ضلع کھرمنگ کے معذور افراد کےمسائل۔۔۔

0 0

ویسے تو معاشرے کے اس قابل احترام طبقے کو پاکستان بھر میں مسائل و مشکلات کا سامنا کرنے پڑتے ہیں۔لیکن آپ میں سے کوئی اس طبقے کی انتہاپرمبنی مشکلات اور مسائل کا بغور جائزہ لینا چاہتے ہیں تو گلگت بلتستان کے پسماندہ ضلع کھرمنگ میں آئیں یہاں آپکو اس طبقے کو درپیش مشکلات کا بخوبی اندازہ ہو جاے گا۔عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ کسی سماجی مسائل کےحلکیلئے اس مسائل کے متعلق معلومات اکھٹا کیا جاتا ہے۔پھر اس مسائل کی بیخ کنیکیلئے اقدامات کیا جاتا ہے۔ان سماجی مسائل میں معلومات لینے کے عمل کو سروئے کہا جاتا ہے جس کی بنیاد پر سماجی مسائل کے تدارک کیلئے ممکنا اقدامات اٹھایا جاتا ہے۔لیکن کھرمنگ میں معذور افراد کے فلاح و بہبود تو چھوڑیے اس حوالے سے حکومتی سطح کوئی سروئےہوا ہے اور نہ ہی کسی غیر سرکاری تنظیم نے اس حوالے سے کوئی خاص اعداد وشمار اکھٹے کرنے کی کوشش کی ہیں ۔اس حوالے سے جب میں نے کھرمنگ میں موجود غیر سرکاری تنظیم ”کے ڈی ایف“ کے صدر عارف عظمی سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے گلے شکوئے پر مبنی طویل داستان کی فہرست تھما دی۔ میں یہ سن کر بہت حیران ہوا کہ اس وقت کھرمنگ ضلع میں مقیم معذور افراد کی تعداد1300 سے ذیادہ ہے۔جب کہ ان کے پاس صرف 300 افراد رجسٹر ہیں۔جو ان کے بقول اپنی مدد آپ کے تحت رجسٹر کر چکے ہیں۔میں سماجی بہبود کے طالب ہونے کے ناطےضلع میں اس طبقےکو درپیش مسائل کا احاطہ رجسٹر افراد کی تعداد کو دیکھ کر رہا ہوں۔ جہاں پر معذورافراد کی تعداد کے بارے میں معلومات نہ ہو وہاں پران کے فلاح کے لیے اقدامات کیسے ممکن ہیں۔معذور افرادکیلئے مخصوص کوٹہ کھبی یہاں کے معذور افراد کی دسترس میں نہیں رہا ہے۔ہر محکمے میں معذور افرادکیلئے مختص دو فیصد کوٹہ ہونے کے باوجود کسی بھی معذور افراد کو ابھی تک محکموں میں ملازمت نہیں ملی ہیں۔پورے کھرمنگ ضلع میں سرکاری یا غیر سرکاری ادارے کی طرف سے معذوروں کی فلاح و بہبودکیلئے کوئی ادارہ قائم نہیں کیا ہوا ہے۔جہاں سرکار اس ضلع کے معذور افراد سے آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں۔وہی این جی اوز بھی اس ضلع کے باہم معذور افراد سے خفا دکھائی دیتی ہیں۔کے ڈی ایف کھرمنگ کے صدر عارف عظیمی اپنی طرف سے ممکن کوشش کر کے معذور افراد کے مشکلات دور کرنے کی کوشش کرتے نظر آتے دکھائی دیتا ہے۔وہ کھبی معاشرے کے مخیر و سماجی رہنماوں سے رابطہ کرتے ہیں تو کھبی ضلع انتظامیہ کے سامنے معذوروں کے مسائل کو اجاگر کرتے نظر آتے ہیں۔مشاہدے میں آتا ہے جتنی مشکلات و مسائل کھرمنگ ضلع کےاس طبقے کو درپیش ہےاتنی پاکستان کے کسی دوسرے حصے میں نہیں ہوگا ۔کیونکہ ایک طرف ضلع میں ان کیلئے کوئی سہولیات میسر نہیں ہے تو دوسری طرف حکومت کی طرف سے کوئی اقدامات نظر نہیں آتے ہیں۔لیکن ہم سب پر ذمہ داری بنتی ہے کہ اس طبقے کو درپیش مشکلات کے حلکیلئے مل جل کر کام کریں۔حکومتی اراکین خاص کر ضلعی انتظامیہ کو چاہے کہ اس مظلوم طبقے کیلئے فوری اقدامات اٹھائیں۔میں تو کہتا ہوں کہ ہمارے ملک میں عمومی طور پر سماجی مسائل کے حل میں غیر سرکاری اداروں کا کردار بہت ذیادہ ہے۔اور غیر سرکاری سماجی اداروں کو عوام قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔غیر سرکاری اداروں کو چاہے کہ وہ جہاں اپنی خدمات سے دوسرے علاقوں کے معذوروں کی بحالی و خوشحالیکیلئےکام کر رہاہے وہی کھرمنگ ضلع میں باہم معذور افراد کیلئے بھی کام کریں۔آخر میں کے ڈی ایف کھرمنگ کے صدر عارف عظیمی کے گزارشات آپ سب کے سامنے رکھ کر اجازت چاہوں گا اور امید کرتا ہوں کہ آپ ان کے ساتھ دے کر اس طبقے کو درپیش مشکلات کا اذالہ کرنے میں شریک ہونگے۔کھرمنگ ضلع میں معذور افراد کی بحالی کیلئےآپ کے تعاون کے طلب گار عارف حسین عظمی سلائی مشینوالکر وہیل چیئراور دوسرے تمام امدادی سامان جو معذور افراد کیلئے ضروری ہوتا ہے۔ہم تک پہنچا کر شکریہ کا موقع دے۔

تحریر:ذوالفقار علی کھرمنگی

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website