ہماری سرزمین گلگت بلتستان بھی امریکہ کی طرح نا دریافت ہے ۔گلگت بلتستان اپنے محل وقوع ‘ جغرافیائی اور ماحولیاتی حوالے سیدنیا کا ایک بے نظیر خطہ ہے جسے خود اس کے باشندوں نے ابھی تک دریافت نہیں کیاہے۔یہاں کے باشندے ہزاروں سال کی تاریخ کے ہر دورمیں ایک طبقہ اعلیٰ کے دست نگر رہی ہے۔یہاں قدیم ادوار ہو یا مقپونے اورتراخانے کی حکومت ہو یا ڈوگروں کی شخصی حکومت ہو یا ان سے آزادی کے بعد یہاں کے لوگوں نے ‘ پولیٹیکل ایجنسی کے غلامی کے تیس سال ہوں ان شخصیات اور ان کے کارندوںکے رحم و کرم پر گذارنا سیکھا ہے ۔شخصیت پرستی ان کے خون میں بس گئی ہے اور جب گلگت بلتستان میں بھی سیاسی آزادی اور جمہوریت کی صبح نمودار ہوی تو سب اس کی روشنی کے پیچھے لپکے۔لیکن یہ بھی ایک دھوکہ تھا ‘ جمہوریت کے نام پر وزیر صاحب ‘ ریذیڈنٹ کمشنر ‘ چیف سیکریٹری اور وزیر اعلیٰ کے چالیس چوروں نے بھی یہاں کے لوگوں کو اپنا غلام اورمحتاج رکھنے کے لئے نت نئے ڈرامے کئے۔ تاریخ میں کہیں نہیں ملتا کہ گلگت اور بلتستان میں کبھی کوئی ایسا قحط ٓیا ہو کہ لوگ بھوک سے مرگئے ہوں یا اپنے بچوں کو فرخت کریے ہوں۔یہ خطہ کم از کم اپنی خوراک کے سلسلے میں ہمیشہ خود کفیل رہا ہے اس کے باوجود ایسے ایسے کھیل کھیلے گئے کہ ہمارا پیٹ بھرا ہوا ہونے کے باوجود ایک تھیلہ آٹے کے لئے ڈیڑھ ماہ کھلے آسمان تلے سڑک پر دھرنا دینے میں بھی شرمندگی محسوس نہیں کی ‘ ایک ایک پیسے کے لئے اسلام آباد کی راہیں تکتے تکتے لوگوں کی آنکھیں پتھراجاتی ہیں کیونکہ جن انسان سے انا اور شعور چھینا جاتا ہے تو وہ حیوان کی سطح پر اترجاتا ہے۔ علامہ اقبال نے کیا خوب کہا تھا ’’جمہوریت اک طرز حکومت ہے جس میں ۔ بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے ‘‘۔لیکن اب اس جمہوریت کا سحر ٹوٹ رہا ہے جس میں لوگوں کو غلام بنائے رکھا جاتا تھا۔ایک دیوانہ ایک فرزانہ ایسا آیا اور اس نے تبدیلی کا ایسا نعرہ لگایا کہ پورے ملک کے لوگوں کے ذہن جھنجھنا اٹھے۔اس دیوانہ کا نعرۂ مستانہ یہی تھا ’’ اٹھو ! اپنے ہاتھ پاوں کے بل پر کھڑے ہوجاؤ ‘‘۔یعنی اللہ نے ا ٓپ کو بہت کچھ دے رکھا ہے ‘ اپنے وسائل کی بنیاد پر دنیا کا مقابلہ کرو۔اس نعرۂ مستانہ کے تناظر میںہم اگر اپنے خطہ گلگت بلتستان کی طرف دیکھیں تو بڑی حیرانگی ہوتی ہے کہ رب کریم نے اس خطہ کو کتنی بڑی رحمتوں سے نوازا ہے اور کتنے وسائل ہمارے دروازوں پرموجود ہیں جنہیں آج تک ہم نے دیکھنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی۔ گلگت بلتستان قدرتی وسائل کے اعتبار سے اس وقت دنیا کا سب سے امیرترین علاقہ ہے اور دنیا بھر کی دولت اس خطہ میں موجود ہے ۔