کیپٹن الوک بھانسل اور اس کی کتاب۔۔

0 0

تنازعہ کشمیر کی وجہ سے گلگت بلتستان بھی تکنیکی بنیادوں پر عالمی فورمز پر متنازعہ علاقہ تصور کیا جاتا ہے مگر دوسری طرف گلگت بلتستان کے لاکھوں انسان خود کو پاکستان کے محب وطن سپاہی سمجھتے ہیں. ملک کی دفاعی سرحدوں پر آئے روز گلگت بلتستان کے نوجوانوں کی لہو رنگ قربانیاں کسی طور متنازعہ نہیں ہیں. گلگت بلتستان والوں کو متنازعہ کہہ کر پکارنا ان کے خون کے ساتھ مذاق ہے. یہاں کے باسیوں نے 1947 میں نریندر مودی کی نسل سے چھٹکارا پایا ہے اور اپنے سے طاقت ور ڈوگرہ سرکار کو پسپا ہونے پر مجبور کیا ہے. گلگت بلتستان کا پاکستان سے تعلق انمٹ اور نظریاتی ہے جبکہ نظریہ کسی جغرافیائی تقسیم اور دستاویزی ثبوت کا محتاج نہیں ہوتا ہے. پاکستان کے ہر دور کے حکمرانوں نے نہ تو مسئلہ کشمیر کی نزاکت کو سمجھا ہے اور نہ ہی گلگت بلتستان کی اہمیت اور یہاں کے مکینوں کے احساسات کو قریب سے محسوس کیا ہے مگر گلگت بلتستان کے لوگ تمام تر گلے شکووں کے باوجود پاکستان سے خوش ہیں اور جب بھی ریاست کیلئے کسی بھی قسم کی قربانی درکار ہوتی ہے گلگت بلتستان کے جوان سینہ تان کر ہندوستانی فوج کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جاتے ہیں جبکہ اس کے برعکس انڈین مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکومت کی جانب سے کشمیریوں کی زندگی تنگ کر دی گئی ہے. بھارتی مقبوضہ علاقوں میں کشمیر کے مسلمان ہندوستان کے مظالم سے تنگ آچکے ہیں اور اپنی آزادی کا مطالبہ کر رہے ہیں مگر کشمیر کے لالہ زار اب انڈین فوجی چھاونی میں بدل چکے ہیں جہاں آئے روز کشمیری جوانوں کی لاشیں گرتی ہیں ماوں بہنوں کی عزتیں تار تار کی جا رہیں ہیں اور معصوم بچوں کی فریاد سننے والا کوئی نہیں ہے. ہندوستان طاقت کے ذریعے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو دبانا چاہتا ہے حالانکہ حق خودارادیت سے دنیا کا کوئی بھی چارٹر انکار نہیں کر سکتا ہے… پاکستان کشمیریوں کی سفارتی جنگ لڑ رہا ہے اور ہر فورم پر کشمیریوں پر ہونے والے بدترین مظالم کو نہ صرف اجاگر کرتا ہے بلکہ انڈین منافقت کو بے نقاب بھی کرتا رہتا ہے ایسے میں انڈین حکومت اور اس کے خفیہ ادارے متبادل حکمت عملی کے طور پر پراپگنڈہ توپ خانہ کھولا ہوا ہے جس کی سرپرستی انڈین خفیہ ایجنسی ” را” کر رہی ہے. اسی ایجنسی سے وابستہ ان کے عسکری افسر کیپٹن الوک بھانسل کی کتاب “Gilgit Baltistan and it’s saga of unending human rights violations” بھی اسی تسلسل کی کڑی ہے. کیپٹن الوک بھانسل بھی کلبھوشن یادیو کی طرح انڈین نیوی میں کئی سال تک بطور افسر اعلی عہدوں پر کام کرتے رہے ہیں. موصوف آجکل ایشین یورپین ہیومن رائٹس فورم کے سیکرٹری جنرل بھی کہلاتے ہیں جبکہ انڈین فاونڈیشن دہلی کے صدر بھی ہیں.. الوک بهانسل کی مذکورہ کتاب میں تاریخی حوالے اپنی جگہ لیکن جس پراپیگنڈے کا مصالحہ لگایا گیا ہے وہ قابل مذمت ہے. یہ کتاب 291 صفحات پر مشتمل ہے جس میں گلگت بلتستان کو پاکستان سے متنفر کرنے کی ناکام کوشش کی گئی ہے. تنازعہ کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کی قراردادوں کو بھارتی حمایتی لباس پہنایا گیا ہے.. کتاب میں کہیں بھی مقبوضہ کشمیر کے مظلوم انسانوں پر ہونے والی انڈین بربریت