ربِ کائنات نے انسان کو کیا خوب ،باکمال اور بے مثال ہستی بنایا کہ جس کے سامنے خداتعالٰی کے مقدم و مقدس ترین فرشتوں کو بھی سجدہ ِتظیم بجالانا پڑا او ر اس سجدے کی کیا خوب لاج رکھی حضور پاکﷺ نے اپنی علم و حکمت سے ، امام ِکائنات علیؑ نے اپنی شجاعت و بہادری سے،امام حسین ؑ نے اپنی ثابت قدمی سے اور حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی قربانی سے۔
حضور پاک ﷺ کی بہت سے اوصاف حمیدہ میں سے ایک صفت غلاموں پر شفقت و رحم دلی قابلِ ذکرہے۔ جو حضرت بلال حبشیؓ کے شکل میں دنیا میں تاقیامت انسانیت کے لئے سبق فراہم کرتا رہے گا اور حضور پاکﷺنے پہلی اور آخری حج سے واپسی پر واضح کیا تھا کہ آج کے بعد کسی عرب کو عجم پر فوقیت حاصل نہیں ہوگی اور نہ ہی عجم کو عرب پر، اور اس موقعے پر حضورﷺ نے غلامی کے مجسمے کو چکنا چُور اور پاش پاش کیا۔ حضور پاکﷺ نے مسلمانوں کے لئے غلامی کو حرام فعل قرار دیا۔ پھر کیا وجہ ہے کہ مسلمان غلام بننا اور غلام بنانے کو ہمیشہ سے پسندیدہ مشغلہ کے طور پر اپنائے ہوئے ہیں۔مسلم ممالک غلامی پھیلانے کے عالمی فیکٹریاں بنے ہوئے ہیں۔
آج دنیا میں خاص کر مسلم دنیا میں نچلے سطح سے ایوانوں تک غلام ہی غلام نظر آتے ہیں۔ کوئی نفس کا غلام ، کوئی دولت کا غلام، کوئی نفرت کا غلام، کوئی طاقت کا غلام جہاں نظر دوڑائے غلام ہی غلام، صحافت میں غلام، سیاست میں غلام، معاشیات میں غلام ، تعلیم میں غلام ۔ بس غلام ہی غلام۔
صحافت میں دیکھا جائے تو بڑے بڑے صحافی مال و زر کے لئے سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ بناکے پیش کرتے ہیں اور عوام کو گمراہ کرتے ہیں۔ کچھ صحافی سیاست اور صحافت ساتھ ساتھ چلاتے ہیں۔ آج سچائی کے فرشتے جھوٹ کا کاروبار کرتے نظر آتے ہیں اور سرعام پیسوں کے لئے طاقت ، ظلم اور قتل کے غلام بنے ہوئے ہیں۔
سیاست میں غلامی کئی دہائیوں سے چلتی آرہی ہے، مسلم دنیا کے باوقار ممالک کاروبارکے نام پر اپنی ضمیر کو اسرائیل، بھارت، امریکہ، چین اور روس کی غلامی کے لئے آمادہ کرچکے ہیں۔اور ان ممالک سے ڈیفنس کے نام پر انسان دشمن ہتھیار وں کا کالا کاربار سے اپنے خوبصورت آشیانیں تباہ کرتے نظر آتے ہیں۔ ہتھیار بھی ان کے اور دہستگردی بھی ان کی ،لیکن پھر مسلم ممالک کے عقل سے خالی بادشاہ ان مغربی دہشتگردوں کے غلام؟ افغانستان،شام ،یمن اورعراق کی تباہ و بربادی انہی مغربی قاتلوں اور مسلم ممالک کے نام نہاد بادشاہوںکی ملی بھگت ہے۔اور تو اور ہم آئی ۔ایم۔ایف کے بھی غلام اور ورلڈ بینک بھی ہمارا آقا۔ تعلیم دینے والا بھی غلام اور تعلیم حاصل کرنے والا بھی غلام کیونکہ ہماری اس تعلیمی و تحیقیقی میدان میں بھی اپنی کوئی کاوش نہیں اور مغرب کی باسی مواد رٹتے جارہے ہیں۔
عام دفاتر میں ہمیں مخلص اور ایماندارلوگ نہیں بلکہ اعلی آفیسر کی ہر صحیح،غلط فعل پر پردہ ڈالنے اور کرپشن پر لبیک کہنے والا غلام چاہیے۔ والدین کو اولا د اور اولاد کو اپنے ہر صحیح غلط فیصلوں میں ساتھ دینے والے غلام والدین درکار ہیں۔شوہر کو بیوی کی شکل میں اور بیوی کو شوہر کی شکل میں غلام کی حسرت ہے۔
روح ، نفس اور تو اور ضمیر بھی غلام تو یہ آزادی کے نعرے کس بات کے؟؟؟
اے انسان ! تمہیں غلام چاہیے
تمہیں ادب سے خالی سلام چاہیے۔
جھوٹ سہی لیکن تعریفی کلام چاہیے
تمہیں تم میں عقلی غلام چاہیے۔
اے انسان! تمہیں غلام چاہیے۔
خدا نگہبان !اس دُعا کے ساتھ کہ خدائے کائنات امت مسلمہ اور عزیز وطن پاکستان کو ہر قسم کے غلاموں اور غلامیوں سے آزاد رکھیں۔ (امین)
تحریر: وجاہت عالم ہنزائی
More Stories
شاہراہ بلتستان ،شاہراہ قراقرم کی زبوں حالی اور سیاحت کا مستقبل۔
دیرینہ کارکنوں کی قربانیاں اور سیاسی جماعتیں
اقوام متحدہ میں گلگت بلتستان کا مقدمہ ہے یا نہیں ؟