آج دوپہر میں نور خان ائیر بیس ائیرپورٹ سے گزرتے ہوئے جب سڑک کے بائیں جانب لگے سائن بورڈ جس پر کاشانہ گلگت بلتستان لکھا ہوا تھا اس پر نظر پڑی تو سوچا کہ اندر جایا جائے تاکہ سلام دعا بھی ہو جائے گی اور ساتھ ہی ساتھ وزیر اعلی یا چیف سکریٹری کے اسلام آباد وزٹ شیڈول کے بارے میں بھی کچھ معلومات حاصل ہوگی۔
جیسے ہی مین روڈ سے اندر کی طرف مڑا تو بائیں جانب بڑا سا گیٹ جو کہ مکمل طور پر کھلا ہو ا تھا اور سائیڈ پر مطلوبہ سائن بورڈبھی لگا ہوا تھا۔ چونکہ کوئی سیکورٹی عملہ موجود نہیں تھا لہذا میں آفس کی طرف چل پڑا جہاں پر کو آرڈنیشن سیکریٹری کا بورڈ لگا ہوا تھا اور ساتھ ہی ایک چھوٹے سے آفس میں کچھ لوگ بیٹھے ایک دوسرے سے با ت چیت میں مصروف تھے۔جب ان سے پوچھنے کے بعد کوئی معلومات حاصل نہیں ہو سکی تو میں نے مناسب سمجھا کہ کوآرڈنیشن سیکریٹری کے آفس سے پتا کرلوں۔ دستک کے بعد بھی جب کوئی جواب نہیں ملا جبکہ اس آفس سے ملحقہ ایک اور آفس سے کچھ لوگوں کی باتیں کرنے کی آوازیں آرہی تھیں۔ لہذا میں اس آفس کی طرف بڑھا۔ آگے بڑھنے سے پہلے آپ کو بتاتا چلوں کہ سوائے ایک کمرہ جس پرکوآرڈنیشن سیکریٹری کا بورڈ آویزاں تھا اورکسی بھی آفس کے دروازے پر کوئی بھی سائن بورڈ نہیں لگا ہوا تھا۔ جب میں آگے بڑھا اور اس آفس نما کمرے تک پہنچا جسکا دروازہ کھلا ہوا تھا جہاں پر تین افراد صوفے پر براجمان آپس میں خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ میں ابتدائی دعائیہ کلمات کے بعد کسی ذمہ دار فرد کے بارے میں ابھی پوچھنے ہی لگا تھا کہ ان میں سے ایک شخص اٹھا اور مجھے اپنے ساتھ با ہر کی طرف آنے کا اشارہ کیا۔ میں نے سوچا شائد وہ مجھے کسی ذمہ دار آفیسر سے ملا نے جا رہا ہے لہذا میں انکو فالو کرتے ہوئے باہر کی طرف نکل آیا۔ آفس سے باہر برآمدے میں پہنچنے کے بعد وہ یک لخت رک گیا اور انگریزی میں مجھ سے پوچھنے لگا کہ آپ کو کس نے اجازت دی اندر آنے کی، کیا آپ کو آفس ڈیکورم کا معلوم نہیں۔پہلے میں نے انتہائی معذرت خواہانہ انداز میں عرض کیا کہ جناب آپ جو بھی فرما رہے ہیں وہ بجا ہے لیکن کیا آپ کو معلوم ہے جو کچھ آپ فرما رہے ہیں وہ اور جو آپ کے آفس کے زمینی حقائق ہیں وہ بلکل محتلف ہیں۔ چلو آپ کی بات مان لیتے ہیں اور آفس ڈیکورم کی بات کرتے ہیں۔ آپ سے میں گزارش کروںکہ کس ڈیکورم کی آ پ بات کررہے ہو ۔ میں آپ کو عرض کرتا ہوں کہ آفس ڈیکورم کیا ہوتا ہے۔ ہر آفس ہولڈ ر کی یہ ایک اخلاقی ذمہ داری ہوتی ہے کہ آنے والے وزیٹرز کو پروفیشنل طریقے سے ویلکم کرے،عزت دے، آنے کا مقصد پوچھے، مطلوبہ ذمہ دار آفیسر سے ملائے اور انکے مسائل کا حل نکالے تاکہ وہ لوگ جن کے ٹیکس کے پیسوں سے آپکی یہ شاہانہ طرز زندگی، پر آسائش آفس ، چمچماتی گاڑیاں اور ان گاڑیوں میںپیٹرول کی شکل میںجلنے والے انکے خون سے جو تکلیف ان کو پہنچتی ہے اس تکلیف میں تھوڑی سی کمی ہو۔اگر آپ انکے مسائل حل کرنے کے قابل نہیں تو پھر آپکو اس آفس سمیت دوسرے سارے سرکاری سہولیات کے استعمال کرنے کا کوئی حق نہیں۔