کا ذکر تک موجود نہیں ہے اور نہ ہی بلتستان کے علاقوں میں انڈین گولہ باری سے شہید کئے جانے والے گلگت بلتستان کے مکینوں کا تذکرہ ہے… کتاب میں گلگت بلتستان کو مقبوضہ وادی بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے حالانکہ گلگت بلتستان کی طرز زندگی عوامی اظہار رائے کی آزادی مقبوضہ کشمیر سے ہزار گنا بہتر اور آزاد ہے… گلگت بلتستان میں بہتر سالوں سے پاکستان کے آئین میں باضابطہ شامل ہونے کی تحریک چل رہی ہے جبکہ کشمیر میں ہندوستان سے آزادی اور خلاصی کی تحریک چل رہی ہے.. گلگت بلتستان کا ہر شہری خود کو پاکستان کا سپاہی سمجھتا ہے جبکہ سرینگر کے چوک چوراہوں پر لاکھوں کشمیری روز پاکستان کا پرچم بلند کر کے جدوجہد کر رہے ہوتے ہیں.. گلگت بلتستان میں فرقہ وارانہ فسادات عوامی باطنی کمزوریوں کا نتیجہ تھی جس کے تانے بانے بھی ہندوستان سے مل سکتے ہیں ورنہ گلگت بلتستان کے مختلف مسالک کے آپس میں رشتے ناطے ہیں… یہاں کے لوگ آپس میں ایک مضبوط ثقافتی زنجیر کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں…. الوک بھانسل پاکستانی ریاستی اداروں پر الزام تراشی کی بجائے اپنے گریبان میں جھانکتے تو معلوم ہوتا کہ پاکستان اور گلگت بلتستان کی بدامنی کی کوکہ سے بھی کوئی بھارتی کیپٹن(بھانسل) اور کلبھوشن برآمد ہوتے… یہ خون آلود درو دیوار یہ بے گناہوں کا ٹپکتا خون یہ مسلکی و لسانی جھگڑے اور فسادات کی کہانی میں کہیں نہ کہیں ہندوستان کی چیرہ دستیاں بھی شامل ہیں.. انسانی حقوق کی بحالی کا نام نہاد نعرہ مستانہ بلند کرنے والے الوک بھانسل کو کشمیر میں ہونے والی خونریزی سے چشم پوشی کیوں؟ کشمیر کی گلستانوں سے خوشبوؤں کی بجائے بارود کی بو آ رہی ہے مگر الوک بھانسل کوئی کتاب نہیں لکھتے؟ یہ تضاد یہ انسانی سروں کا کھیل کب تک جاری رہے گا. الوک بھانسل کی کتاب میں حقائق کو مسخ کیا گیا ہے… گلگت بلتستان میں تعمیرو ترقی کا سفر شروع ہوچکا ہے..لوگ پہلے سے زیادہ خوشحال اور پڑھے لکھے ہیں یہاں ہر سال چودہ اگست کو شایان شان طریقے سے منایا جاتا ہے جبکہ 27 اکتوبر کو یوم سیاہ کے طور پر منایا جاتا ہے جس میں بھارت کی جانب سے کشمیر پر ناجائز قبضے کی بھر پور مذمت کی جاتی ہے…. 20 فروری 2019 کو گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی میں الوک بھانسل کی کتاب پر مذمتی قرارداد منظور کئی گئی ہے جس میں حقائق سے نابلد الوک بھانسل کے منفی پراپیگنڈے کو رد کرتے ہوئے کتاب کو ایک سازش قرار دی گئی ہے. وزیر زراعت حاجی جانباز، وزیر قانون اورنگزیب ایڈوکیٹ اور رکن اسمبلی راجہ جہانزیب کی جانب سے لائی گئی اس قرارداد پر اسمبلی میں ٹریجری اور اپوزیشن پنچوں پر بیٹھے اراکین نے بھر پور تبصرہ کرتے ہوئے الوک بھانسل کو بھارتی خفیہ ایجنسی “را” کا ایجنٹ قرار دیا گیا جبکہ اس بات کا بھی اظہار کیا گیا کہ گلگت بلتستان کے لوگ پاکستان سے خوش ہیں جبکہ بھارت کی جانب سے کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی افسوس ناک ہے.. الوک بھانسل کی کتاب کے بعض تاریخی حوالوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس کتاب کو مواد فراہم کرنے میں کوئی گھر کا بھیدی بھی شامل ہے..

تحریر: فیض اللہ فراق.

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website