گلگت بلتستان میں شاذ و نادر ہی ایسے تاریخی موڑآئے ہیں جب قدرت نے یہاں کے عوام کو اپنے اچھے مستقبل کے لئے بھرپور کام کرنے کے مواقع فراہم کیے اور کبھی پڑھے لکھے ‘ مخلص اور جاندار قیادت بھی دی لیکن کچھ اپنی سادگی اور جہالت اور کچھ پولیٹیکل ایجنسی سسٹم کے سیاہ بادلوں میں وہ مواقع کھودئے اور قیادت کے وہ نگینے لوگ جن میں سے دو غیر معمولی صلاحیتوں کے مالک افراد جنہیں عوام وکیل جوہر علی اور وزیر محمد صادق کے نام سے جانتے ہیں سر فہرست ہیں۔ اگر عوام ان کا بھرپور ساتھ دیتے تو ان میں اتنی صلاحیت اور ہمت تھی کہ وہ یہاں کی کایا پلٹ دیتے اور گلگت بلتستان اس ملک میں سیاسی اور اقتصادی طور پر صف اول میں ہوتے۔یہ دونوں بہترین صفتوں کے قائد جنہیں اپنی قوم نے بھی اچھی طرح کام کرنے نہیں دیا اب قصہ پارینہ بن چکے ہیں۔اور ایک طویل عرصہ تک یہاں کے عوام بھوکے جانوروں کے ریوڑ کی طرح جس نے بھی تھوڑی سی گھاس دکھائی کبھی ایک کے پیچھے کبھی دوسرے کے پیچھے بھاگتے‘ لڑتے اور ایک دوسرے کا ہی گوشت نوچتے رہے۔قدرت نے ہمیشہ بنی انسان کو ہر اندھیرے کے بعد سحر کی نوید دی ہے ‘ کوئی ایک امیدکا ستاراطلوع ہوتا ہی ہے ۔ اور جو لوگ اس ستارۂ امید کے ساتھ اٹھ کر زندگی کی تگ و دو میںلگ جاتے ہیں وہ کامیاب ہوجاتے ہیں اور جو ابھی وقت ہے کہہ کر سوتے ہیں وہ سوئے ہی رہتے ہیں اور دنیا بہت آگے نکل جاتی ہے ۔وطن عزیز پاکستان میں بھی ایک طویل مدت اور بسیار خرابیوں کے بعد قدرت نے ایک ایسی قیادت عطاکی ہے جو نہ صرف ایماندار ‘ اپنے عوام سے دل سے پیار کرنے والا ایک ایسا باہمت شخصیت ہے جو دنیا کے کسی بھی آمر یا کسی طاقتور ترین ملک کے طاقتور ترین صدر کی آنکھوں میں ڈال کر بات کرنے اوراسے قائل کرنے کی صلاحیت کا حامل ہے ۔ پوری دنیا نے دو دن قبل دیکھا کہ پاکستان تحریک انصاف کے قائد اور وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب نے جس طرح ٹرمپ جیسی طاقتور ترین صدر کو کیسے آگے لگایا کہ وہ پاکستان کے دیرینہ مسئلہ ’’ تنازعہ کشمیر‘‘ کو حل کرنے کی پیشکش کی ۔جناب عمران خان نے جس ذہانت اور دلائل کے ساتھ امریکہ کو اپنی پالیسی میں تبدیلی لانے پر مجبور کیا جو کہ پاکستان کی ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔عمران خان صاحب کے دل و دماغ میں پاکستان کے لئے ایک پاک و صاف معاشرہ کا واضح نقشہ موجود ہے جس پر عملدر آمد شروع ہوچکا ہے اسی لئے تو کرپٹ ‘ خائن اور چور لوگوں کے منہ سے چیخین نکل رہی ہیں ۔عمران خان صاحب کے اس نظریہ نے اب اپنی پوری طاقت کے ساتھ گلگت بلتستان کا رخ کیا ہے اور اسی کے تحت انہوں نے گلگت بلتستان کی موجودہ دور میں سے مضبوط ‘ بے داغ کردار اور اعلیٰ تعلیم یافتہ قانون دان جناب جعفر شاہ صاحب کے کاندھوں پر گلگت بلتستان کی بدترین صورت حال کو سنوارنے اور انہی کے آئیڈیالوجی کے تحت اسے ایک ترقی یافتہاور خود کفیل ریاست بنانے کی ذمہ داری ڈالی ہے ۔