اس نے توبہ نہیں گناہ کیا۔۔

0 0

حسین میرپہ کا تعلق ضلع گانچھے کے علاقہ بلغارسے ہے انہوں نے سولہ سال کی عمرمیں پاک آرمی جوائن کیا سولہ سال تک فوج میں مختلف محازوں پرخدمات سرانجام دیتے رہے بتیس سال کی عمرمیں یعنی عین جوانی میں ریٹائرہوگئے انہوں نے ناچ گانے کو اوڑھنا بچھونا بنائے رکھاان کے اپنے بقول بتالیس سال ناچتے گاتے رہے جہاں سے ڈھول کی آوازآتی وہ سب سے پہلے وہاں پہنچ جاتے الغرض انہوں نے عمرکا ایک بڑاحصہ ناچتے گاتے گزارا لاتعداد اورایک ہزارسال پرانے لوک گیت یادہے یوٹیوب پران کاایک انٹرویو دیکھنے کا اتفاق ہوا جس میں وہ احسان علی دانش اورہندوستان (کارگل )سے آئے ہوئے ایک مہمان سے بات کرتے ہوئے کہتاہے جس وقت میں گاتاتھااس وقت کسی نے لفٹ نہیں کرائی اب میں نے توبہ کی ہے تو ہرکوئی رابطہ کررہاہے وہ لوک گیت گانا دورکی بات لکھوانے کیلئے بھی تیارنظرنہیں آرہے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ لوک گیت ادب کا حصہ ہے اورادب کے بغیرمعاشرہ ادھورہ رہ جاتاہے، علاقے میں امن آشتی اوربھائی چارے کی فضاقائم کرنے میں ادب کا نمایاں اورگراں قدرحصہ ہے خصوصا ادب بلتستان کا تومیری نظرمیں ثانی نہیں ہے میں جب بھی ادب بلتستان خاص طورپرلوک گیت یعنی” منظوم لوک ادب ”کا مطالعہ کرتاہوں تو میرا سرفخرسے بلندہوتاہے میںہربارفخرمحسوس کرتاہوںدراصل بلتی لوک گیت بلتی کلاسیکی ادب کا اعلی ترین نمونہ ہے جو بلتستان کے روایات،رہن سہن،طورطریقے،جذبات واحساسات،تاریخ،ثقافت اورادب کی عکاسی کرتاہے ان گیتوں کے زریعے بلتستان کے تابناک ماضی پرروشنی ڈالی جاسکتی ہے بلتی لوک گیت میں آپ کو ایک طرف کھری سلطان چوجیسے عوام دوست اورخلق خدا پرمہربان راجہ کے بارے میں ایک یتیم بچی کے احساسات اورمحرومی کے دکھ کا برملااظہارپڑھنے کو ملتاہے تودوسری طرف چوکھری سلطان چو کاردعمل جس میں اس یتیم بچی کی خاطر اپنی شادی کی تقریبات دہرانے کا حکم دیا جاتاہے دیکھنے کو ملتاہے اسی طرح ”بونومریم”جیسی پاک دامن اورغیرت مند بیٹی کی دکھ بھری داستان پڑھنے کو ملتی ہے جس کے سامنے دیبل میں عرب عورت کی طرف سے حجاج بن یوسف کو راجہ داہرکے ظلم کے خلاف دی جانے والی دہائی کا واقعہ بھی چھوٹا نظرآتاہے ”ژھن تھغرینگ”ایک وفاشعاربیوی کی اپنے شوہرسے والہانہ اوربے لوث محبت اوروفاداری کی داستان بیان کرتاہے ”ستروغی یتو”ایک ایساگیت ہے جس میں ایک بیوی اپنے آوارہ مزاج شوہرکو زندگی کی بے ثباتی اوراولاد کی اہمیت بتاتی ہے اسی طرح منافو،لنگسپاشاچو،سکنے ،گل حلیمہ،میون ژھانگ تھور،شنگ کھن کوفہ پا،ہلبی مرادجیسے لازوال کردارہیں جس میں جدائی کی داستانیں،بے وفائی اورفرقت کے واقعات،محبوب کے انتظارکی شدت،بہن بھائی اورمیاں بیوی کی بے لوث محبتیں،والدین کی نصیحت ،نانصافی اوراسیری کی کہانیاں موجود ہیںان گیتوں کے پس منظرمیں عشقیہ،رزمیہ یا کوئی نہ کوئی تاریخی واقعہ ضرور ہوتاہے۔