سکردو کرگل راہداری کا کھولنا وقت کی اہم اور فوری ضرورت ہے۔

0 0

جیسے جیسے وقت گزرتے جا رھے ہیں حالات میں بہت تیزی سے تبدیلی رونما ہو رھے ہیں ۔ عوام لا شعوری سے تیزی کے ساتھ شعور کی منزلیں طے کر رھے ہیں۔ ایک عام آدمی بھی کھ رھے ہیں کہ آج تک ہر آنے والی حکمرانوں نے گلگت بلتستان کے عوام کو عمومی طور پر جبکہ بلتستان کے عوام کو خصوصی طورپر اندھیرے میں رکھا ہوا تھا۔ ہر آنے والے حکومت نے کبھی آئینی، کبھی عبوری اور کبھی عارضی کا لولی پاپ کہلاتا رہا عوام نے بھی آج تک حکمرانوں کے الفاظ کی اس خوبصورت جوڑ کو اپنا حقوق سمجھتا رہا اور اسی پر خوشی سے نہال نہال رھے۔ لیکن کرتارپور بارڈر کے کھلنے کے بعد گلگت بلتستان کے نوجوانوں میں ایک نئی امنگ پیدا ہوگئے ہیں۔گلگت بلتستان پاکستان کا وھ اہم ترین خطہ ھے جس کی اہمیت کو آج تک کسی بھی حکومت نے محسوس تک نہیں کیا۔ محل وقوع اور دیگر چند اہم وجوہات کے حوالے سے اتنے اہم خطے کو چند ایجنسیوں کے رحم وکرم پر چھوڑا ہوا ھے جنہوں نے آج تک ان پڑھ موتیوں، بھائیوں اور تھڑے داروں کے رپورٹ پر اس خطے کو چلاتے رھے۔ باخبر ذرائع سے معلوم ہوا ھے جب بھی کرگل اشوز کے حوالے سے عوام آواز اٹھاتے ہیں تو تمام ایجنسیاں متحرک ہوجاتے ہیں کچھ لوگوں کا یہ بھی خیال ھے کہ جب تک ایجنسیز نائیوں، موتیوں اور تھڑےداروں رپورٹ لینے کا سلسلہ بند کرکے پڑھے لکھے اور پاکستان کے لئے سینے میں درد رکھنے والے لوگوں سے رپورٹ لینے کا سلسلہ شروع نہیں کرتے اس وقت تک گلگت بلتستان میں کرگل جیسے اہم اشوز کبھی حل نہیں ہونگے۔گلگت بلتستان پاکستان کا وھ اہم ترین خطہ ھے جہاں دنیا کا سب سے بڑا پانی کا ذخیرھ موجود ھے جوکہ مستقبل میں پاکستان کو پانی سپلائی کرنے والا واحد واٹر ریزروائر ھے خدا نخواستہ یہ خطہ کسی بھی وجہ سے پاکستان سے کٹ گیا تو پاکستان کا زیادھ تر حصہ ریگستانوں میں تبدیل ہوگا۔ گلگت بلتستان اپنے سینے میں ایک تاریخ سمویا ہوا ھے اس کے باوجود دوسرے علاقوں کے مقابلے میں یہاں بین الاقوامی سیاح نہ آنے کے برابر ھے اس کی بنیادی وجہ حکمرانوں کے اس خطے کے ساتھ دلچسپی نہ ہونے کے ساتھ ساتھ سوتیلے ماں جیسا سلوک بھی ھے ۔ آج کل گلگت کی ترقی وخوشحالی دیکھ کر بلتستان کے عوام مزید احساس محرومی کا شکار ہو رھے ہیں۔ بلتستان کے عوام نے گزشتہ 72 سال ایک روڈ کی تعمیر کا بھیگ مانگتا رھا ۔ 18 بار شگر ڈوان ہڑتال کئے بالاآخیر اس کی منظوری ملی ایف ڈبلیو او نے ہزار بہانے بناکر پہلے ٹنلز کا خاتمہ کر دیا اس کے بعد روف کی چوڑائی بھی کم کرکے رہی سہی کسر بھی پوری کردی ۔ پورے دنیا میں آٹھ ہزار میٹر سے اونچے پہاڑی سلسلوں کی کل تعداد چودھ ھے ان چودھ پہاڑی سلسلوں میں سے پانچ پہاڑی سلسلے گلگت بلتستان میں موجود ھے ان پانچ میں سے چار پہاڑی سلسلے بلتستان میں پائے جاتے ہیں دنیا کا سب سے بڑا پہاڑی سلسلہ کے ٹو بھی بلتستان میں پائے جاتے ہیں۔ پورے دنیا میں سات میٹر سے اونچے پہاڑی سلسلوں کی کل تعداد 108 ھے جس میں سے 72 پہاڑی سلسلے گلگت بلتستان میں موجود ھے جبکہ لداخ اور سنگ کیانگ دونوں میں صرف ایک ایک پہاڑی سلسلے ہیں ۔ لداخ میں سالانہ ڈھائی لاکھ بین الاقوامی سیاح آتے ہیں جبکہ سنگ کیانگ میں سالانہ 6 لاکھ بین الاقوامی سیاح آتے ہیں ۔ اس کے مقابلے میںپوٹینشل اور تاریخ سے بھرپور 72 پہاڑی سلسلے پائے جانے والے گلگت بلتستان میں سالانہ صرف تین ہزار بین الاقوامی سیاح آتے ہیں یہ سب حکمرانوں کے عدم توجہی کی سبب سے ھے۔ حکومت نے سیاحت کو فروغ دینے اور ملکی آمدنی یں اضافے کے لئے کرتارپور بارڈر کو ھنگامی حالات میں کھولا تاکہ سکھ یاتری پوری انڈیا سے زیادھ سے زیادھ پاکستان کا رخ کرے جس سے پاکستان کو کثیر زر مبادلہ ملے گا۔حکمرانوں کو معلوم ہونی چاہئے جس طرح کارگل بارڈر کو کھولنے سے پاکستان کی معیشیت پر ایک مثبت اثر پڑ سکتا ھے اسی طرح کارگل بارڈر کے کھولنے سے نہ صرف گلگت بلتستان میں معاشی انقلاب آئے گا بلکہ اس سے پاکستان کی معیشیت پر بھی بہت مثبت اثر پڑیگا ۔ اگر حکومت یہ سمجھتی ھے کہ صرف زیارتگاہوں سے ملکی سیاحت اور ملکی معیشیت مستحکم ہوسکتی ھے تو بلتستان میں کارگل بارڈر کے ساتھ برولمو کے مقام پر ایک ایسے عظیم ہستی کی مزار موجود ھے جس کی لاکھوں کی تعداد میں عقیدت مند کرگل، لداخ اور انڈیا کے دوسرے حصوں میں موجود ہیں جوکہ گزشتہ 72 سالوں سے اپنے اس عظیم ہستی کے مزار کی دیدار کے لئے ترس رھے ہیں ۔عوام امید کر رھے ہیں کہ وزیر اعظم پاکستان صرفآ سکھوں کا مہربان نہیں بلکہ مسلمانوں کا بھی مہربان ثابت ہوگا۔شاید وزیراعظم پاکستان کو معلوم نہیں کہ بارڈر ایرئے کے عوام کئی سال سے اپنے پیاروں سے بچھڑنے کے ساتھ ساتھ یہ غریب لوگ اپنے آباواجداد کی وراثت سے بھی محروم ہوچکے ہیں ان کی ایک نسل اپنے آبائی زمین ،آبا واجداد کی قبروں اور بوسیدھ مکانات کی ایک جھلک کی آس لئے منوں مٹی کے نیچے چلے گئے۔ اب وقت آچکا ھے ان کا مزید امتحان لینے کے بجائے کم از کم استحکام پاکستان اور ملکی معیشیت کے استحکام کے لئے کرگل بارڈر کو کھولنے کے اقدامات کئے جائیں تاکہ علاقے کے عوام میں گزشتہ 72 سالوں میں پائے جانے والے محرومیت کا ازالہ ہوسکے۔

تحریر: احمد چو شگری
جنرل سکریٹری انجمن تاجران سکردو

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website