گلگت بلتستان پر راء کی نظریں۔۔!!

0 0

بھارت نے پاکستان کے وجود کو کبھی دل سے تسلیم نہیں کیا،یہی وجہ ہے بھارت روز اول سے ہی پاکستان کیخلاف اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہوئے آرہا ہے۔پاکستان اور بھارت کی تقسیم اور آزادی کو 70ء سال سے بھی زیادہ کا عرصہ بیت چکا ہے مگر بھارت کی ہٹ دھرمی اور دشمنی تاحال ختم نہیں ہوئی۔بھارت کا مقصد پاکستان کو معاشی،اقتصادی،تجارتی اور دفاعی طور پر کمزور کرنا ہے۔بھارت نے پاکستان کیخلاف کسی بھی موقعے کو ہاتھ سے جانے نہیں دیا ہے۔یہ الگ بات ہے کہ بھارت کو ہر دفعہ ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔بھارت چاہتا ہے کہ پاکستان کو پوری دنیا میں سفارتی طور پر تنہا کردے اور پاکستان ایک دہشتگرد ملک کے طور پر ڈیکلیئر ہو،مگر بھارت کی یہ شرمناک سازش کبھی شر مندہ تعبیر نہیں ہوئی۔پاکستان کا سی پیک کے ذریعے جب سے کردار سنٹرل ایشیاء میں بڑھا ہے اور پاکستان کا سفارتی اثر رسوخ دنیا کے ممالک میں بڑھتا جاتا ہے تب سے بھارت پاکستان کی دشمنی کے کیخلاف باقاعدہ طور پر فرنٹ مین کا کردار آدا کرتا ہوا سامنے آیا ہے اور سی پیک کو ناکام بنانے کیلئے بلینز ڈالر کی سرمایہ کاری بھی کر چکا ہے۔یہ بھارت کا ہی ہاتھ ہے کہ بلوچستان کے حالا ت ناساز ہیں۔پاکستان میں بم دھماکوں،خودکش حملوں میں بھی بھارت کا ہاتھ ہے،بھارت نے پاکستان کو کمزور کرنے کی ہر ممکن کوشش کی مگر جس پر اللہ کا فضل وکرم ہو اس کو بھارت تو کیا دنیا کی کوئی بھی طاقت دبا اور مٹا نہیں سکتی۔بھارتی ایجنسی را کا ہی ہاتھ تھا کہ کراچی میں خون کی ہولی کھیلی گئی اور سن 1971ء میں پاکستان کا بائیاں بازوں پاکستان سے الگ ہوا۔بلو چ رہنما بغاوت پر اتر آئیے۔سانحہ آرمی پبلک اسکول رونما ہوا۔بھارت پاکستان کیخلاف کسی بھی حد کو پار کرنے سے نہیں کتراتا۔یہی کچھ دن قبل کی بات ہے اسلام آباد سے سیکیورٹی ایجنسیز کی طرف سے ایک پریس ریلیز جاری کی جاتی ہے کہ گلگت بلتستان میں راکے ایجنٹ پکڑے گئے ہیں اوراس رگروہ کے 14افراد گرفتار کیے گئے ہیں اور سیکیورٹی ایجنسیز نے کامیاب آپریشن کرکے اسلحہ بھی بر آمد کیا ہے۔اسلام آباد سے ریلیز یہ خبر جنگل کی آگ طرح پورے ملک میں پھیل گئی اور ملکی وغیر ملکی پرنٹ و الیکٹرانک میڈ یا میں اس خبر کو پذیرائی ملی۔یہ پہلا موقعہ تھا کہ گلگت بلتستان سے منسلک اس خبر کو الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا نے بڑی کوریج دی۔مگر افسوس کہ اس خبر کے متعلق حقائق اور تفصیلا ت فراہم نہیں کی گئی۔میڈیا کی تو مجبوری ہے کہ جو بھی خبر ریاستی ادارے بریک کریں اس کو نشر کرنا۔حالانکہ را کے ان ایجنٹوں کو پکڑنے کیلئے گلگت بلتستان میں نہ کوئی آپریشن ہوا نہ ہی کسی قسم کی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔بلکہ اسلام آباد میں تین ماہ پہلے فروی 2019ء میں عبدالحمید خان نے خود ہی اپنے آپ کو سیکیورٹی ادروں کے حوالہ کردیا تھا۔