یہاں نہ صرف بلور اور یاقوت و ۔۔۔کی کانیں ہیں بلکہ ایٹمی دھاتوں کا دنیا کا تیسرا بڑا ذخیرہ اور سونے کے وسیع ذخائر موجود ہیں۔یہاں کے ندی نالے سونا اچھالتے ہیں۔یہاں کے بلندترین چوٹیاں‘ طویل و وسیع گلیشیر اور جنت نظیر وادیاں اور دیہات دنیا بھر سے سیاحوں کو کھینچ لاتے ہیں ۔ یہاں زراعت کے بہت بڑے ذرایع موجود ہیں۔اللہ کی دی ہوی ان تمام قدرتی وسائل سے ہم پانچ سے دس سال کی مدت میں اتنے خود کفیل ہوسکتے ہیں کہ ہمیں اپنے ریگولر اور ترقیاتی منصوبوں کے لئے وفاق پاکستان سے کچھ مانگنے کی ضرورت ہی نہیںر ہے گی۔یہ تو ہوے کھربوں قیمت کے میگا وسائل ‘ میں آپ کو ایک ایسے چھوٹے قدرتی وسائل کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں جو بہت ہی آسان ‘ سو فیصد نقد آور ہے اور اس پر کام کرنے کی صورت میں ہماری ریجنل حکومت اور عوام دو یا تین سال کی مدت میں اربوں روپے کما سکتے ہیں وہ ہے ماہی پروری۔میری ذاتی معلومات کے مطابق ہمارے خطے میں تقریباً تیس کے لگ بھگ صاف اور ٹھنڈے پانی کی جھیلیں ہیں جن میں سے دو درجن جھیل اتنے وسیع ہیں کہ یہاں بہت بڑے پیمانے پر ماہی پروری کی جاسکتی ہے۔ تقریباً پچیس جھیلوں تک جیپوں اور ٹریکٹروں کے ذریعے آمد ہوسکتی ہے ۔ان پاک و صاف ٹھنڈے پانے کی جھیلوں میں دنیا کی اعلیٰ نسل کی مچھلی ٹراوٹ پالی جاسکتی ہے جہاں سے صرف تین سال کے اندر تجارتی مقاصد کے لئے ہر سال ٹنوں کے حساب سے بالغ مچھلیاں مارکیٹ میں پہنچائی جاسکتی ہیں ۔ اگر ان جھیلوں میں ماہی پروری دلچسپی اور کرپشن سے پاک طریقہ سے کی جائے تو یہ بہت جلد ایک بڑی انڈسٹری بن جائے گی۔اور ہم پورے ملک کو بر ٓمد کرسکتے ہیں۔جن علاقوں میں یہ جھیلیں ہیں ان کے قریب کی آبادی کو اس انڈسٹری میں حصہ دار بناکرایک میکنزم کے تحت اسے مکمل عوام کے حوالے کی جاسکتی ہیں تاکہ وہ خود ان کی دیکھ بھال کریں اوخود ہی حکومت کی مقرر کردہ قوائد اور ضوابط کے تحت جھیلوں سے پکڑیں اورحکومت کی مقرر کردہ قیمت پر کھلے عام فروخت کریں۔ اس سے جو آمدنی ہوگی اس کا بیس فیصد حکومت وصول کرے اوراسی فیصد اس کمیونٹی کو دیا جائے۔قارئین کے علم میں ہوگا کہ پچھلے تین چار عشرہ سے ضلع گنگچھے کے خوبصورت سیاحتی مقام ’’ سلینگ ‘‘ جو خپلو شہر کے بالمقابل دریا شیوک پار ہے ایک شخص نے اپنی زمین پر ٹراوٹ مچھلی کا چھوٹا سا فارم بنایا ہوا ہے اور وہ موسم کے اعتبار سے ا1000/- تا 2000/- روپے فی کلو کے حساب سے یہ مچھلیاں فروخت کرتا ہے اور لوگ دور دور سے مچھلیاں منگواتے ہیں۔