یہ ایک معیاری طریقہ کار ہے کہ کسی بھی ادارے کے بارے میں جب چھان بین کا معاملہ ہو خصوصا جب انسانی جانوں کے ضیاع کا معاملہ ہو تو احتیاطی تدابیر کے طور پر سب سے پہلے سروسز کو معطل کیا جاتا ہے تاکہ مزید جانوں کے ضیاع کا اندیشہ ختم ہو جائے۔
جہاں تک رہی بات وقتی مشکلات کی تو کچھ پانے کیلئے وقتی طور مشکلات کو برداشت کرنا پڑتا ہے تب ہی مستقبل کیلئے بہتر حکمت عملی سامنے آتی ہے جو ادارے کی پرفارمنس کو مزید بہتر بنانے میں مدد دیتی ہے
ہمیں فیصلہ کرنا ہوگاکہ ہم سب آج کی وقتی صعوبتوں کو تھوڑی دیر بر داشت کریں یا مستقبل میں ہمارے بہت سے اور عزیزوں کی لاشوں کو پھر سے کاندھادینے کیلئے ذہنی طور پر تیار ہو جائیں۔
میری اپنی ذاتی رائے کے مطابق انتظامیہ / صوبائی حکومت بلکل صحیح انداز سے ایکشن لے رہی ہے اور ہم سب کو انکا ساتھ دینا چاہئے تاکہ یہ اجارہ داری اور مسافروں کی جان کے ساتھ کھیلنے کا عمل یہی پر رک جائے۔ کچھ تجاویز انتظامیہ /صوبائی حکومت کے سامنے پیش کر رہا ہوں امید ہے وہ ان پر سنجیدگی سے غور کرے گی تاکہ مسافروں کی زندگیاں محفوظ ہوں اور بہتر سفر جو Punjab Motor Vehicle Ordinance 1965 and Motor Vehicle Rules 1969کے مطابق مسافروں کا حق ہے بہتر انداز سے ادا ہوسکے:
1-سکردو ۔راولپنڈی روٹ پر چلنے والی تمام بسوں کیلئے ایک مناسب Manufacturing Year معین کرے اور اس سےپرانی بسوں پر پابندی عائد کردے۔تاکہ چند پیسوں کی لالچ میں پرانی اور ناکارہ بسوں پر پینٹ کرکے اس روٹ پر چلا کر مسافروں کی زندگیوں سے کھیلنے کا سلسلہ بند ہوسکے۔
2- تمام بسز کیلئے سالانہ فٹنس سرٹیفیکیٹ(Fitness Certificate)کے حصول کے عمل کو سخت سے سخت بنائے۔
3- فٹنس سرٹیفیکیٹ کا ہر بس میں کسی ایسی جگہ ڈسپلے ہونا ضروری قرار دے جہاں ہر کوئی اس کو دیکھ سکے۔
4-ان ٹرانسپورٹ کمپنیوں میں ملازمت کرنے والے ڈرائیوروں کیلئے راولپنڈ ی ٹرپ کی ماہانہ ایک مناسب تعداد معین کرے کیونکہ پولیس تحقیقا ت کے مطابق ماضی کے اکثر حادثات ڈرائیور حضرات کی تھکاوٹ اور نیند آنے کی وجہ سے رونما ہوئے ہیں۔
5-جو ملازمین ان ٹرانسپورٹ اداروں کے وقتی لائسنس کی معطلی کے باعث بے روزگار ہو چکے ہیں انتظامیہ اس بات کو یقینی بنائے کہ انہیں ادارہ کی طرف سے معقول معاوضہ ملے تاکہ انکے گھر کا چولہا جل سکے اور اگر ادارے کو انکی خدمات کی مزید ضرورت نہ رہی تو انکی ادارے کیلئے خدمات کو مد نظر رکھتے ہوئے معقول رقم نوٹس پیریڈ کے طور پر اداکرے تاکہ وہ اگلی ملازمت کے حصول تک گھر کا خرچہ چلاسکے۔
6- ان مسافر بسوں کے ڈرائیور حضرات کو بھی تھوڑا ذہن نشین کرائیں کہ وہ سپیڈ تھوڑی کم رکھیں کیونکہ وہ اسلام آباد موٹر وے پر نہیں بلکہ سکردو -اسلام آباد روڈ پر گاڑی چلا رہے ہیں جہاں پر انکی معمولی کوتا ہی سے درجنوں مسافروں کی جان جا سکتی ہے۔
7- اس حادثے میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کیلئے معقول معاوضہ کا انتظام کرے
8- انتظامیہ یقینی بنائے کہ اس واقعے کی ایف آئی آر درج ہو کیونکہ ابھی تک کوئی واضح صورتحال سامنے نہیں آرہی
9- یقینی بنائے کہ جے آئی ٹی کی کاوشیں پیپر وں کی حد تک محدود نہ رہے بلکہ اس پر عملدرآمد ہو ۔
تحریر: احسان علی
چیئرمین گلگت بلتستان ڈیموکریٹک رائیٹس
More Stories
شاہراہ بلتستان ،شاہراہ قراقرم کی زبوں حالی اور سیاحت کا مستقبل۔
دیرینہ کارکنوں کی قربانیاں اور سیاسی جماعتیں
اقوام متحدہ میں گلگت بلتستان کا مقدمہ ہے یا نہیں ؟