آئینی حقوق_کی متلاشی .گلگت بلتستان

0 0

#تعارف

72971مربع کلومیٹر وسیع رقبہ پر مشتمل گیٹ وے ٹو سی پیک گلگت بلتستان ایک اعظیم خطہ ہے یہاں کے عوام سادہ لوح اور سادہ رہن صحن ،زرایع آمدنی کھتی باڑی، علاقے میں سو فیصد مسلمان آباد ہیں.
#خدوخال

جنوب میں ازاد کشمیر مغرب میں کے پی کے شمال میں افغانستان اور مشرق میں دوست ملک چین واقع ہے. یہاں مختلف زبانیں بولی جاتی ہے جن میں زیادہ تر شینا (آرین) اور بلتی( تبتی) سمیت دیگر سات زبانیں بولی جاتی ہیں.سات ہجری سے انیس ہجری تک یہاں مغلوٹ، عیاشو،تراخان کے مشہور خاندان کی چرچے تھے.

#آینی_حقوق_میں_ رکاوٹیں

اقوام متحدہ کے قرار داد کے مطابق یہ علاقہ کشمیر کا حصہ ہے.لیکن یہاں کے باشندے اس بات سے اتفاق نہیں رکھتے.1935 کو انگریزوں نے اس خطے کو اُس وقت کے ڈوگروں سے بطور لیز پر لیا اور اس کو انتظامی اکای قرار دے دیا.کرنل ڈیورنڈ کو اپنا پولیٹیکل ایجنٹ مقرر کیا. برصغیر کی تقسیم کے وقت اس علاقے کی مہاراجہ جموں کشمیر کو واپس کر دیا.جموں کشمیر کے انتخابات باقاعدگی کے ساتھ منقعد ہوئے گلگت سے پانچ نمائندوں کی کشمیر اسمبلی میں نمایندگی بھی تھی.گورنر مہاراجہ گھنسارہ سنکھ علاقے کو ہندوستان میں زم کرنے کی درپے تھا لوگوں نے نومبر 1948 کو مہاراجہ کے خلاف بغاوتی تحریک چلائی اور گھنسارہ سنگھ کو گرفتار کر کے شاہ ریس خان کو نیا گورنر بنایا گیا.اور پاکستان کے ساتھ الحاق کر دیا گیا.بانی پاکستان قاید اعظم محمد علی جناح نے سردار عالم خان کو نیا پولٹیکل ایجنٹ مقرر کر دیا جس نے 13 دسمبر 1948 کو علاقے کا نظام سنبھالا معاہدہ کراچی کی تحت اس علاقے کا جملہ انتطام وزارت امور کشمیر کو سونپ دیا جو پولیٹیکل رزیڈنٹ کے زریعے نظام چلانے لگا.علاقے میں پہلی سیاسی جماعت کی بنیاد کرنل حسن خان نے گلگت لیگ کی طرز پر رکھی جو کہ زیادہ عرصہ نہ چل سکی اس طرح 1958 کے مارشل لا کے ساتھ دفن ہو گئے.1969 جنرل یحییٰ خان نے نادرن ایریاز ایڈوائزری کونسل کے نام پر ایک مجلس مشاورت قایم کی.1970کو پہلی دفعہ علاقے میں انتخابات ہونے لگا جس کی تحت 16 اراکین منتخب ہوئے یہ پہلی منتخب مجالس مشاورات تھی.پہلی رزڈینٹ اس مجلس مشاورت کی صدارت کرنے تھے بعد میں وزیر امور کشمیر اس کے صدر مقرر ہوے.1948 سے اب تک اس علاقے کا انتظام ایف سی آر کی تحت چلایا جا رہا تھا اس کو لے کر یہاں 1971 میں تنظیم ملت نامی تنظیم سے تصادم ہوا ہلاکتیں گرفتاریاں ہوئی جس کے بعد 1972 میں ذولفقار علی بھٹو نے دورہ کیا اور ایف سی آر کے خاتمے کا اعلان کر دیا.1975 میں پی پی پی نے اپنی سیاست کا آغاز کی اور باقاعدہ بنیاد رکھی اس طرح یہاں قومی و سیاسی جماعتوں کی سیاست کا آغاز ہوا. 1978.میں احمد علی شاہ کو وزیر اعظم محمد خان جنجو کا مشیر مقرر کر دیا گیا.1993 میں پی پی کے ہی دور میں نئی اصلاحات متعارف کرائی گئ جس کی مطابق ناردرن ایریاز کونسل کی نشتیں 18سے بڑھا کر 26 کر دی گئی جماعت کے سابق صدر اصف زرداری کے دور میں ایک صدارتی آرڈینینس سلف گورننس 2009 جاری ہوا جس کی بعد گگت بلتستان کو نئی وزارت اعلیٰ ملی اور ایک کونسل کو قانون ساز اسمبلی کا درجہ دیا گیا.کونسل کی صدر وزیر اعظم پاکستان اور نائب صدر گورنر گلگت بلتستان ہے. صوبہ اسمبلی میں کل 33 نشستیں ہیں جن میں24 جنرل 6 خاتوں اور 3 ٹیکنوکریٹس ہے.

