ہماری نسلیں معاف نہیں کریں گے۔۔

0 0

آپ پہلے تصویرکاپہلارخ ملاحظہ فرمائیں،گلگت یکم نومبر1948کوایک آزادریاست کے طورپردنیاکے نقشے پرنمودارہوتاہے،آزادی کے بعدسولہ نومبرتک ایک آزادمملکت کے طوروپردنیاکے نقشے پرآویزاں رہتاہے،بعدازاں گلگت بلتستان کے راجہ بابرخان کی رہائش گاہ پرسیدمحمدعباس،راجہ شاہ رئیس ،راجہ بابرخان اورماسٹرغلام رضامیٹنگ کرکے پاکستانی حکومت سے گلگت کے امورسمبھالنے کی درخواست کرتاہے،درخواست حکومت پاکستان تک پہنچتے ہی وہ سردارمحمدعالم کواپنانمائندہ بناکرگلگت بھیجتاہے،اورسارے اموراپنے ماتحت لے لیتاہے،اب جبکہ گلگت پاکستان کے زیرانتظام چلاگیاتوبعدمیں گلگت کے زیرانتظام علاقہ بلتستان بھی پاکستان کے زیرانتظام چلاجاتاہے۔
اب آپ تصویرکادوسرارخ ملاحظہ فرمائیں،28اپریل 1949کوکراچی کے ایک بندکمرے میں ایک گم نام معاہدہ رچایاجاتاہے،معاہدہ دوفریقین کے بیچ طے پاتاہے،پاکستان کی نمائندگی مشتاق گورمانی کررہاہوتاہے،جبکہ دوسرے فریق کی نمائندگی محمدابراہیم خان اورچوہدری غلام عباس کررہاہوتاہے،دوسرے فریق میں گلگت بلتستان کاکوئی بھی نمائندہ شامل نہیں ہوتاہے،مذکورہ افردکاتعلق براہ راست کشمیرسے ہوتاہے،معاہدے میں یکم نومبرکوآزادہوکرسولہ نومبرکوپاکستان کے ساتھ الحاق ہونے والے گلگت بلتستان کودوبارہ سے پاکستان کے ساتھ الحاق کیاجاتاہے،نام نہادمعاہدے پرشرکاہ میٹنگ دستخط ثبت کرتاہے،جبکہ کچھ افرادکادستخط اپنی طرف سے بناکرلگایاجاتاہے،معاہدے پراس وقت کے وزیراعظم لیاقت علی خان کے بجائے سندھ اسمبلی کے ایک ممبرسے دستخط کرائے جاتے ہیں،جس کادنیاکاکوئی بھی قانون اجازت نہیں دیتا،اوردوسری طرف اس معاہدے میں گلگت بلتستا ن اورکشمیرکے عوام کی رائے شامل ہی نہیں ہوتی،معاہدے کے منظرعام پرآتے ہی وہ ممبران جن کے دستخط بناوٹی تھے،وہ ماننے سے انکارکرتاہے،یوں ساراپول کھل جاتاہے،اورسین ختم ہوتاہے۔
اب ہم غورکریں گے کہ اس معاہدے کی ضرورت ہی کیوں پیش آئی،28اکتوبر1947کوجب کشمیرکے علاقوںمیں قبائلی گھسائے گئے توبھارت نے یکم جنوری 1948کویہ معاملہ اقوام متحدہ میں اُٹھایا،جس کے بعدجموں کشمیرکومتنازعہ قراردیاگیا،ان علاقوں میں پاکستان اوربھارت دونوں کی فوج گھس چکے تھے،اب اقوام متحدہ نے 13اگست 1948کے قراردادوں کی روشنی میں پاکستان کوپابندبنایاگیاکہ وہ کشمیرسے اپنی فوج کاانخلاکریں،ساتھ ہی بھارت کوبھی متنبہ کیاکہ وہ بھی اپنی فوجیں واپس بلائیں،تاہم بھارت کی اتنی فوج وہاں پررہ سکیں گے جووہاں کے امن وامان کوکنٹرول کرسکیں،اقوام متحدہ نے اعلان کیا ریفرنڈم کرائیں گے کہ کشمیراورگلگت بلتستان کے لوگ کس کے ساتھ رہناپسندکریں گے،بھارت کے ساتھ یاپاکستان کیساتھ،تاہم بھارت کی چالاکیوں کی وجہ سے یہ ممکن نہ ہوسکا،انہوں نے اقوام متحدہ سے کیے گئے وعدوں پرعمل نہیں کیا،جوں ہی پاکستان نے اپنی فوج واپس بلائی انہوںنے اپنی تمام فوجیں واپس تعینات کردیے،یوں جموں کشمیران کے انڈرمیںچلاگیا،دوسری طرف پاکستان کے پاس گلگت بلتستا ن کچھ علاقوں کے علاوہ کشمیرکے الحاق کی دستاویزت نہ ہونے کی بناپرمعاہدہ کراچی کاڈرامہ رچایاگیا،اُسے اسی وقت لوگوں نے یکسرمستردکردیا،اوراب بھی لوگ اس معاہدے سے بیزارہے۔
