جناب ٹھیکیدار مآب ہم دنیور نہیں بلکہ گلگت بلتستان کی عوام، جانتے ہیں کہ گلگت بلتستان کی موجودہ حکومت کی طرف سے آپ پر اور کچھ چنندہ ٹھیکیدارں پر کرامات کی بارش ہورہی ہے، اور باقی ماندہ ٹھیکیدار آپ پر کی جانے والی عنایت کی وجہ سے خود کو خاصا محروم و بے روزگار سمجھنے لگے ہیں. بہت سے ٹھیکیداروں نے تو شاید اس کام سے توبہ بھی کر لی، بہرحال موضوع کی طرف آتا ہو.جناب ٹھیکیدار مآب ہم عوام کی آپ سے مودبانہ گزارش ہے کہ جو عوامی فلاحی کام حکومت وقت نے آپ کے سپرد کئے ہیں ان میں غفلت نہ برتیں خود کو انہیں عوام کا حصہ و ترجماں سمجھیں، اگر آپ کے زیر نگرانی ہونے والا کام اسکول کا ہے تو اسے پختہ بنائیے کیوں کے مستقبل میں وہاں پڑھنے والے آپ کے دیرینہ رشتے دار نہ سہی مگر آپ کے علاقے کے، ہمسائیگی میں رہنے والے ضرور ہونگے، کسی کی جان کے درپے عمارت تعمیر کرکے کسی گھر کے چراغ کے قتل کا مرتکب نہ قرار پائے، میری گزارش ہےآپ سے آگر آپ کی نگرانی میں کہیں روڑ بن رہا ہے تو اسے سرکاری اسٹینڈرڈ کے مطابق جیسا کہا گیا ہے بنائے، تاکہ مستقبل کے معماروں کی جان کے زمہ دار اور انہیں معزور کرنے کی وجہ نہ کرار پائیں. ایسا کام کریں کی ہر رہ گزر آپ کو اس کام پر دعا دے نہ آپ کے چھوڑے ہوے گڑھے کی وجہ سے آپ پر ملامت کرے.جناب ٹھیکیدار مآب اگر آپ کے زمے کسی ہسپتال کا کام ہے، اسے محض ٹھیکا نہ سمجھیں بلکہ خدمت خلقِ خُدا سمجھیں جس کا موقع ہر کسی کو نہیں ملتا آپ خوش قسمت ہیں جن کو ایسی عمارت تعمیر کرنے کی زمہ داری ملی ہے جہاں مستقبل میں بیماروں کو شفاء ملنی ہے. آپ کے توسط سے ایک سازگار ماحول میں علاج کرانے کا موقع ملا ہے،مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہا ہے کی گلگت بلتستان میں ایسے لوگوں کی نذر عوامی کام کئے گئے ہیں جن کا منہ اور پیٹ برابر بڑے اور کُشادہ ہیں، نہ اِنہیں اپنی دنیاوی عزت کی فکر ہے نہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کا ڈر ہے، سرکاری اسٹینڈرڈ تو کیا، وہ اپنے اسٹینڈرڈ کے مطابق بھی کام نہیں کرارہے ہیں. جس کو بنیاد بنا کر حکومت نے مفاد عامہ کے کام ان کے حوالے کئے ہیں. اس طرح کے ٹھیکیداروں کو کام دینے کے بجائے چھین کر کسی ایسے ادارے یا بندے کو دیے جانے چاہیں جو اصل معنوں میں عوام کی خدمت کے جذبے سے سرشار ہو. لوکل گورنمنٹ کا کردار ان ٹھیکوں میں اہم ہے. لوکل گورنمنٹ چاہیے تو سرکاری دائرہ کار کے مطابق ایسے کام سر انجام پائیں. بہرحال لوکل گورنمنٹ کی عوام مخلصی کا میں خود چشم دید گواہ ہوں حال ہی میں ایسے ہی ایک ٹھیکیدار موصوف کی طبیعت صاف کرتے ہوئے دیکھا ہے، جس کے مزدور بھی ٹھیکیدار سے کم نہ تھے، حکومت کی رٹ ابھی تک اس کام میں سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے . جہاں ناقص کام پر اے. سی صاحب نے کام رکوادیا تھا اور تاحال شروع نہ ہوسکا ہے. ایسے علاقے کی ترجمانی کرنے والے دور سے آئے ہوئے سرکاری ملازمین کو سلام ہو جو علاقے کے ہی بدعنوان لوگوں پر کہر کی طرح طاری ہیں، اور حیف ہے ایسے قومی ٹھیکیداروں پر جو علاقے کے ہونے کے باوجود ترقیاتی کاموں کی بجاآوری میں غفلت برتتے ہیں اور عوامی نقصان کے درپے ہوتے ہیں. حال ہی میں افتتاح کیا گئی منوغہ نالہ سڑک کو دو حصوں میں تقسیم کر کے انہیں چنیندہ ٹھیکیداروں میں سے دو کو عنایت فرما دی گئی جن کے شاہکار کاموں کی میں توصیف کر رہا ہوں. ایک ہی سڑک کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کی منطق ابھی تک میری سمجھ میں نہیں آئی. اگر ان ٹھیکیداروں کو حکومت قابل سمجھتی ہے تو الگ الگ کام دے کر پرکھ لے. جلدی کام چاہیے تھا تو کسی ایک ہی کو دے کر ان جناب سے حکومت مطالبہ کرتی کی کام جلدی چاہیے. ان سے ہمدردی ایسے جتاتے کی کام شروع کراتے ساتھ ہی 30 فیصد رقم ان کے حوالے کرتے تاکہ ٹھیکیدار بھی جلد کام کرنے کو ترجیح دیتا. اور نہ ایک سڑک کو دو حصوں میں تقسیم کر کے ان کے منافے میں ڈاکا ڈالنے کی کوشش کی جاتی.
تحریر: : انیس بیگ
More Stories
شاہراہ بلتستان ،شاہراہ قراقرم کی زبوں حالی اور سیاحت کا مستقبل۔
دیرینہ کارکنوں کی قربانیاں اور سیاسی جماعتیں
اقوام متحدہ میں گلگت بلتستان کا مقدمہ ہے یا نہیں ؟