#درپیش_مسائل

اب اتے ہے یہاں کے عوام کو در پیش مسائل اور آینی و عبوری صوبہ کی ڈیمانڈ پر…یہاں کی عوام نے اُس وقت کے ڈوگروں سے اپنی مدد آپ جنگیں لڑ کر اس اہم خطے کو آزاد کیا اور بلا کسی شرط شروط پاکستان کے ساتھ الحاق کر دیا..جس کا صلہ آج پاکستانی حکومت خوب دے رہی ہے ..نہ آینی حقوق نہ صوبے کا درجہ نہ سٹیٹ سبجیکٹ رول کی بحالی.آخر کس کے کہنے پر یہ سب کر رہی ہے؟1984 میں جب یہاں قراقرم ہائی وے بنائی تو پاکستان حکومت کو مجبوراً اس علاقے کو اہمت دینی پڑی جس کی مطابق پہلے سے زیادہ بہتر سہولیات دی گئ گلگت و بلتستان کا نیا مجوزہ صوبہ دو ڈویژنز بلتستان اور گلگت پر مشتمل ہے.علاقے کی آینی حقوق کی حوالے سے کچھ ماہ پہلے پاکستان کے اعلیٰ عدلیہ نے گلگت بلتستان کے عوام کو بنیادی آئینی حقوق فراہم کرنے کا حکم دیا .عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ پاکستان اور بھارت اپنے زیر انتظام علاقوں کو زیادہ سے زیادہ حقوق دینے کے پابند ہیں،گویا بھارت اپنی زیر انتظام علاقوں کو تمام سہولیات دیے ہیں.. عدالت نے مثال کے لیے 1999 کے الجہاد کیس کا حوالہ دیا جس میں سپریم کورٹ گلگت بلتستان کو بنیادی حقوق فراہم کرنے کا حکم دے چکی تھی۔فیصلے میں عدالت نے قرار دیا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے اختیارات گلگت بلتستان میں بھی نافذ العمل ہیں، سپریم کورٹ کے اختیارات کو محدود نہیں کیا جاسکتا اور گلگت بلتستان کا کوئی بھی قانون سپریم کورٹ میں چیلنج ہوسکتا ہے فیصلے میں مزید کہا گیا کہ گلگت بلتستان کی عدالتیں اور سپریم ایپلٹ کورٹ کا اختیار صرف گلگت بلتستان تک محدود ہے جبکہ یہ عدالتیں گلگت بلتستان آرڈیننس کے ساتھ ساتھ آئین پاکستان کی بھی تابع ہیں.چناچہ گلگت بلتستان سپریم اپیلٹ کورٹ صدارتی آرڈیننس کالعدم قرار نہیں دے سکتی البتہ یہ عدالتیں گلگت بلتستان کونسل کی قانون سازی پر نظر ثانی کرسکتی ہیں، علاوہ ازیں گلگت بلتستان کی عدالتوں کو پاکستان میں آئینی اختیارات حاصل نہیں ہیں. مزید یہ کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے صدارتی آرڈیننس میں ترامیم تجویز کی ہیں اور قرار دیا کہ صدارتی آرڈیننس میں صرف آئین کے آرٹیکل 124 میں درج طریقہ کار کے مطابق ہی ترمیم ہو سکتی ہے لہٰذا اگر پارلیمنٹ اس صدارتی حکم میں تبدیلی یا ترمیم کرے تو سپریم کورٹ آئین کے تحت اس کا جائزہ لے سکتی ہے.علاوہ گلگت بلتستان آئینی حیثیت کا مسودہ قانون کو حتمی شکل دینے کیلئے کمیٹی تشکیل دی عدالت نے ہدایت کی کہ وفاق کی سفارش پر صدر پاکستان مجوزہ عدالتی حکم کو نافذ کریں .اس سے قبل ہونے والی سماعت میں چیف جسٹس نے ریمارکس دیے تھے کہ گلگت بلتستان والوں کا کہنا ہے کہ انہیں اختیارات نہیں دیے جا رہے، جس پر اٹارنی جنرل نے بتایا تھا کہ قانون سازی اور انتظامیہ کے تمام اختیارات دے رہے ہیں.ان کا کہنا تھا کہ ہم نے گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کے مسودے میں آئین پاکستان پر عمل کی کوشش کی ہے، الگ صوبہ نہیں بنا سکتے لیکن تمام صوبائی اختیارات دیں گے. اسی سماعت کے دوران ڈپٹی ایڈووکیٹ جنرل گلگت بلتستان نے کہا تھا کہ یہ مسودہ ابھی ہمارے سامنے نہیں آیا، ہمیں اجازت دیں کہ اپنی سفارشات بھی دیں.جس پر اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا تھا کہ ہماری کوشش ہے کہ گلگت بلتستان والوں کے تمام مطالبات منظور کرلیں، اس پر چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا تھا کہ انہیں تمام صوبائی اختیارات ملنے چاہیں، جو اختیارات باقی صوبوں کو حاصل ہیں وہی گلگت بلتستان کو حاصل ہوں گے.اب تک یہ فیصلہ نہ ہو سکا کہ اس اہم خطے کو آینی حقوق کیسے دیا جاے.ادھر کشمیر لابی ہر فورم پر سراپا احتجاج ہیں کہ گلگت بلتستان متنازعہ جموں کشمیر کا حصہ ہے جب تک کشمیر کا مسلہ حل نہ ہو جاتے اس علاقے کو آینی حقوق دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا.گلگت بلتستان کے عوام پاکستان حکومت سے یہ بھی مطالبعہ کر رہی ہے کہ اگر مکمل آینی سیٹ اپ نہ دیے سکتے تو کم از کم کشمیر طرز کی سیٹ اپ دیا جاے مگر اس بات پر پاکستان حکومت اب تک خاموش نطر اتے ہیں.

