اخلاقی اور آفاقی طاقت۔

0 0

دنیا میں یہ دو طاقتیں بہت ہی مظبوط ہیں اگر معاشرہ انسانیت اور مہذیب ہونے کا دعودار ہوتو گزشتہ دنوں مودی سرکار نے کشمیر کے اوپر اپنی اخلاقی دیوالیہ پن کا مظاہرہ کیا اور اقوام عالم میں دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اور سکولر ملک بھارت کی عزت کا فالودہ کیا جس کو بھارت کے تمام انسانیت دوست افراد بشمول کانگریس نے سختی سے مسترد کیا اور بھارتی آیین کے ساتھ غداری قرار دیا جو کہ اخلاقی فتح اور کشمریوں کی جیت ہے۔ دوسری طرف پاکستان کدو عوام اور بکاو میڈیا نے بھی اسکی بھرپور مزمت کی جس عوام کو اور میڈیا کو ستر سال سے یہ پتہ نہی چلا کہ اس غلطی کا مرتکیب پاکستان 1974 میں ہوا ہے گلگت بلتستان کو پاکستان نے زبردستی کشمیر ایشو کا فریق بنا یا اور یہاں یہ قانون اقوام متحدہ کی قراردا کی مخالفت کرکے سٹیٹ سبجیکٹ رول کو ختم کیا جو کہ یہی A35 سے جس کے لیے آج ہم سب چلا رہے ہیں دنیا میں ایسا کہیں نہی ہوتا آپنی بیوی کو بھابی اور اپکی بیوی کو نام دیا جائے عزت اور توقیر اخلاق سب کے لیے برابر ہوتا ہے۔ گلگت بلتستان کے عوام عرصے دراز سے یہی بحالی کی کوشش کر رہے ہیں انکو تو آپ غدار بھارت کے ایجینٹ اور پتہ نہی کیا کچھ کہتے ہیں لیکن آج کشمیر کے لیے چیخ رہے ہیں لیکن یہ سب کچھ بے سود اس لیے جارہا ہے کیونکہ آفاقی قوت اپکے ساتھ نہی ہے اور اخلاقی جواز اپ کے پاس نہی ہے۔ کور کمانڈرز تک یہ بات جب وہ کپتان تھے جب سے جارہی ہے گلگت بلتستان میں میں اکثریت اس رول کی بحالی چاہتے ہیں لیکن آپ میں سے کسی کو پرامن گلگت بلتستان والوں کی آواز نہی آئی اگر کسی کے کان تک یہ اواز آیی تو فٹ سے ایجینٹ یا غدار کہ کر ڈرایا گیا نتیجا یہ مظلومیں اللہ کی طرف منہ کرکے امداد کے طلب گار رہے قدرت کا کرنا آج گزشتہ چالیس سال کی یکطرفہ محنت مٹی ہوگئی اور بھارت نے وہی کام کیا کشمیر میں جو پاکستان نے 1974 میں گلگت بلتستان میں کیا۔ یہ سب کچھ آفاقی آفات ہیں طاقت انسانی بھی آفاقی قوت کے سامنے بے بس ہوجاتی یہ وہ منازل ہیں جہاں انسان کا کچھ نہی چلتا کشمیر پر جو مظالم بھارت کر رہا ہے ایک دن اسکا حساب بھی غور کے خاتمے کی شکل میں ہوگا اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے۔ لیکن پاکستانی عوام اور بکاو میڈیا کو سوچنا چاہیے معاشرہ کی اصل طاقت اخلاقیات اور اصول ہیں نہ کہ حکومت یا ادارے ۔یادگار سکردو پر کل کچھ علما نما نمونوں کو آحجاج کرتے دیکھ کر ہنسی آئی جو لوگ اپنے گھر والوں کی فکر میں ایک لفظ نہی کہتے وہ انڈیا کو دھمکیاں دیتے اور انسانیت اور اخلاقیات کا درس دیتے ہیں ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ یہ لوگ پہلے گلگت بلتستان میں یہی قانون بحال کرواتے اور پھر آحتجاج کرتے اجتماع بھی بڑا ہوتا اور اخلاقی طور پر مظبوط بھی ہوتے۔ اگر اپنی بات منوانا ہے اقوام عالم میں تو 1974 کے بعد منصوبہ بندی سے گلگت بلتستان میں آباد کیے ہوئے تمام غیر مقامی افراد جو کہ پنجاب پختون خواہ اور چین سے ہیں سب کو بتاو رول کی بحالی کے بعد اپ اس گلگت بلتستان کے نہی رہے پھر دیکھنا ہم گلگت بلتستان والے کشمیر کو آزاد کرکے دیکھینگے ہم آج بھی 1948 والے مجاہدیں کے جزبہ رکھنے والے لوگ اور شجاعت کے امین ہیں خدا را ہمیں فرقہ ورانہ علاقائی جنگ میں دھکیل کر اندرونی طور پر کمزور نہ کرو یہ نہ تو پاکستان کے مفاد میں نہی خطے کے۔ گلگت بلتستان جیسا علاقہ اور لوگ اپکو نہ مل سکتے کیونکہ آج تک یہ علاقہ متازعہ ہونکے باوجود کوئی غداری کے کیس میں نہی پڑا جہاں پاکستان کے دوسرے شہریوں سے حاضر سروس لوگ جاسوسی میں پکڑے جاتے ہیں سمجھدا ر کے لیے اتنا کافی ہے باقی پہلے کی طرح ایک فون کرکے ہم سے آحتجاج اور نعروں کی تواقعہ نہ کرنا اب ہمارے نوجوان حالات کو سمجھتے ہیں اخلاقی اور آفاقی قوتوں کے اثرات کی اہمیت کا اندازہ اور ادراک رکھتے ہیں۔ اب بھی کچھ لوگ اپکی غیر منتقعی میوزک پر ناچتے ہیں لیکن یہ لوگ بھی بہت جلد سمجھ جاینگے ورنہ چلے جاینگے نئی نسل تو جزبات پر نہی عقل اور شعور پر ایمان رکھتی ہے۔کشمیریوں کی مظلومیت پر ہم ساتھ کھڑے ہیں لیکن کشمیر کے لوگوں کو بھی سوچنا ہوگا آج کی دنیا میں اپ انسانی حققوق کے لیے دنیا اپ کے ساتھ کھڑی ہوگئ جب اپ اپنا راستہ منتخب کرینگے وہ ہے پرامن جد وجہد اپنے وسائیل کے ساتھ ورنہ جہاد اور مداخلت کے نام پر دنیا کو بھارت گمرہ کرتا رہے گا۔آزادی اپ کو بنیادی حق ہے لیکن راستہ بدلنا ہوگا ورنہ کھیل جاری رہے گا۔

تحریر: پروفیسر علی شفا

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website