شاہ صاحب کی شخصیت اوراب تک کی زندگی سے ہم سب اچھی طرح واقف ہیں اور ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ وہ امید کا تارا جس کے طلوع کے انتظا ر میں قوم کی آنکھیں تھک چکی تھیں اب افق پر طلوع ہوا ہے اور لوگوں نے سکھ کا سانس لینا شروع کیا ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان صاحب نے گلگت بلتستان سے بہترین سیاسی اور عوامی سوجھ بوجھ رکھنے والی شخصیات حاجی شاہ ناصر صاحب ‘ فتح اللہ صاحب ‘ اور اکبر حسین اکبر صاحب کو جعفرشاہ صاحب کی مدد کے لئے ساتھ کردیا ہے ۔ حاجی شاہ ناصر صاحب سے میری ملاقات اب تک نہیں ہوی ہے ۔ دوستوں کا کہنا ہے کہ وہ نہایت سنجیدہ ‘ امن پسند اور پارٹی کے اولین سپاہیوں میں سے ہیں۔ البتہ ان کے والد مرحوم حاجی قدوس صاحب جب وہ کونسل کے ممبر تھے وزیر صادق مرحوم کی معیت میں ان کے ساتھ ہماری کافی گپ شپ رہی ہے ۔فتح اللہ صاحب سے بھی میری کوئی شناسائی اب تک نہیں ہے ۔لیکن یہ بات میرے سامنے ہے کہ پچھلے کئی سالوں سے نا مساعد حالات کے باوجود تحریک انصاف کی کشتی کو محفوظ رکھنے اور اب اسے ساحل تک پہنچانے کی کامیاب کوشش کی ہے ۔جناب اکبر حسین اکبر میرے پرانے شناسا ‘ دوست اور ایک متوازن مزاج کے بہت تجربہ کار صحافی ہیں اور وہ اپنی فطرت میں ہی لفافہ والے صحافیوں سے قطعی مختلف سچ اور حقایق کا ساتھ دینے والے اہل قلم ہیں۔میں ان کے بارے میں یہی پیش گوئی کرسکتا ہوں کہ وہ نہ صرف گلگت بلتستان میں مختلف الخیال اور مختلف المسالک بھائیوں کے درمیان بہترین برادرانہ ماحول کو مزید تقویت دینے کے علاوہ جناب عمران خان کے نظریہ ریاست مدینہ کی اصل خوشبو اور گلگت بلتستان میں پاکستان تحریک انصاف کے عوام دوست ‘ غریب پرور اور ہر ایک کے لئے انصاف کے پروگرام کو یہاں کے عوام کے دلوں تک پہنچانے کے لئے اپنی بہترین صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کریں گے۔گلگت بلتستان کے عوام نے کئی دہائی ایف سی آر کے اندھیروں ‘ مارشل لاء کے جبر اور کرپشن اور اقربا پروری کے سیلابوں میں لٹتے پٹتے زندگی گذاری ہے۔اب ستر سالہ تاریکی کے دور کے بعد اب جو نئی روشنی پھیلنے والی ہے یہ ایک ایسا موقع ہے کہ اگر اس روشنی کا دل سے ساتھ نہ دیا تو غربت ‘ استحصال اور کرپشن کا تاریک کنواں ہی ہمیشہ کے لئے ان کا مقدر بن جائے گی ۔لیکن اب ہمارے عوام اب کافی تجربہ کار ہوچکے ہیں ‘ بہت ٹھوکریں کھائی ہیں لہذا میں یہ توقع کرتا ہوں کہ گلگت بلتستان کے پندرہ لاکھ عوام اپنی بہتر مستقبل اور ایک باعزت خود کفیل قوم بننے کے لئے جناب عمران خان صاحب کے عوام دوست نظریہ اور جناب جعفر شاہ صاحب کی بے لوث اور ایماندارشخصیت اور ان کے ٹیم کا بھرپور ساتھ دیں گے ۔ عوام کے ساتھ پی ٹی آئی کے ہر سینیر اور نوجوان ممبر اور خواتین کی اب یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ایک نئے جوش و جذبے کے ساتھ نکلیں ‘ گلی گلی ‘ گاووں گاووں ‘ ہر وارڈ ہر محلہ میں جائیں اور عمران خان صاحب کے وژن کو ان تک پہنچائیں اور انہیں خواب غفلت سے جگائیں اور پاکستان تحریک انصاف کے جھنڈے تلے ایک خوشگوار اور خوشحال مستقبل کے انقلاب کے لئے راستہ ہموار کریں ۔
ناچو ستارو ناچو ! اب چاند نکلنے والا ہے
تحریر: سید عباس کاظمی
More Stories
شاہراہ بلتستان ،شاہراہ قراقرم کی زبوں حالی اور سیاحت کا مستقبل۔
دیرینہ کارکنوں کی قربانیاں اور سیاسی جماعتیں
اقوام متحدہ میں گلگت بلتستان کا مقدمہ ہے یا نہیں ؟