گلگت بلتستانی روز اول سے محب وطن ہیں،تھے اور رہینگے۔گلگت بلتستانیوں کی حب ُالوطنی کو شک کی نگاہ سے دیکھنا خود غداری کے مترادف ہوگا۔پاکستان کو ہر مشکل محاذپر کامیابی دلانے میں گلگت بلتستان کے نوجوانوں کا بنیادی کردار رہا ہے۔قوم گلگت بلتستان نے عبدالحمید خان کے خلاف مکمل انکوائری کرکے جرم ثابت ہونے کی صورت میں سزادینے کا مطالبہ کیا ہے۔اگر چہ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ را سی پیک کی ناکامی کیلئے ہر ممکن کوشش کرتی ہے اور اس کا پہلا ٹارگٹ گلگت بلتستان اور گلگت بلتستان کے لوگ ہیں۔لیکن گلگت بلتستانی وہ قوم ہیں جنہوں نے بغیر کسی مفاد کے 28ہزار مربع میل رقبہ پر مشتمل قدرت کا یہ انمول تحفہ پاکستان کے حوالہ کردیا،وہ اپنی پہلی اور آخری منزل پاکستان کو سمجھتے ہیں اور پاکستان ان کی زندگی کا مقصد اور پاکستان کی محبت ان کی رگوں میں خون کی طرح محو ِگردش ہے۔تمام تر محرومیوں،ناراضگیوں اور مسائل کے باوجود اب بھی ہر لب پر پاکستان زندہ باد،جینا مرنا پاکستان کیلئے کی صدائیں ہیں۔ایسے میں اگر چند شر پسند افراد اس خطے اور ملک کے مفاد کیخلاف کام کرنے پر اتر آئیں تو ان چند افراد کوبنیاد بنا کر پوری گلگت بلتستان کی قوم کو بدنام کرنے کی سازش،چاہیے وہ کسی بھی ادار ے کی طرف سے ہو،قابل مذمت ہے اور اس کے نتائج بھی بیانک ہونگے۔بی این ایف عبدالحمید گروپ جس کی سر براہی خود عبدالحمید خان کرتے ہیں،اس گروپ کو بنے ہوئے کئی سال گزرچکے،کئی سالوں سے یہ گروپ اپنی سرگرمیوں میں مشغول ہے تو ساتھ ہی عبدالحمید خان بیرون ملک میں مقیم تھے۔یہ اسی سال فروری کی بات ہے کہ عبدالحمید خان پاکستان واپس آتے ہیں اور خود کو اسلام آباد میں سیکیورٹی ادروں کی تحویل میں دیتے ہیں۔عبدالحمید خان کیساتھ اس کی فیملی بھی اسلام آباد میں سیکیورٹی اور خفیہ اداروں کے مہمان بنے ہوئے ہیں گزشتہ تین ماہ سے۔اب یہ الگ کہانی ہے کہ عبدالحمید خان پاکستان کیوں آیئے اور ان کو پاکستان میں واپس لانے کے پیچھے کن لوگوں کا ہاتھ ہے اور ان کو کونسی آفرز کی گئی۔ان تمام باتوں سے ہمیں کوئی سروکار نہیں۔بس اتنی سی گزارش ہے کہ اگر کوئی غدار وطن ہے اور جو را سے ایک کھرب روپے کی فنڈنگ پاکستان مخالف ایجنڈے پر عمل پیر ا ہونے کیلئے اور لوگوں کو پاکستان کیخلاف بھڑکانے کیلئے لے رہا ہے تو اس گرفتاری کا اعلان تین ماہ پہلے ہی کیا جانا چاہیے تھا،اور ساتھ ہی اس کے ویڈیو کلپس چلائے جانا چاہئے تھا جس طرح کلبھوشن یادیو اور دوسری پاکستان مخالف سرگرمیوں میں ملوث را کے ایجنڈوں کے چلائے گئے،مگر ایسا کیوں نہیں کیا گیا اور اس کو تین مہینے پاکستان کی خفیہ سیکیورٹی ایجنسیز نے مہمان بنا کر کیوں رکھا یہ کچھ ایسے سوالا ت ہیں جو بے حد پیچیدہ ہیں،شائد یہی وہ سوالات ہیں جن کے پس پردہ حقائق بھی موجود ہیں اور بدقسمتی سے یہی وہ سوالات ہیں شائد جن کی وجہ سے یہ کالم سنسر شپ کا شکار بنے۔