روڈ ۔۔۔یا۔۔۔موت کا کنواں۔۔۔؟؟

0 0

تحریر : ایس ایس ناصری

سکردو سے 72 کلومیٹر دور دریائے سندھ کے کنارے گلگت ،اسلام آباد یا پنڈی جاتے ہوئے بیمانقپو سے اوپر کی طرف نظر ڈورائیں تو سنگلاخ چٹان کو کاٹ کر درمیاں سے بل کھاتی ہوئی سڑک نوئے درجے کی زاؤیئے کی طرح اوپر جاتی ہوئی نظر آئیں تو سمجھ لیجے گا کہ یہ خوبصورت سرزمیں طورک جانے والی سڑک ہے۔۔۔۔۔مگر اس سڑک کو دیکھنے کے بعد بے اختیار ہاتھ کانون سے لگ جاتے ہیں اور اچانک زبان پر استغفرالللہ کا ورد شروع ہوجائے تو ہوش میں آنے کے بعد تعجب نہ ہونا کیونکہ یہ فطری عمل ہے کہ جب خطرناک واقعہ یا جگہ اچانک نظروں کے سامنے آتا ہے تو بے اختیار اسطرح کے جملے زبان پر آنے کے ساتھ طرح طرح کی خیالات زھن میں آنا شروع ہوجاتے ہیں۔ اور اگر کسی جگہ کے بارے میں سوچتے ہیں کہ یہاں بسنے والے کسطرح کی زندگی گزارتے ہیں اگر جگہ سے ہٹ کریپ خیالات یا سوچ کسی علاقے میں بسنے والے لوگوں کو نامیسر سہولیات کے بارےمیں ہو مثلاً، صحت، تعلیم، سڑکیں، یادیگر ضروریات زندگی تو بلا خوف وخطر یہ ضرور سوچتے ہیں کہ ان سہولیات کے بناء یہاں کے باسی کسطرح زندگی گزارتے ہوں گے اور زھن میں طرح کے کے سوالات انہیں پل پل رلاریے ہوتے ہیں انہی سہولیات میں تعلیم کا اس وقت تک صحیح سمت میں معلوم نہیں ہوتا جب تک وہاں موجود تعلیمی اداروں میں جاکر جانچ پڑتال نہ کرے، صحت کے نظام کا اسوقت تک اندازہ نہیں ہوتا جب تک ان علاقوں میں موجود صحت کے اداروں سے واستہ نہ پڑے مگر ان علاقوں میں موجودتعلیمی اداروں، صحت کے شعبے سے وابستہ عمارتوں تک سب سے پہلے پہنچانے اور انکو ملانے والی سڑک کی بہتری یاابتری کا اندازہ اس سڑک کے کنارے پر قدم رکھنے سے ہی ہونا شروع ہوجاتے ہیں کہ آیا اس علاقے کو خطے اور ملک کے دیگر شہروں سے ملانے والی سڑک کی صورت حال کیا ہے یہاں میں سرزمیں طورمک کے عوام کو میسر دیگر سہولیات کا زکر نہیں کروں گا صرف ایک ہی سہولت کے بارے میں اپنے قارئیں کی توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں جو نہایت ہی اہم ہے۔معاشرے کی ترقی اور استحکام میں مواصلات کا کردار سب سے بڑھ کر ہوتاہے اورمواصلات کا سب سے اہم جز سڑک ہے جسکی بدولت شہری اور دیگر علاقوں کے باسی ایک جگہ سے دوسری جگہ نقل وحمل کرتے ہیں اور آپس میں بہت ساری چیزیں جو علاقے کے مفاد میں ہوتا ہے تبدیل کررہے ہوتے ہیں ۔آج کے اس ترقی یافتہ دور میں اگر دنیاء گلوبل ولیج بن چکی ہے اور اکثر لوگ اس کی وجہ ٹیگنالوجی کو قرار دیتے ہیں تو اس میں کوئی شک نہیں کہ نت نئے ایجادات نے دنیاء کو سمیٹ کر رکھدی ہے مگر یہان اس بات کو بھی نظر انداز نہیں کرسکتا کہ سڑکوں کی جال اور ترقی کی بدولت بھی مہینوں کا سفر ہفتوں اور ہفتوں کا سفر دنوں میں چینج ہوا ہے اور سڑک کا علاقوں اور شہروں، اور وادیوں سمیت ملکوں کی کی ترقی میں اہم رول ہے۔ایسے میں ہر انسان اور ہر خطے کی باسی یہ خواہش رکھتی ہے کہ انہیں بہتریں سڑک کی سہولیات ملے اور وہ بہ آسانی ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر کرسکیں اور اپنے علاقوں کو دیکھنے کیلے آنے والے سیاح کو روڈ کی وجہ سے پریشانی اٹھانی نہ پڑے ساتھ ہی اس خوبصورت علاقے کی امیج ٹوٹی پھوٹی اور خستہ حال سڑک کی وجہ سے خراب نہ ہو جس سے اس علاقے یا خطے کی سیاحت پر بھی اثر پڑے۔ مگر ستم اور بد نصیبی کی بات یہ ہے کہ علاقہ طورمک جوکہ بلتستان میں خوبصورتی کے لحاظ سے اپنی مثال آپ ہے اور ہر کوئی اس علاقے کا روخ کر رہے ہیں اور ایک طرف اسکی خوبصورتی سے خداوندِ متعال کی حمد ثناء زبان پر ہے تو دوسری طرف بیما نقپو سے اوپر جانے والی سڑک کی حالت سے ہاتھ کو کانوں سے لگا کر توبہ کر رہے ہیں اور کہ رہے ہیں کہ کبھی بھی اسطرح کی سڑک نہیں دیکھی تھی یہ تو سڑک نہیں موت کا کنو اں ہے۔