دنیا کی دیگرقومیں لوک گیتوں ،تاریخی واقعات اورثقافت کو زندہ رکھنے کے لئے تگ ودوکررہی ہیں مثال کے طورپر”سبع معلقات”دورجاہلیت کے عربی اشعارکے مایہ ناز مجموعہ اور عرب کا سب سے عمدہ ،بہترین اوراعلیٰ کلام شمارکیا جاتاتھا یہ کلام ہردورمیں عربی زبان کی اعلیٰ تعلیم کے نصاب میںشامل رہاہے یہی سات قصائد کا مجموعہ(سبع معلقات) وفاق المدارس العربیہ کے درجہ خامسہ کے نصاب کا بھی حصہ ہے جبکہ امروالقیس بن حجربن عمروالکندی کے اشعارکسی محفل میں پڑھنے کے قابل نہیں ہیںان کے اشعارمیں شرم وحیاء اوراخلاق کاجنازہ نکالا ہواہے اگرکہا جائے کہ ان کے اشعار(سبع معلقات )بے حیائی کو فروغ دینے میں پیش پیش ہیں تو بے جانہ ہوگالیکن ملک کے کسی کالج یا یونیورسٹی کے نصاف میں نہیں بلکہ وفاق المدارس العربیہ کے درجہ خامسہ کے نصاب میں شامل ہے اسی طرح ہیررانجھا ، سوہنی مہیوال،سسی پنوں،مرزا صاحباں،لیلہ مجنون کی داستانیں بھی کتابوں کی شکل میں دستیاب ہیں اورملک کے مختلف کتاب خانوں کی زینت بنی ہوئی ہیں، جوان طبقہ خاص طورپرعاشق مزاج لوگ جوم جوم کرپڑھتے ہیں لیکن ان داستانوں کے مقابلے میں لنگسپاشاچو،بونومریم،منافو،سکنے ،شنگ کھن کوفہ پا،ہلبی مرادکی داستانیں اسلامی روایات کے مطابق ہیںیعنی یہ داستانیں کسی آشنایا صرف دوعاشق معشوق کی نہیں بلکہ میاں بیوی کی لازوال ،بے لوث محبت اورایک دوسرے کے ساتھ لائلٹی کی انمٹ داستانیں ہیں۔بلتستان ہمیشہ سے امن وآشتی اوربھائی چارے کا محورومرکزرہاہے زمانہ قدیم سے سردیوں کی لمبی راتوں میںلوک گیت اورلوک داستانیںسنانے کی روایت تھی اس کے لئے باقاعدہ اہتمام کیا جاتاتھا داستان گوکاسب احترام کرتے اس طرح جہاں لوک داستانوں سے محظوظ ہوتے تھے وہاں ایک دوسرے کے دکھ دردمیں شریک ہونے کا بھی موقع ملتاتھا حسد،بغض اورنفرت نام کی کوئی شے سرے سے ہی موجود نہیں تھی اس میں بھی بلتی روایات اورثقافت کا اہم کردارہے میں تو جمعہ کے خطبات میںبھی بلتی لوک گیتوں کے ذکرکا قائل ہوںاس سے امن وآشنی کے فروغ میں مددملے گی جس کے لئے حکومت سالانہ بجٹ کا ایک بڑا حصہ خرچ کرتی ہے میں سمجھتاہوںکہ بلتستان کے ہرذی شعورشخص کو بلتی ادب خواہ منظوم لوک ادب ہوخواہ نثری لوک ادب ہوکو زندہ وجاوید رکھنے کے لئے اپنا کرداراداکرناچاہئے اسی میں ہماری قومی شناخت پوشیدہ ہے اس کوتلف اورضائع کرنے والے علاقہ ،ادب اورقوم دشمن ہیں۔بلتستان بانج پن کا شکارنہیں مٹی زرخیزہے بلتی ادب کو زندہ رکھنے کیلئے بہت ساری شخصیات اپنی مدد آپ کرداراداکررہی ہیں پہلے بھی اس حوالے سے کام کیاہے لیکن یہ بات یاد رکھی جائے کہ جن لوگوں کے سینوں میں بلتی لوک گیت چھپاہواہے وہ سمجھتے ہیں کہ ان کا ذکرکرنا گناہ ہے حالانکہ ایسانہیں ہے لوگوں نے گناہ کی تعریف اورمعانی میں تحریف کی ہے جس کی وجہ سے عوام اچھے کاموں کو بھی گناہ تصورکرتے ہیں حالانکہ یہی لوگ چوپال پرجمع ہوکربلا خوف غیبت کرتے ہیں حسداوربغض عام ہیںحق الناس کا پتہ ہی نہیں اوریہ حقیقت میں گناہ ہیںجبکہ غریبوں کی مدد کرنا ،والدین کی فرمانبرداری،میاں بیوی اورہمسایہ کے حقوق کی ادائیگی جسے امورخداسے قربت کے اسباب ہیںلیکن ہم ان سے دورکہیں اورثواب ڈھونڈرہے ہیںلوک گیت معاشرتی علم ہے اورعلم کو چھپانا گناہ ہے حسین میرپہ بلغاری نے علم کوچھپا کرتوبہ نہیں گناہ کیا ہے۔

تحریر:حبیب اللہ آل ابراہیم

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website