جیسا کہ تذکرہ ہوچکا ہے اگر عبدالحمید خان گروپ را سے فنڈڈ ہیں تو ان کو سخت سزا دی جائے مگر وہی بات یہ کام پہلے کیوں نہیں کیا گیا اور دوسری بات یہ کہ جب گلگت بلتستان متنازعہ خطہ ہے اور پاکستان کا آئینی خطہ نہیں ہے تو پھر کیسی غداری اور کس قسم کی غداری؟؟کیونکہ پاکستان کے قوانین پاکستان تک محدود ہونے چاہیے اور اگر پاکستان کے قوانین گلگت بلتستان میں بھی رائج ہیں تو پھر اس خطے کو حقوق سے محروم کیوں رکھا گیا،اس کا جواب بھی گلگت بلتستان کی قوم مانگتی ہے۔جب بھی گلگت بلتستان کی قوم حقوم کیلئے یک جان ہوکر آواز بلند کرتی ہے اور متحد ہوتی ہے،عین اسی وقت کبھی 15اگست بھارت کی آزادی کے دن کے موقعے پر احتجا ج کیا جاتا ہے تو بھی غدار کا لقب دیا جاتا ہے،کبھی آواز اٹھانے والے رہنماؤں کو فورتھ شیڈو ل لسٹ میں ڈالا جاتا ہے اور فورتھ شیڈول لسٹ میں تو ریاست مخالف عناصر کو رکھا جاتا ہے مگر گلگت بلتستان جو کہ خطہ بے آئین ہے کے عوامی رہنماؤں کو فورتھ شیڈول لسٹ میں رکھا جاتا ہے اور عوامی آواز کو دبا یا جاتا ہے۔ذرا غور کریں تو معلوم ہوگا یہ فورتھ شیڈول اور غداری کے القابات تب سے لگنے شروع ہوئے ہیں،جب سے گلگت بلتستان کے لوگ متحد ہوئے ہیں۔کیونکہ اس سے پہلے فورتھ شیڈول کی ضرورت اس لئے نہیں پڑتی تھیں کہ جب بھی حقوق کی بات کی جانے لگی گلگت میں فرقہ واریت کو ہوا دی گئی اور یوں آپس میں لڑا یا گیا اور ریاست اپنے مفادات حاصل کرتی رہی،مگر جب آپس میں لڑؤ پالیسی کو قوم نے سمجھ لیا اور ایجنسیاں اب تفرقہ ڈالنے میں ناکا م ہوئیں تو پھر براہ راست گلگت بلتستانیوں پر حملے ہونے لگے۔بی این ایف عبدالحمید خان گروپ میں شامل جن 14افرد کا ذکر کیا گیا ہے ان میں سے شاہ جہاں بھی ہیں جن کو حال ہی میں فورتھ شیڈول لسٹ سے بھی نکالا گیا ہے حالانکہ اس فورتھ شیڈول کی زد میں گلگت بلتستان کی ہر دلعزیز شخصیت آغا سید علی رضوی کا نام آج بھی موجود ہے۔عبدالحمید خان کے متعلق وزیر اعلیٰ کے ترجمان فیضل اللہ فراق نے ایک اچھی تحریر رقم کی اور ریاستی اداروں کی تعریف بھی کی۔مگر کوئی ان سے پوچھے آپ کو اس کے متعلق علم تھا تو پہلے کیوں خاموش تھے،اور ساتھ ہی یہ بھی پوچھ لیا جائے کہ آپ کو اس مقام تک پہنچانے میں جس کا کلیدی کردار رہا ہے وہ تو یہی عبدالحمید خان ہیں۔خیر جو بھی ہو۔اس ٹاپک کو بنیاد بنا کر گلگت بلتستانیوں کو را کے ایجنٹ کہ کر بلوچستان جیسی صورتحال پیدا نہیں کی جائے اور پھر چند سال بعد اعترا ف کرنے پر مجبورہونگے کہ ہم سے ماضی میں غلطیاں ہوئیں۔جیسے بلوچستان کے متعلق آج اعتراف کیا جاتا ہے کہ ہم سے ماضی میں غلط فیصلے ہوئے،گلگت بلتستان کے بارے میں کم از کم ایسا نہ ہو۔پھر ایسا نہ ہو کہ نقصان اٹھا نا پڑے۔گلگت بلتستان کی قوم سے گزارش ہے کہ اپنے خلاف ہونے والی ان سازشوں کو سمجھیں اور متحدہ رہیں اور اپنی آواز کو بلند کرتے رہیں۔

تحریر:عبدالحسین آزاد

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website