مقبوضہ کشمیر سے آرٹیکل 35- اے کی خاتمے کیلئے بھارتی سپریم کورٹ مقدمے میں سماعت دوبارہ شروع۔

0 0

نئی دہلی(آن لائن نیوز ڈیسک/ٹی این این)بھارتی سپریم کورٹ آج فروری19 سے فروری21 کے دوران مقبوضہ کشمیر میں غیر مقامی افراد کو جائیداد کی ملکیت وغیرہ سے روکنے کے متعلق بھارتی آئین کے آرٹیکل 35- اے کے خلاف مقدمہ کی سماعت کرے ۔بھارتی صدر کے حکم سے 1954 میں آئین میں شامل کیے گئے آرٹیکل 35- اے کے تحت جموں و کشمیر کے باشندوں کو خصوصی رعایت حاصل ہے۔ آئین کے اس آرٹیکل کے تحت غیر کشمیری افراد کو کشمیر میں زمینیں خریدنے، سرکاری نوکریاں حاصل کرنے، ووٹ ڈالنے اور دیگر سرکاری مراعات حاصل کرنے کا قانونی حق نہیں ہے۔سیاسی مبصرین کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے مکین دنیا کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ وہ خطے میں آبادی کے تناسب کی تبدیلی کسی بھی قیمت پر قبول نہیں کریں گے۔ بھارتی حکمران مدت سے اس کوشش میں مصروف ہیں کہ مقبوضہ وادی کی ڈیموگرافی تبدیل کردیں۔آرٹیکل 35 اے کے مطابق کوئی شخص صرف اسی صورت میں جموں و کشمیر کا شہری ہو سکتا ہے، اگر وہ یہاں پیدا ہوا ہو۔ کسی بھی دوسری ریاست کا شہری جموں و کشمیر میں جائیداد نہیں خرید سکتا اور نہ ہی یہاں کا مستقل شہری بن سکتا ہے۔آر ایس ایس کے ایک تھنک ٹینک گروپ جموں و کشمیر اسٹڈی سینٹر نے سپریم کورٹ میں آرٹیکل 35 اے کو چیلنج کر رکھا ہے۔ آرٹیکل 370 کی وجہ سے صرف تین معاملات ہی بھارتی حکومت کے پاس رہتے تھے، جن میں سیکیورٹی، خارجہ امور اور کرنسی ہیں، لیکن آہستہ آہستہ آرٹیکل 370 کمزور ہو گیا۔ اب اس میں کچھ بچا ہے تو صرف آرٹیکل 35 اے ہے۔آرٹیکل 35 اے ہٹا دیا تو بھارت کی دوسری ریاستوں سے آ کر لوگ یہاں جائیداد خریدیں گے اور مسلمان یہاں اقلیت بن کر رہ جائیں۔ بھارتی حکومت کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کر جائیں۔ مودی حکومت نے شرو ع دن سے ہی آئین کے ساتھ کھلواڑ کرنا شروع کر دیا تھا۔ آر ایس ایس کی طرف سے آرٹیکل کو چیلنج کرنے کے پس پردہ بھی مودی سرکار کا ہاتھ ہے۔ کشمیر کی مشترکہ آزادی پسند قیادت سید علی گیلانی ، میر واعظ عمر فاروق اور یاسین ملک نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 35 اے سے چھیڑ خانی ہوئی تو کشمیریوں کا شدید رد عمل ہوگا۔ 35 اے کو ختم کرنا کشمیر میں مسلمانوں کو اقلیت میں بدلنے کی سازش ہے ، کشمیری ایسا نہیں ہونے دیں گے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website