یہ کاشانہ گلگت بلتستان ہے جہاں پر کو آرڈنیشن سیکریٹری گلگت بلتستان ہوتے ہیں اور وزیر اعلی گلگت بلتستان کے سٹاف جب اسلام آباد آتے ہیں تو یہاں پر رہائش پزیر ہوتے ہیں۔ یہ راولپنڈی کے مصروف ترین ائیرپورٹ روڈ پر موجود ہے۔ سکیورٹی کا یہ حال ہے کہ باہر کا مین دروازہ ایسے کھلا ہے جیسے دعوت عام ہو۔ کو ئی سکیورٹی کا انتظام نہیں۔ جس کا دل چا ہے اندر داخل ہو سکتا ہے۔اندر کا حال یہ ہے کہ نہ موصوف کے آفس کے باہر اور نہ ہی دوسرے کسی آفس کے اندر کوئی ذمہ دار شخص موجودہے جس سے کچھ معلو مات لے سکیں۔اور اگر کسی طرح ڈھونڈتے ہوئے کوئی سائل ان تک پہنچ جائے تو انکا رویہ ایسا جارحانہ کہ جیسے وہ ان کے زر خرید غلام ہوں۔ میں یہ سب اپنے ذاتی وزٹ کے دوران جو میں نے وہاں observe کیا اسکی بنیاد پر بتا رہا ہوں۔ اگر یہ بھی مان لیا جائے کہ میرا وزٹ آفس آورز کے بعد تھا تو پھر بھی کم از کم کسی ایک سٹاف کا وہاں ہونا ضروری تھا تاکہ رہنمائی کر سکے۔ اسطرح سے ایک آفس کو بناء سکیورٹی کے چھوڑنا کسی بھی آنے والے ناخوشگوار واقعے کا سبب بن سکتا ہے۔
کو آرڈنیشن سیکریٹری صاحب کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ عوام کے نہیں حکومت کے ملازم ہیں۔ انکی سادگی کا کیا کہنا کہ وہ بھول چکے ہیں کہ عوام کے ٹیکس کے پیسوں پر انکے گھر کا چولہا جلتاہے۔ اور عوام کے مسائل کو حل کرنا انکی ڈیوٹی کے اولین فرائض میں شامل ہے۔ یہ مزین آفس ، چمچماتی گاڑی اور اس گاڑی میں ڈلنے والا فیول جو کہ فیول نہیں عوام کا خون ہے جسکو وہ روزانہ جلاتے ہیں انکو اسی لئے دیا جاتا ہے کہ وہ عوام کے سوالوں کا جواب دیں اور انکے مسائل کو حل کرے۔ لیکن افسوس ان کو کون سمجھائے؟؟؟ پروفیشن کے تعارف کے باوجود اگر میرے ساتھ یہ سلوک ہو سکتا ہے تو ایک عام شہری کے ساتھ یہاں کیا رویہ روا رکھا جاتا ہوگا۔ چیف سیکریٹری کی بہت تعریفیں سنی ہیں کہ وہ بہت عوام دوست اورغریب پرورانسان ہیں ان سے میری گزارش ہے کہ براہ کرم کوآرڈنیشن سکیریٹریٹ اسلام آباد کے سٹاف کے غیر پیشہ ورانہ رویوں پر پر تھوڑا توجہ دیں تاکہ جو عوام یہاں آئے وہ اچھا میسیج لیکر جائیں۔
تحریر: احسان علی
More Stories
شاہراہ بلتستان ،شاہراہ قراقرم کی زبوں حالی اور سیاحت کا مستقبل۔
دیرینہ کارکنوں کی قربانیاں اور سیاسی جماعتیں
اقوام متحدہ میں گلگت بلتستان کا مقدمہ ہے یا نہیں ؟