موسم خوشگوارتھا،باہرہلکی ہلکی بارش ہورہی تھی ،صاحب کمرے میں بیٹھے کتاب کامطالعہ کررہے تھے،میںنے موقع غنیمت جان کران سے ملنے کاارادہ کرلیا،کمرے میں داخل ہوکرابھی بیٹھاہی تھاگفتگوکاسلسلہ شروع ہوگیا،چلتے چلتے گفتگومسئلہ کشمیرکی راہ لینے لگی،میں نے سوال کرنے کی گستاخی کرتے ہوئے پوچھا،کیا آپ کولگتاہے مسئلہ کشمیرکامستقل حل اس مرتبہ ممکن ہوسکے گا،صاحب نے قہقہ لگاکرسگارجلایا،ایک کس لگاکربولا،مسئلہ کشمیرکوئی چھوٹاموٹامسئلہ نہیں جواتنی آسانی سے حل ہوسکیں،اگراتنی آسانی کے ساتھ حل ہوناہوتاتواب تک حل ہوچکاہوتا،ہم کشمیرحاصل کرناچاہتے ہیںپرکشمیرکوکشمیربنانانہیں چاہتے، ہم سترسالوں سے کشمیرپرلڑرہے ہیں لیکن کشمیرکاجوحصہ ہمار ے ہاتھ میں ہے ہم اسے حقوق دینے کی بجائے مسلسل نظراندازکررہے ہیں،ہم کشمیرکوایک منٹ کیلئے رکھ دیں گلگت بلتستان کوبھی مسئلہ کشمیرکافریق بناکرعالمی عدالت میں پیش کیاہے،ہم گلگت بلتستان کوبھی سترسالوں سے حقوق کے نمونے دیکھارہے ہیں،آپ کوپتہ ہے گلگت بلتستان میں اب تک کوئی میڈیکل یاانجنیئر ینگ یونیورسٹی ہے ناں کہ وہاں پہ فورجی کی سہولت میسرہے اورناں ہی قابل قدراسپتال موجودہے،آپ کومعلوم ہے ہمارے ہرآنے والی حکومت اپنے منشورمیں گلگت بلتستان کی آئینی حقوق کے مطالبے کوشامل کرتے ہیںلیکن اقتدارپربراجماں ہونے کے بعدبھول جاتے ہیں،میں خاموشی سے سن رہاتھا،صاحب نے کافی کاکپ اٹھایا شڑاپ کیا،اپنے عینک سیدھاکرتے ہوئے بولا،ہم اب تک اپنے حصے کی شمع جلانے میں ناکام ہے ،جموں کشمیرکامسئلہ توبڑاگھمبیرہے،پھرسوالیہ اندازاپناتے ہوئے کہاکیاآپ کومعلوم ہے انڈیاکوجموں کشمیرمیں آرٹیکل 370اور35اے ختم کرنے کاراستہ کس نے دیکھایا،ان کوراستہ ہی ہم نے ہی دیکھایا،جموں کشمیرایک متنازعہ خطہ ہے،وہاں پراسٹیٹ سبجیکٹ رول بحال تھا،ہمارے ہاں آزادکشمیرمیں بھی یہی قانون لاگوہے،ایک متنازعہ خطہ ہونے کی ناطے گلگت بلتستان میں بھی اسٹیٹ سبجیکٹ رول بحال ہونی چاہیے،ہم نے اس رول کی دھجکیاں اڑاکررہ دی ہے،آپ دیکھیں اسکردومیں موجودسب سے خوبصورت مقام شنگریلاکس کی ملکیت ہے،عطاآبادجھیل پربنی ہوٹل کس کا ہے،کیایہ اسٹیٹ سبجیکٹ رول کی خلاف ورزی نہیں ،میںنے ہاں میں سرہلایا،وہ خاموش ہوگئے۔
صاحب نے سگریٹ کاکس لیااورمیری طرف دیکھنے لگا،میں نے سراٹھاکرپوچھاکیا آپ بتاسکتے ہیں کہ آرٹیکل 370اور35Aکیاہے اس کے نکات کیاکیاہے،انہوںنے قہقہ لگاکرپوچھاآپ واقعی میں جانناچاہتے ہو یا میراامتحان لینے کی کوشش کررہے ہیں؟