#سی_پیگ_میں_فریق

ایک طرح دیکھا جاے تو گلگت بلتستان اس وقت چاینہ پاکستان کیلے ایک پل کی مانند حثیت رکھتی ہے اور اب یہاں کی سینکڑوں رقبع سی پیک کیلے بھی استعمال ہونگے.سی پیک میں اس اہم خطے کو ایک فریق کی حثیت ہے مگر اب تک اس پر کسی نے کوی بات نہیں کی. ادھر چاینہ کئ بار پاکستانی حکومت پر دباو ڈالی ہے کہ اس اہم خطے کو آینی حقوق دیا جاے جس سے سی پیک کو در پیش مسائل میں کمی ہو گی.مسلم لیگ ن کی دور حکومت میں اس اہم ایشو کو حل کرنے کیلے سرتاج عزیز کمیٹی بنی جو کہ اگے نہ چل سکی. موجودہ حکومت کو چاہیے کہ اس خطے کو آینی حقوق دیلانے میں اقدامات اٹھاے. وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان آمین گنڈا پور کی علاقے سے کوی دلچسپی نطر نہیں اتے جس کا واضح مسال ان کی وزارت سنمبھالے کئ عرصہ ہونے کی باوجود اب تک دو دفعہ علاقے کا دورہ کیا جس میں انہوں نے کوی ایک اہم امور پر بھی کسی سے بات نہ کی.

#حالیہ_تحفطات

وفاقی وزیر صحت یاسمین راشد ان دنوں علاقے کی دورے پر اس وقت سکردو پوہنچی ہوی ہے جہاں ان کو پی ٹی آی کے رہنماوں نے آمین گنڈا پور کا کھل کر شکایات بھی کیے. حالیہ وفاقی پی ایس ڈی پی میں گلگت بلتستان کو 64ارب دیے جس میں 57 ارب گلگت ریجن کیلے اور صرف 7ارب بلتستان ریجن کو دیا جس پر بلتستان ریجن کے عوام کو شدید تحفظات ہیں. وزیر اعظم پاکستان کو چاہیے کہ ایسے فنڈذ کی تقسیمات میں عدل کا پیمانہ برابری کی بنیاد پر رکھا جاے.غیر آینی حدود میں موجود زمینیں سرکار اپنی مرضی سے تحویل میں لے رہی ہیں سٹیٹ سبجگٹ رول کی بحالی اب یہاں خواب بن گئ ہے.آینی حقوق کی حصول کیلے یہاں کے کئ قوم پرست رہنما سمیت قومی جماعتیں میدان میں موجود ہیں.بہت سے قوم پرستوں کو بلا کسی جرم کی جیلوں میں بند کر دیے عوامی حقوق پر بات کرنا اب یہاں جرم بن گئے ہیں. آینی حقوق پر احتجاج کرنے والے بڑے مجرم قرار دی گئ اور باقاعدہ شیڈول فور میں بھی ڈال دی گئ.آزادی اور حقوق مانگنے کی پاداش میں یہاں کے اکثر رہنماوں کو اب بھی شیڈول فور میں ڈالا ہوا ہے. تحریک انصاف حکومت سمبھالے سال ہونے کو ہے اب تک کسی بھی ایشوز پر یہاں کے عوام سے بات نہ کرنا انتہای افسوس کی بات ہے.اُمید ہے اس اہم خطے کو جلد ہی آینی حثیت سے نوازا جائے گا.

تحریر ۔ مظاہر حسین ہلال آبادی

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website