انکی باتیں سنکر نہ صرف افسوس ہوتا ہے بلکہ خون کے آنسو روتا ہے کیونکہ ہمارے حکمران اسطرح کے علاقوں میں بسنے والوں کو انسان ہی نہیں سمجھتے اور انہیں سہولیات دینااپنا فرض نہیں سمجھتے۔۔اس خوبصورت علاقے کو گلگت بلتستان کے دیگر شہروں اور وادیوں کو ملانے والی اس سڑک کی خستہ حالی اور علاقے کے دیگر ایشو کو لیکر علاقے کے بزرگ عمائدیں اور علاقے سے درد رکھنے والی شخصیت نجف علی (چیرمیں )نے متعدد بار حکام بالاء کے دروازے کھٹکھٹائے لیکن نقار خانے میں طوطی کی آواز کوں سنے والی مصداق ہوگیااور کہیں پر بھی شنوائی نہیں ہوئی حالانکہ گزشتہ سال سابق کمشنر بلتستان ریجن حمزہ سالک اور تمام سربراہانِ ادارہ جات نے طورمک میں کھلی کچھری لگا کر عوام کو مسائل حل کرنے کی یقین دھانی کرائی تھی لیکں کھلی کچھری کے بعد وعدے، باتیں، سب بھول گئے اور ایک بھی مسئلہ حل نہ ہوا یہاں تک سردہ گان اور نجف علی نے کئی بار کھلی کچھری میں جو وعدے کئے تھے اسکا فالو اب لینے کیلے تگ ودو کیئے لیکں جوں کا تون رہا آخر کار تنگ آمد جنگ آمد والی بات پر عمل کرتے ہوئے طورمک سوربو سے لیکر دسو تک کے عوام نے بجف علی کی قیادت میں بارہ سے زائد کلومیٹر دور پیدل احتجاج کرتے ہوئے باغیچہ کے مقام پر شاہراہ بلتستان گلگت سکردو روڈ پر پہنچے جہاں آٹھ گھنٹے طویل دھرنا دیا اور اپنے مطالبات کیلے آوز اٹھائی آٹھ گھنٹے بعد انتظامیہ روندو سے کامیاب مزاکرات کے بعد سڑک ہرقسم کی ٹریفک کیلے کھول دی گئی اور انتظامیہ روندو کے سربراہ نے وعدہ کیا کہ تمام مسائل کے حل کو یقینی بنائیں گے یہاں میں دیگر مسائل کازکر دوسرے مضموں زیر قلم لانے تک نہیں کروں گا صرف اور صرف موضوع گفتگو ہماری سڑک ہے جس کی خستہ حالی نے درجن سے زائد انسانوں کو نگل لیا لیکں کسی کو احساس نہیں ہوا۔دھرنے کے بعد اےسی کی طرف سے کی گئی یقیں دھانیوں میں سے میرے زائع کے مطابق ابھی تک ایک فیصد پر بھی عمل نہیں ہواہے یہاں تک روڈ کی خستہ حالی اور شروع کے خطرناک دو موڑ کے بارے میں دھرنے کے شرکاء نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ یہ دو موڑ حد سے زیادہ خطرناک ہے جو کسی بھی وقت مسئلہ پیدا کر سکتا ہے واقعاً مظاہریں اور دھرنا دینے والے درست کھتے تھے دھرنا دینے کے فوراً ایک ہفتے بعد اس موڑ پر جسکی نشاندہی اسسٹنٹ کمشنر روندو کو کی تھی اور انہوں نے پی ڈبلیو ڈی تعمیرات روندو کے زمہ دار کو موڑ کشادہ کرنے کی ہدایت جاری کی تھی لیکن لیت ولعل سے کام لینے پر ڈمبوداس سے طورمک جاتے ہوئے ٹیوٹا گاڑی موڑ کاٹنے کیلے ریوریس لاگتےہی بے قابو ہو کر ہزاروں میٹر گھرائی میں جاگری جس سے تیں نوجوان جان بحق فاور کئی زخمی ہوئے۔جس کے خلاف علاقے کانمائندہ نجف علی میدان میں آئے اور متعلقہ اداروں کے سربراہاں کے خلاف تھانہ ڈمبوداس میں ایف آئی آر درج کرنے کیلے درخوست دی لیکں میرے علم کے مطابق ابھی تک نجف علی انصاف کیلے پولیس کے اعلیٰ حکام کے دروازے پر ٹھوکریں کھا رہے ہیں لیکن کوئی پرسان حال نہیں ہے۔۔۔یہان تک تین قیمتی جانون کے ضیاع کے بعد بھی سڑک سے متعلق یعنی محکمہ تعمیرات عامہ کے زمہ داران کو ٹس سے مس نہیں اور اس وقت سڑک کی حالت مزید انتہائی خستہ ہوگئی ہے کہ اسے سڑک لکھتے اور بولتے ہوئے ضمیر گوارہ نہیں کرتامگر کاغذات میں سڑک کے نام سے ہے تو مجبور ہوں ۔۔۔اگر محکمہ تعمیرات عامہ کے زمہ دار خواب خرگوش میں رہے اور غفلت سے کام لے تو اس سڑک پر مزید حادثات رونما ہو سکتے ہیں لھٰذا ضرورت اس امر کی ہے اس علاقے کی عوام پر ترس کھاتے ہوئے اور انہیں بھی انسان سمجھتے ہوئے فوراً ایکشن لیا جائے اور سڑک کی مرمت شروع کی جائے تاکہ کسی بھی بڑے حادثات سے محفوظ رہ سکیں ۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website