میں نے چہرے پرمسکراہٹ بکھیرکرکہاآپ سے سنناپسندکرتاہوں،صاحب نے کافی کاکپ لیااورایک گھونٹ پینے کے بعدکہا،آرٹیکل 370اور35Aانڈیاکی آئین کاحصہ ہے،تقسیمِ برصغیر کے وقت جموں و کشمیر کے حکمران راجہ ہری سنگھ نے پہلے تو خودمختار رہنے کا فیصلہ کیا تاہم بعدازاں مشروط طور پر انڈیا سے الحاق پر آمادگی ظاہر کی تھی،اس صورتحال میں انڈیا کے آئین میں شق 370 کو شامل کیا گیا جس کے تحت جموں و کشمیر کو خصوصی درجہ اور اختیارات دیے گئے،تاہم ریاست کی جانب سے علیحدہ آئین کا بھی مطالبہ کیا گیا، جس پر سنہ 1951 میں وہاں ریاستی آئین ساز اسمبلی کے قیام کی اجازت بھی دے دی گئی،انڈین آئین کی شق 370 عبوری انتظامی ڈھانچے کے بارے میں ہے اور یہ دراصل مرکز اور ریاستِ جموں و کشمیر کے تعلقات کے خدوخال کا تعین کرتا تھا،یہ آرٹیکل ریاست جموں و کشمیر کو انڈین یونین میں خصوصی نیم خودمختار حیثیت دیتا تھا اور ریاست جموں و کشمیر کے وزیراعظم شیخ عبداللہ اور انڈین وزیراعظم جواہر لعل نہرو کی اس پر پانچ ماہ کی مشاورت کے بعد اسے آئین میں شامل کیا گیا تھا،اس کے تحت ریاست جموں و کشمیر کو ایک خاص مقام حاصل تھا اور انڈیا کے آئین کی جو دفعات دیگر ریاستوں پر لاگو ہوتی ہیں اس آرٹیکل کے تحت ان کا اطلاق ریاست جموں و کشمیر پر نہیں ہو سکتا تھا،اس شق کے تحت ریاست کو اپنا آئین بنانے، الگ پرچم رکھنے کا حق دیا گیا تھا جبکہ انڈیا کے صدر کے پاس ریاست کا آئین معطل کرنے کا حق بھی نہیں تھا،اس آرٹیکل کے تحت دفاع، مواصلات اور خارجہ امور کے علاوہ کسی اور معاملے میں مرکزی حکومت یا پارلیمان ریاست میں ریاستی حکومت کی توثیق کے بغیر انڈین قوانین کا اطلاق نہیں کر سکتی تھی۔بھارتی آئین کے آرٹیکل 360 کے تحت وفاقی حکومت کسی ریاست میں یا پورے ملک میں مالیاتی ایمرجنسی نافذ کر سکتی ہے ، آرٹیکل 370 کے تحت انڈین حکومت کو جموں و کشمیر میں اس اقدام کی اجازت نہیں تھی۔
صاحب نے اٹھ کرپنکھے کی رفتارکم کرنے کی کوشش کی،میںنے موقع پاکرپوچھاپھریہ A35کیاہے،لمبی سانس لی اوربولاانڈیا کے آئین میں جموں و کشمیر کی خصوصی شہریت کے حق سے متعلق دفعہ 35A کا مسئلہ کشمیر سے بھی پرانا ہے،اس قانون کی رُو سے جموں کشمیر کی حدود سے باہر کسی بھی علاقے کا شہری ریاست میں غیرمنقولہ جائیداد کا مالک نہیں بن سکتا ، یہاں سرکاری نوکری حاصل نہیں کرسکتا اور نہ کشمیر میں آزادانہ طور سرمایہ کاری کرسکتا ہے یہ قوانین ڈوگرہ مہاراجہ ہری سنگھ نے سنہ 1927 سے 1932 کے درمیان مرتب کیے تھے اور انہی قوانین کو سنہ 1954 میں ایک صدارتی حکم نامے کے ذریعہ آئین ہند میں شامل کر لیا گیا تھا،کمرے میں خاموشی چھاگئی ،میںنے اگلے سوال کی جانب بڑھتے ہوئے پوچھاان آرٹیکلزکی خاتمے سے کشمیریوں پرکیااثرات مرتب ہونگے،وہ بولے، ان ار ٹیکلزکی