔کیونکہ بدل رہا ہے گلگت بلتستان۔
تحریر : شیر علی انجم
سکردو کرگل راہداری ،غیروں کی لاپروائی اور اپنوں کی منافقت پر ماتم۔
More Stories
شاہراہ بلتستان ،شاہراہ قراقرم کی زبوں حالی اور سیاحت کا مستقبل۔
دیرینہ کارکنوں کی قربانیاں اور سیاسی جماعتیں
اقوام متحدہ میں گلگت بلتستان کا مقدمہ ہے یا نہیں ؟