سرزمین بلتستان میں نوجوانوں کی بیداری کا راز کیا ہے؟

0 0

گلگت بلتستان کے کسی بھی علاقے میں جب بھی کوئی واقعہ پیش آئے یا قومی حقوق کی جدوجہد ہو ،سب سے پہلے بلتستان کے نوجوان اور سول سوسائٹی کے لوگ سوشل میڈیا اور گراونڈ میں متحرک ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بلتستان کی سخت زمین کو نرم کرنے کیلئے منتظم سرکار ہر قسم کے حربے استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن آخر میں جیت عوام کی ہوتی ہے۔ سوشل میڈیا پر بلتستان کی بیداری کے حوالے سے جہاں تعریف اور تہنیت کے الفاظ پڑنے کوملتی ہے وہیں یہ بھی گماں کیا جاتا ہے کہ بلتستان میں چونکہ ایک ہی عقیدے کے لوگ بستے ہیں لہذا تعلق جس بھی پارٹی سے ہو لیکن وہاں کے نوجوانوں میں ایک ملی اتحاد نظر آتا ہے۔ لہذا آج سوچا کہ اس حوالے سے کچھ لکھا جائے۔
بلتستان گلگت بلتستان کا وہ گلدستہ ہے جو پانچ رنگ کے گلدستے کی سرزمین ہے ۔لہذا یہ کہنا غلط ہے کہ بلتستان میں ایک ہی عقیدے کے لوگ بستے ہیں،بلتستان میں اہل تشیع مکتب فکر کی تعداد اکثریت میں ضرور ہے مگر دوسری طرف مسلک نوربخشیہ بھی تعداد میں کچھ نہیں ۔اسی طرح اہلسنت مسلک جماعت اہل حدیث اور جماعت اہلسنت سے تعلق رکھنے والوں کی تعدا د میں کثیر تعداد میں آباد ہیں اور اس بھی بڑھ کر خوشی کی بات یہ ہے کہ سکردو بازار میں آپ تمام مسالک کے لوگوں کو ایک ہی مسجد میں اپنے عقیدے کے مطابق نماز ادا کرتے دیکھیں گے جو کہ بحیثیت قوم بلتی قوم کی یکجہتی کا اصل راز ہے۔ مگر بدقسمتی ہے ہر دور میں کچھ ضمیر فروش لوگ بیرونی دنیا تشریف لاکر ذاتی مفادات مراعات کیلئے بلتی قوم کو تقسیم کرنے کی بھی کوشش کرتے ہیں لیکن زندہ دل نوجوانوں کی وجہ سے یہ سازش بھی آج تک ناکام ہی رہا ہے اور آج جب سوشل میڈیا کا دور ہے تو اتحاد بلتستان مزید مستحکم نظر آتا ہے۔
یہاں یہ بات ثابت ہوگیا کہ ایک ہی عقیدے کا ہونا بلتستان کے عوام کی بیداری کی علامت نہیں بلکہ شعور اور اگہی اور معاشرتی ذمہ داریوں کا احساس ہر شخص کے اندر ہونا بلتستان کے عوام کی بیداری کی اصل وجہ ہے۔ کیونکہ اگر ایک ہی عقیدے کے لوگ ہونے سے نئی نسل بیدار ہوتے تو سب سے پہلے ہنزہ کے عوام کو گلگت بلتستان کے معاملات میں سب سے آگے بڑھ کر جہدوجہد کرنے کی ضروری تھی کیونکہ ہنزہ جہاں گلگت بلتستان کا سوفیصد خواندہ ضلع ہے وہیں ضلع ہنزہ کے لوگ مالی طور پر بھی دوسرے اضلاع سے قدرے مستحکم ہے وہیں ضلع ہنزہ میں اکثریت مسلک شیعہ اسماعیلی بستے ہیں۔ اسی طرح اگر ہم ضلع نگر کی بات کریں تو ضلع نگر میں مسلک اہل تشیع کے لوگ اکثریت میں بستے ہیں لیکن ضلع نگر والوں کو بھی ہم نے آج تک قومی معاملات میں اجتماعی ذمہ داریاں نبھاتے نہیں دیکھا۔ البتہ جو لوگ انفرادی حیثیت میں کوشش کرتے ہیں وہ الگ ہے۔ اسی طرح ضلع غذر کی بات کریں تو یہ  ضلع بھی بلتستان کے بعد دوسرا متحرک ضلع ہے اور اس سرزمین نے قومی رہنماوں کو جنم دیا ہے لیکن عوامی سطح پر پذیرائی کم دکھائی دیتا ہے ۔ضلع غذر میں میں بھی مسلک شیعہ اسماعیلی کے لوگ پہلے نمبر پر اور مسلک اہلسنت دیوبند اور اہل حدیث دوسرے نمبر پر آتا ہے۔یوں یہاں بھی اکثریت کا مطلب بیداری نہیں ہوئے۔ آخر میں اگر ہم ضلع دیامر کی بات کریں تو دیامر میں مسلک دیوبند اکثریتی تعداد میں جبکہ دوسرے نمبر پر مسلک اہل حدیث کے لوگ آباد ہیں لیکن یہاں بھی ہم نے اکثریت ہونے کی وجہ سے عوام کو قومی حقوق کی جدوجہد میں کبھی متحرک نہیں دیکھا یہی صور ت استور ڈویژن کا بھی ہے۔
پس یہاں یہ بات معلوم ہونا چاہئے کہ قومی کاز میں عقیدہ،لسانیت اور علاقائیت کی آمیزش ہمیشہ کاز کو خراب کرتی ہے اور آغیار کو عوام میں تفرقہ ڈالنے اور کاز خراب کرنے کا موقع ملتا ہے ۔لہذا میرا ذاتی خیال ہے کہ سرزمین بلتستان گلگت بلتستان کے دیگر اضلاع کے نواجوں کیلئے مشعل راہ ہے اور اس سرزمین پر بلتستان اسٹوڈنٹس فیڈریشن جیسے طلباء تنظیموں نے نہ صرف نئی نسل کی سیاسی اور معاشرتی تربیت کی بلکہ اس قوم کو شعور دیا اور شعور ہی انسان کو معاشرے میں متحدہ کرسکتا ہے ۔لیکن بدقسمتی سے گلگت بلتستان میں جب بھی شعور کا سورج طلوع ہونا شروع ہوجائے اچانک ایسا ماحول پیدا کرتا ہے کہ عوام واپس اپنے اپنے عقیدوں،زبانوں اور علاقوں کے بلوں میں واپس چلی جاتی ہے۔ جس کی تازہ مثال شندور کے تنازعے پر عوامی سطح پر مکمل خاموشی اور ہندورپ نالے پر قبضے کی کوشش اور کئ افراد کو اغواء کرنے کے باوجود معاشرے میں سناٹا اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ یہاں اتحاد بحیثیت ایک نیشن کے بجائے لالچ کی بنیاد پر کی جاتی ہے ۔

تحریر : شیر علی انجم

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website