آپ یقین کریں کہ کشمیرکے صدرسردارمحمدابراہیم نے گلگت بلتستان کے عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے معاہدے پردستخط کیا،اب اس کویہ حق کیسے پہنچتاہے کہ وہ گلگت بلتستان کے باسیوں کی نمائندگی کریں،نہ ان کے صدارت کادائرہ کارگلگت بلتستان تک تھانہ ہی ان کاحلقہ انتخاب وہاں تک تھا۔چودھری غلام عباس جوکہ مسلم کانفرنس کاصدرتھا،انہوںنے معاہدے کے ان پوانٹس سے اتفاق کرتے ہوئے دستخط کیے جن کاتعلق مسلم کانفرنس سے تھا،تاہم باقی ماندہ نکات سے اختلافات کی بنیادپراختلافی نوٹ بھی لکھا۔بحرحال مجھے حیرت اس بات پرہے کہ میرآف ہنز ہ نگرنے جب پاکستان کے ساتھ الحاق کے معاہدے پردستخط کیے تھے تودوبارہ معاہدہ کراچی کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟،حکمران عوام کوآخرسچ کیوں نہیںبتادیتے،آخرمعاملہ کیاہے،گلگت بلتستان کے عوام جانناچاہتے ہیں،آخروہ ظلم کی چکی میں کب تک پستے رہیں گے؟؟۔
آپ المیہ دیکھیں،پاکستان مسلم لیگ اوراسلامی تحریک آتاہے،گلگت بلتستا ن پرحکومت کرتاہے،بنیادی حقوق کاڈرامہ رچایاجاتاہے ،پانچ سال مکمل کرتاہے،عوام کوچونالگاکرغائب ہوجاتاہے،پاکستان پیپلزپارٹی آتاہے،حکومت کرتاہے،حقوق کی مدمیں آرڈرنافذکرتاہے،حکومت کرتاہے اورغائب ہوجاتاہے،پاکستا ن مسلم لیگ ن آتاہے،حکومت کرتاہے،عوا م کولولی پوپ دیتاہے،آرڈرنافذکرنے کیلئے وزیراعظم کوبلاتاہے،اسمبلی میں ہنگامابرپاہوتاہے،نام نہادنمائندے بل پاس کراتاہے،گلگت بلتستان کووزیراعظم کے انڈرمیں دیتاہے،اورچلاجاتاہے،چیف جسٹس دورے پرآتاہے،ازخودنوٹس لیتاہے،سماعتیں ہوتی ہے،سبکدوش ہونے سے ایک دن پہلے فیصلہ سناتاہے،گلگت بلتستان متنازعہ علاقہ ہے،کچھ نہیں ہوسکتاہے۔چلاجاتاہے،آخرعوام کولولی پوپ کب تک کھلاوگے،آخرظلم کب تک کروگے،آخرایساکیوں کررہے ہو،کیوں آخرکیوں؟؟؟
نام نہادمعاہدہ کراچی کوایک عرصہ بیدچکاہے،جس کی مذمت ہم ہرسال 28اپریل کو گلگت بلتستان کے باشعورافرادکررہے ہیں،اس معاہدے کے اہم کردارسردارمحمدابراہیم نے بھی اس معاہدے کوجھوٹاقراردے چکاہے،سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کے بعداب راہ واضح ہے،ہم آئینی لحاظ سے پاکستان کاصوبہ نہیں بن سکتا،اب ہماری تمام سیاسی اورسماجی پارٹیوں کوایک ہی پلیٹ فارم پررہ کرکشمیرطرزکی سیٹ اپ کیلئے آوازبلندکرنے کی ضرورت ہے،ورنہ ہم ظلم کی چکی میں یوں ہی پستے چلے جائیںگے،اگرہم اسی طرح ہاتھ پرہاتھ دھرے بیٹھے رہیں گے تواکہترسال کیامزیداکہترسال حقوق کا ماتم برپاکرناپڑے گا،ہمای آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گے،اس کیلئے ہمیں اُٹھنے کی ضرورت ہے تاکہ ہمیں اپناحق مل سکیں۔
تحریر: ممتازعباس شگری

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website