جدید روایات سے ہم آہنگی وقت کی ضرورت۔

0 0

محترم قارئین گزشتہ تحریر میں قدامت پسندی کے متعلق کچھ نکات لکھنے کی کوشش کی تھی کہ قدامت پسندی کیا ہے ؟ کیا کیا نقصانات ہیں ؟ اور جدیدیت کیا ہے ؟ ماڈرن ویلیوز سے ہم آہنگ ہونےکے فوائد ،جدیدیت سے جڑ جانے سے انفرادی اور سماجی فوائد، جدیدیت کے لئے زھن سازی ،جدیدیت کی وجہ سے ترقی اور تحقیق کے ذریعے ناممکنات کو ممکن بنانے کی باتیں بطور مثال ملک (جاپان) پیش کیا تھا ،جدیدیت سے ہم آہنگ ہونے میں جو مسائل در پیش ہیں اگرچہ اس سلسلے کئی وجوہات ہوسکتے ہیں مگر چند ایک پہلو کی نشاندھی از حد ضروری سمجھتا ہوںاس بات میں کوئی شک نہیں کہ قدامت پسندی/ ماضی پرستی جدید روایات سے منہ چرا کر ترقی و تعمیر کے راہ میں رخنہ ڈال رہے ہوتے ہیں بنیادی طور پر ہر معاشرہ اپنی اقدار ، تقاضے ، رسومات ہوتے ہیں جن سے اس سماج کے متعلق جانکاری حاصل کرتے ہیں مثلاً ان باشندوں کے تگ ودو کیا! ہے کن چیزوں کے حصول میں اپنی لمحات گزر بسر کرتے ہیں! یہ وہ سارے عوامل / کام ہیں جو اپنے آنے والی نسلوں کے لئے بطور کار منصب آج ہم اور آپ انجام دے رہے ہوتے ہیں سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ روش زندگی پر گامزن رھ کر ہم اگلے نسلوں کو اسی نہج پر برقرار رکھیں گے یا ان فرسودہ اصولوں اور مصلحتوں سے روگردانی کرکے نئی نسل کو کسی اور پلڑے میں داخل کرینگے کیونکہ دنیا کی تاریخ گواہ ہے جب تک کسی ملک کی عوام خود میں شعور کو اجاگر نہیں کیا ٬ اس وقت تک ان قوموں نے ترقی نہیں کی ٬ شعوری کی بیداری کیلئے سوچنا پہلی شرط ہے خصوصاً شگر اور اسکے بالائی ایرے ایک زمانے سے عوامی معاملات کے بارے میں سوچ و بچار کرنا چھوڑ چکے ہیں شاید جسکے کئی وجوہات ہوسکتے ہیں مگر راقم کے دانست کے مطابق نفسا نفسی کی دور نے عوام کی سوچ ان کی ذاتی خواہشات محدود ہو چکی ٬ ہم آج اگر نہیں سوچیں گے تو ہمارے آنے والے حالات قطعاً تبدیل نہیں ہو سکتے ٬ موجودہ صورتحال میں بہت سارے معاملات ایسے ہیں جن کے بارے میں سوچنا نہایت ضروری ہے یہ وہ سوال ہے جو مجھ سمیت کو پریشان کر کے رکھ دیتے ہیں ، آئیے کچھ قدامت پرستی کے مثال ملاحظہ فرمائیں تاکہ اس کے پس پردہ کی حالات سے آشنائی ممکن ہو مثلاً عام طبقہ نئی روایات کو سنتے ہی نظریں چرا لیتے ہیں کسی بھی قیمت پر قبول کرنے کو تیار نہیں ہوتے اپنی دقیانوسی تصورات ، خیالات ، پر بضد رہتے ہیں ایک مرحلے کے لیے یہ نہیں سوچتے کہ کائنات اتنی وسیع ہے جس میں آپ کسی طرح آرام و راحت و خوشحالی کے ساتھ اپنی زندگی گزر بسر کر سکتے ہیںمثلاً سرکار کی معاونت کے لیے ہر معاشرے میں فلاحی ادارے کام کررہے ہوتے ہیں واضح رہے کہ ہر فلاحی ادارے کا منشور فحاشی و عریانیت کا پھیلاؤ نہیں ، وہ محض معاشرے کو مالی ، تعلیمی ، اکانومی ، بہترین سہولیات زندگی سے بہم پہنچانے سمیت بلند فکر کی پرواز کے لئے اپنی خدمات انجام دے رہے ہوتے ہیں یہ ایک معاشرے تک محدود نہیں بلکہ دنیا بھر میں اپنی خدمات پیش کررہی ہے کیونکہ معاشرے کی سالمیت ، اور معاشرتی اداروں کی استحکام کے لئے فلاحی ادارے مثل ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے الغرض خدمات کا سلسلہ پچھلے چند سالوں سے ہمارے ہاں بھی کوشاں ہیں مگر کچھ ناعاقبت اندیش لوگ اور اسکے حواری ان اداروں کو خدمات انجام دینے سے رکاوٹ بن رہے ہیں یوں عام طبقہ کو اپنی سابقہ سرشت پر گامزن رہنے پر بضد رہتے ہیں اب وہ معصوم الفطرت لوگ اس بابت نہیں جانتے کہ اس چیز کے پابندی کے پیچھے کیا منطق ہے ظاہراً ، عقلاً ، شرعاً ، و قانوناً اس شئی کی حصول کے لئے کوئی رکاوٹ بھی نہیں رکھتے باوجود اس کے دروغ گوئی کی انتہا کرکے عوام کو سرشت سابقہ تھامے رکھنے پر مجبور کرنے کے ساتھ ترقی و تعمیر کا شاہکار عمل متاثر ہوکر رہ جاتی ہے اور سادہ لوح باسیوں کی ذہنوں میں نہ ختم ہونے والی شک و شبہ بھی جنم لیتے ہیں جبکہ اشک جگر سوز بات یہ ہے کہ مخالفین کے پاس ان شکوک کا ازالہ کیلئے سنجیدہ بنیادوں پر دلائل موجود نہ ہونے کے ساتھ دوسرے کوئی متبادل شئی فراہم کرنے سے بھی قاصر ہیں، لھذا ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام جوش سے نہیں ہوش سے کام لیں اور اپنی مستقبل کا فیصلہ خود اپنی کاندھوں پر لینے میں دانشمندی ہوگی بصورت دیگر تاریکیوں کی یہ بدترین دور ختم نہ ہونے کے ساتھ تاریخ کی صفحات میں اپنی شناخت کھو بیٹھے گی ۔

تحریر : نذیر مشتاق

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website