خاتمے کے ساتھ اب کسی بھی انڈین شہری کووہ تمام حقوق حاصل ہونگے جوکشمیریوں کوہے،انڈیاکاکوئی بھی شہری کشمیرمیں گھرباربناسکتاہے،جائیدادخریدسکتاہے اوروہاں کے لوگوںکی طرح نوکری حاصل کرسکتاہے،آپ یوں سمیجھ لیجئے بھارت کے ہرشہری کوکشمیرپراتناہی حق حاصل ہوگاجتناکشمیریوںکوکشمیرمیں ہے، کشمیریوں کو خدشہ ہے کہ آئین ہند میں موجود یہ حفاظتی دیوار گرنے کے نتیجے میں وہ فلسطینیوں کی طرح بے وطن ہو جائیں گے، کیونکہ غیر مسلم آبادکاروں کی کشمیر آمد کے نتیجے میں ان کی زمینوں، وسائل اور روزگار پر قبضہ ہو سکتا ہے۔یہ خدشہ صرف کشمیر کے علیحدگی پسند حلقوں تک محدود نہیں بلکہ ہند نواز سیاسی حلقے بھی اس دفعہ کے بچاؤ میں پیش پیش رہے ہیں۔
صاحب بولتے بولتے رک گئے ،کافی کاکپ اٹھاکرایک گھونٹ پی لی، میںنے دھیمی آوازمیں پوچھاآپ کے مطابق اب مسئلہ کشمیرکس طرح حل ہوسکتاہے،انہوںنے میری طرف دیکھااوربولا میرے خیال سے اب اس مسئلے کی حل کاتین ہی راستہ ہے جسے اپناکرہم مسئلہ کشمیرکاحل نکال سکتے ہیں ،دو راہ آسان جبکہ ایک راہ انتہائی کھٹن اوردردناک ہے،ایک راستہ یہ ہے کہ عمران خان اورمودی مذاکرات کے زریعے اس کاراہ حل نکالیں،دوسری راہ اقوام متحدہ ،مسلم ممالک اورامریکہ پرمنحصرہے کہ وہ اس کامستقل حل تلاش کرتے ہوئے دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کرائیں ،یاریفرنڈم کرائیںجس کے تحت جموں کشمیرکے لوگوں کواستصواب رائے کاموقع دیاجائے،جوجس کے ساتھ رہناچاہتے ہیں انہیں اسی کے ساتھ بیٹھادیاجائے یہی سب سے بہترراہ حل ہے،کیونکہ عمران خان اورمودی اکڑ میں ہے یہ دونوں خودسے مذاکرات نہیں کریں گے،اورتیسری اورآخری راہ حل حتمی جنگ ہے،اللہ نہ کریں اگرجنگ ہوجائے تونہ انڈیابچے گانہ پاکستان،اس کے نتائج بھیانک ہونگے،وہ بولے ہم اب تاریخ کی انتہائی خطرناک ترین موڑپرکھڑاہے،ہماراجگری دوست کہنے والاملک چائنہ بھی اب ہمارے کندے پرہاتھ رکھنے کیلئے تیارنہیں ،جبکہ سعودی عرب نے ہمارے دشمن کوایوارڈسے نوازاہے،ہم چاروں طرف سے پھنس چکے ہیں،اب معرکہ کشمیرمیںہم اکیلے کھڑے ہیںاس مشکل وقت میں ایران کے سپریم لیڈرنے کشمیرپرہونے والے مظالم کی مذمت کی ہے،کیاہم انہیں ایوارڈسے نوازیں گے؟ہمیں دوست اوردشمن کافرق معلوم ہی نہیں،وہ خاموش ہوگئے،کلام کاسلسلہ رک گیا،فضامیں اندھیراچھاگیا،میںنے اجازت طلب کرلی اورباہرآگیا۔
تحریر:ممتازعباس شگری
معرکہ کشمیرمیں ہم اکیلے ہیں۔۔۔
More Stories
شاہراہ بلتستان ،شاہراہ قراقرم کی زبوں حالی اور سیاحت کا مستقبل۔
دیرینہ کارکنوں کی قربانیاں اور سیاسی جماعتیں
اقوام متحدہ میں گلگت بلتستان کا مقدمہ ہے یا نہیں ؟