بلتستان سود خوروں کے نرغے میں..

0 0

اللہ تعالی کا فرمان ہے.اے ایمان والو اﷲ سے ڈرو اور جو سود لوگوں کے پاس باقی رہ گیا ہے اگر ایمان والے ہو تو اسے چھوڑ دو ، اگر تم نے ایسا نہیں کیا تو اﷲ اور اس کے رسول کی طرف سے جنگ کے لیے خبر دار ہوجاو …. ” ( البقرہ :275)
فرمان باری ہے : ” اے ایمان والو ! کئی گنا بڑھا کر سود نہ کھاو اور اﷲ سے ڈرتے رہو تاکہ تم فلاح پاو ، اور اس آگ سے ڈرو جو کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے ، اور اﷲ اور رسول کی اطاعت کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے”۔ ( آل عمران :(132-131)
حجة الوداع کے موقع پر رسول اللہ نے فرمایا سن لو ! جاہلیت کی ہر چیز میرے پاوں تلے روند دی گئی. اور جاہلیت کا سود ختم کردیا گیا .
سود کا ایک درہم ، جسے انسان جانتے بوجھتے کھاتا ہے ، وہ 36 مرتبہ زنا کاری سے بھی بدتر ہے . رسول کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:” سود کے 73 دروازے ہیں ، ان کا سب سے ہلکا گناہ یہ ہے کہ جیسے کوئی آدمی اپنی ماں کے ساتھ نکاح کرے ، سب سے بدترین سود کسی مسلمان کی عزت سے کھلواڑ کرنا ہے.لیکن افسوس کی ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارہ معاشرے میں سود کا کاروبار عروج پر ہے. صوبای حکومت سمیت علاقہ علما سرکردگان ٹس سے مس نہیں اور خاموش تماشای بنے ہوے ہیں.بلتستان میں اس وقت سودی کاروبار انتہا کو پونچا ہوا ہے.یہ لوگ غریب سادہ لوح لوگوں کو کسی نہ کسی بہانے اپنے سکنجے میں پھسا کر اس کی پوری جایداد مال دولت سب کچھ ہڑپ کر لیتے ہیں.دس ہزار روپے سود لینے پر مقررہ وقت پر دگنا دینا ہوگا بصورت دیگر اسٹام پیپر پر لکھت پرت ہوتی ہے کہ پیسہ وقت پر نہ دینے کی صورت میں دکان مکان،زمین،گاے،بکری،یہ کہ جو بھی ہو دینے پر پابند ہو گا.یہاں مزے کی بات یہ کہ سود خور بڑے شاتر ہوتے ہیں وہ جب کسی کو سود دیتا ہو تو مکمل رقم کی چیک متعلقہ شخص سے وصول کرتے ہیں مثلا اگر ایک بندے کو دس ہزار دینے ہو تو ایک ماہ بعد بیس ہزار بنے گا سود خور چیک پر بیس ہزار لکھ دیتے ہیں اور وقت کی انتظار میں رہتے ہیں جوں ہی وقت اے وہ متعلقہ شخص کے پاس جا کر پیسے مانگتے ہیں نہ ملنے کی صورت میں اسٹام کی مطابق پلاٹ زمین وغیرہ اپنے نام کرتے ہیں اس دوران کوی ان کو مسلہ کرے تو جو چیک لی ہوی ہے وہ دیکھاتے ہیں اور دھمکی بھی دیتے ہیں کہ تھانے میں ایف آی ار کر دونگا کیونکہ چیک بونس ہوا اس لیے قانونی طور پر بونس چیک پر 420 کیس بنتے ہے اور باقاعدہ سزا ہوتی ہے.اس سے بچنے کیلے متاثرہ شخص سب کچھ دے کر اپنی جان بچاتے ہیں نتیجہ بے گھر ہو جاتے ہیں.