یہ ایک انتہائی منافع بخش کاروبارلیکن بہت چھوٹے پیمانے پر ہمارے سامنے بڑی کامیابی سے چل رہا ہے۔کوئی وجہ نہیں کہ ہماری حکومت اور عوام باہمی اشتراک سے ہماری تیس جھیلوں میں یہ ماہی پروری شروع کرے تو کامیاب نہ ہو۔ اگرمارکٹنگ شروع کرنے کے ساتھ یعنی تیسرے سال30جھیلوں سے اوسطاً فی جھیل ایک ٹن(28 من) 37000 کلو مچھلی بازار میں آئے گی اور اگر فی کلو 500روپے میں فروخت کی جائے تو پہلے سال 00000/. 185 روپے کی سیل ہوگی ۔جس میں سے 20 فیصد یعنی /- 00000 37روپے گورنمنٹ کو ملے گا اور باقی 14800000/- روپے اس پروجیکٹ میں شامل کمیونٹی کو ملے گا۔تین سال کے بعد مچھلی کی افزائش بڑھتی جائے اور اسی حساب سے گورنمٹ اور کمیونٹی کی آمدن بھی بڑھتی جائے گی۔اگر اس پروجیکٹ کو گورنمنٹ اور کمیونٹی دونوں ایمانداری سے چلائیں تو ہر سال اس میں 1000000/- روپے کا اضافہ ہوتا جائے گا اور دس سال میں یہ پروجیکٹ( 110000000/- )گیارہ کروڑ سالانہ آمدن کا ذریعہ بن سکتا ہے ۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ ہمارے علاقہ میں مچھلی کی فراوانی سے پنجاب سے آنے والی مرغیوں اور گایوں کے نقصان دہ اثرات سے ہم بچ سکتے ہیں ۔اور ان پر ہمارا کروڑوں روپے پنجاب کو جاتا ہے وہ ہمارے درمیان ہی گردش کرے گا۔ ماہی پروری کوئی زیادہ محنت ومشقت والا کام نہیں ہے ان پر خرچ بھی بہت کم آتا ہے، اور ان کی صحت اور افزائش کو تیزی سے بڑھانے کے لئے بھی قدرت نے ہمیں بہت وسائل دئے ہوے ہیں۔ مثلا گرمیوں میں شہتوت کے درختوں سے پھل گر کر گلیوں اور کھیتوں میں خشک ہوجاتے ہیں اس کے علاوہ دوسری فصل کے طور کنگنی اور باجرہ کی کاشت کرکے انہیںخشک توت کے ساتھ ملاکر خزان میں ایک دو بار ان جھیلوں میں ڈالدی جائے تو یہ بہت صحت بخش اور گرم ہونے کی وجہ سے مچھلیاں جلد بڑے ہوجائیں گے اور ان کی قوت افزائش یعنی انڈے دینے کی صلاحیت میں بھی بہت اضافہ ہوگا۔اس کے علاوہ اگر کسی بھی گاوں کے لوگ اپنا ذاتی فارم بنائے اور اس منصوبے میں شامل ہوجائے تو حکومت اس کی حوصلہ افزاائی کرے ۔ ہمارے اپنے وسائل کو بہتر منصوبہ بندی کے ذریعے کرنے میں ہی ہماری اچھے مستقبل کی ضمانت ہے ۔ لیکن ہماری کاہلی ‘ قدامت پسندی اور بھیک پر گذارہ کرنے کی عادی بلیوں کے گلے میں گھنٹی کون باندھے ۔ عمران خان اور اس کے کارکن اسی تبدیلی کی گھنٹی باندھنے میدان میں آئے ہیں۔
تحریر: سید عباس کاظمی
More Stories
شاہراہ بلتستان ،شاہراہ قراقرم کی زبوں حالی اور سیاحت کا مستقبل۔
دیرینہ کارکنوں کی قربانیاں اور سیاسی جماعتیں
اقوام متحدہ میں گلگت بلتستان کا مقدمہ ہے یا نہیں ؟