سود خور متاثرہ شخص کو ہر طرح سے دباو ڈالتے ہیں بل آخر سود خور مقروض کو دوسرے ساتھی سود خور کے پاس بیج دیتے ہیں اور یہ سود خور مقروض کی ساتھ ہمدردی دیکھاتے ہے اور کسی سے گاڑی، پلاٹ وغیرہ ٹایم پر اس کو لا کر دیتا ہے اور باقاعدہ اس سے پھر چیک وصول کرتے ہیں مثلًہ گاڑی جس شخص سے لیتے ہیں اس سے پہلے ہی بات کلیر کر کے رکھتے ہیں کہ اتنے کا گاڑی ہم لے رہے ہیں پھر متعلقہ مقروض سے چیک لیتا ہے اور گاڑی والے کو تھاما دیتے ہیں. اور وہ گاڑی جس شخص سے لیا اس نے بیجی پانچ لاکھ کا اور جس کو سود دینا ہے وہ یہ گاڑی لے گا ایک یا دو لاکھ میں اب اس طرح گاڑی کی سودے میں مقروض کو تین لاکھ کا نقصان ہوا. اب کیا ہوتا ہے گاڑی جس سے لیا وہ سود خور اب اس کی جان کہا چھوڑ تے ہیں گاڑی جو لے گی.اب بیچارہ شخص اس گاڑی والے کو پانچ لاکھ دینی ہے جس کیلےوہ پھر چین سرکل چلاتے ہیں اور اپنے ساتھی سود خور کی حوالہ کر دیتے ہے اور وہاں اس سود خور سے پھر گاڑی یا زمین لیتے ہے باقاعدہ چیک اسٹام لیتے ہیں پانچ لاکھ برنا ہے دس لاکھ کی گاڑی ایک ماہ کی ٹایم پر لیتے ہیں اس طرح اب یہ بندہ کہا ان کی گرفت سے آزاد ہو گا… بل آخر زمین گھر بار تک ان حرام خوروں کی نطر ہو جاتے ہیں. سماج میں سود خور عام سودی کاروبار میں مصروف ہے جو اب تک سینکڑوں لوگوں کو تباہ کر چکے ہیں. بد قسمتی سے آج تک معاشرے میں موجود علما سمیت دیگر قانون نافظ کرنے والے اداروں کی خاموشی تعجب اور سوالیہ نشان ہے.ہمارے علما صرف ممبر سے دو لفط سود پر عرض فرما کر اپنی زمہ داری پورا کرتے ہیں اور عملی میدان میں کام کرنے سے انکار ہے.سکردو میں اس وقت سود دینے والے بے شمار موجود ہیں خدارا ان کی نشاندہی کر کے پولیس کو اطلاع دے. ظلم کا کوئی حد مقرر نہیں ہے جہاں تک ہوسکیں ظلم و بربریت کے بازار گرم ہے. سودی کاروبار کو لین دین کا نام دیکر حکومت کے کھاتے سے باہر کیا جاتا ہے اور ساتھ میں باروبار نمٹنے کی تلقین کر کے آئندہ سرکار کی قیمتی وقت ضائع نہ کرنے کی یقین دہانی اور تاکید کے ساتھ رخصت کیا جاتا ہے حالانکہ اس سودخوری پر باقاعدہ قانون بنا ہے سزا و جزا کا حد مقرر ہے قانون کے رو سے انتہائی قابل گرفت عمل ہے مگر بد قسمتی سے یہ قانون محض چند سطور کی حد تک محدود ہے . صوبای سطح پر قانون باقاعدہ طو پر اسمبلی سے اکثیریت رائے کے ساتھ منظور ہوکر قابل عمل قرار دیا گیا لیکن اب تک اس ناسور کو روکنے میں ناکام کیون؟ یہی وجہ ہے کہ بلتستان جیسے اعظیم خطہ سودخوروں کیلے جنت بنا ہوا ہے بغیر کسی رکاوٹ کے آزادانہ طور پر بھرے بازار سرے عام سودی لعنت جاری ہیں ان ظالم انسان نما سودخور درندو ں نے خاندانوں کے خاندان اجاڑ دیے اچھے خاصے سرمایہ والے لوگ فٹ پاتھ پر آگئے زمینیں کھینچ لی مال مویشیاں چھین لی کچھ لوگ تو اس ظلم و جبر سے تنگ آکر علاقہ بدر ہوگئے جو بچ گئے ان سے سب کچھ ہتھیانے کے بعد کسی کے پاس دینے کیلے کچھ نہیں بچا تو ان کو دوسروں کے ہاتھوں لاکھوں روپے میں فروخت کر کے زندگی بھر کیلے زہنی مریض بنا دیے۔ اور عموما ان سود خورں کے حدف غریب اور عام طبقہ کے لوگ ہوتے ہیں ان لوگوں سے ایک سود خور اپنی رقم حاصل کر کے دوسرے سود خور کے حوالے کرتا ہے دوسرا تیسرے کو موقع دیتا ہے اس طرح بے بس لوگ ایک کے بعد ایک کے ہاں خرید و فروخت ہوتے رہتے ہیں ۔سود کا یہ منافع بخش کاروبار کسی ایک مخصوص شے پر نہیں بلکہ تمام روز مرہ کے اشیا پر کیا جاتا ہے دس ہزار قرض حسنہ کے نام پر دیکر مختلف حلہ بہانوں سے دو لاکھ اصول کیا یا پانچ لاکھ کی گاڑی پندرہ لاکھ میں چھے مہنے بعد ادائے گی پر فروخت کی مقررہ وقت پر اداے گی نہ کرنے کی صورت میں اگلے دو مہینوں کا وقت دیکر رقم دگنی کر دیتی ہے واضح رہے اس سودی کاروبار میں کوئی مخصوص گروہ علاقہ یا قبیلہ ملوث نہیں بلکہ آبادی کا نصف سے زیادہ حصہ برائے راست یا بلواسطہ ملوث ہے سرکاری ملازمین تک اس لعنت میں شامل ہیں.بلتستان کی نامی گرامی گھروں میں پلنے والے آج معاشرے میں عام عوام کیلے ناسور بنے ہوے ہیں.دو لاکھ روپے سود کے خاطر بیس لاکھ کی گاڑی لے جاتے ہیں. ایک شخص کی گھر میں موجود مویشوں تک کو سود کے عوض لے جایا جاتا ہے.اس وقت بلتستان میں سودی کاروبار سے عیاش پرست طبقہ شراب چرس زنا ریا کاری اور ایسے ہی بے حد کاموں میں ملوث ہیں. بظاہر عام انسان ہے مگر ہر طرح ظلم بربریت پھیلاتے ہیں.سود کے پیسے اتنے ملے کہ یہ لوگ چہلم امام حسین کیلے کربلا گئے.ہزاروں گھرانے اجڑ دیے. سود خوروں کا باقاعدہ گینگ موجود ہوتے ہیں. جو لوگوں کو پھسا کر سود دینے والے کے پاس لایا جاتا ہے جس کی عوض سود خور اس شخص کو باقاعدہ کمشن دیتا ہے.کمشن خور آج کل ایک سے ایک گاڑیوں میں گھومتے ہیں.تعجب کی بات یہ کہ اس سماج میں ہر جگہ عزت بھی انہی کی ہیں. حوصلہ افزای بھی انہی کو ہی ہوتی ہے. ان کے تعلقات بھی عام لوگوں سے کہا ہے بڑے بڑے لوگوں سے ہیں. معاشرے میں ان کی وجہ سے عام ادمی زندگی گزارنے سے قاصر ہیں.یہ درندے چند پیسوں کیلے کسی کی عزت دولت سبھی ختم کرتے ہیں. سرکاری ملازم سے لے کر عام شخص دکاندار تک اس گندے کاروبار کا حصہ ہیں. حکومت وقت کو اس حوالے سے قانون سازی سے آگے بڑہ کر عملدر امد بھی کرانا چاہیے کیونکہ محض حکمرانی کرنا رعب دیکھانا اور آفیسری جمانے کا نام حکومت نہیں ہے بلکہ کمزور طبقات کو تحفظ فراہم کر کے سر کش اور ظالموں کونشان عبرت بنانے کو حکومت کہتے ہیں امید ہے صوبای حکومت سمیت ضلعی سطح ہر انتظامہ ان کے خلاف جلد کریک ڈاون کر کے مزید سادہ لوح لوگوں کو بچانے میں کردار ادا کرینگے.

تحریر: مظاہر ہلال آبادی

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
100 %
× News website