خاندان کی پہلی اکائی سے لے کر سماج کی تشکیل تک والدین کے کردار کوکوئی نظر انداز نہیں کر سکتا۔ والدین کا کردا ر ہی وہ پہلا آئینہ ہے جس میں ایک بچے کا کورا ذہن اپنے مستقبل کا عکس دیکھتا ہے۔ انسانی ذہن کو مختلف نفسیاتی حصوں میں تقسیم کیا جائے تو یہ شعور، لاشعور اور تحت الشعور میں بٹا ہوا دیکھائی دیتا ہے۔ انسانی ذہن جب لاشعور سے شعور اور پھر تحت الشعور تک کی ارتقائی منزلیں طے کرتا ہے تو تجربات اور مشاہدات کی آمجگاہ سے گزر کر ایک مکمل کردار کی صورت میں ابھر کر معاشرے کا حصہ بنتا ہے۔ اب یہ والدین کی تربیت پر منحصر ہے کہ اس ارتقائی سفر میں جو فرد معاشرے کا کردار بنے گا وہ مثبت ہوگا یا منفی، مکمل ہوگا یا منتشر آزاد ہوگا یا محکوم ۔ نفسیاتی حوالے سے جب سماج کی تشکیل کے مراحل کا مطالعہ کیا جاتا ہے تو سماج چار مختلف نفسیاتی پہلوں کی عکاسی میں تشکیل پاتا ہے جن کو عموماََ درجہ ذیل پہلو ؤں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
1۔آمرانہ 2۔ عادلانہ 3۔ آزادانہ 4۔ غیر جانب دارانہ
یہ تقسیم والدین کی تربیت کے مختلف پہلو ہیں جن کے زیر سایہ فرد معاشرے کا حصہ بنتا ہے۔ آمرانہ تربیت ماحول میں پرورش پانے والا بچہ شخصی آزادی سے یکسر محروم ہوتا ہے ۔ اس نظام تربیت کو اگر ہم مختلف سماجی سرگرمیوں کے تناظر میں مشاہدہ کریں تو تحقیقات کے مطابق والدین ایک آمر کا کردار کرتے نظر آتے ہیں۔ یہاں توقعات نہ صرف زیادہ ہوتی ہیں جس کو نفسیاتی زبان میں High Demandingکہا جاتا ہے بلکہ والدین بچے کی طرف غیر ضروری محکمانہ توجہہ High Responsiveness برتتے ہیں۔ اس کے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں کہ بچہ شخصی آزادی سے یکسر محروم ہو جاتا ہے۔
تعلیمی میدان میں جبر بچے کی تخلیقی صلاحیتوں کو انحراف جبری سرگرمیاں، حاکمیت کا بے جا تسلط اور عزت نفس کی نشونما میں رکاوٹ نفسیاتی طور پر بچے کو OCD کا شکار کر دیتے ہیں جس کی وجہ سے دیگر نفسیاتی مسائل جیسے جرم اور بغاوت جنم لیتے ہیں۔ یہ اس معاشرے کی عکاس ہے جس میں جمہوریت اور بچے کی ذاتی رائے کا احترام محال ہے اس کے بر عکس دوسرا تربیتی نظا جو کہ نفسیات کی زبان میں عادلانہ کہلاتا ہے فرد کے لئے بہتر ہے جس میں توجہ (Responsiveness) تو زیادہ ہوتی ہے مگر توقعات ہونے کی وجہ سے بچے کی تخلیقی سرگرمیوں کو سراہا جاتا ہے۔ شخصی آزادی کا احترام کیا جاتا ہے جس کی نتیجے میں بچے میں خود اعتمادی ، یقین ، عزت نفس کی پاسداری اور شخصی پہچان جیسی مثبت خوبیاں جنم لیتی ہیں۔ ایسے بچے نہ صرف تعلیمی میدان میں نمایاں مقام حاصل کرتے ہیں بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں کامیاب ہو کر معاشرے کی فلاح و بہبود میں اپنا مثبت کردرار ادا کرتے ہیں ۔ شاید ہی ایسے بچے کسی نفسیاتی بیماری کا شکار ہوتے ہیں اور اگر ہوئے بھی تو خود اعتماد رویوں کی بدولت ، یقین کی منزلوں سے گزر کر ذہنی ارتقاء کا سفر طے کرتے ہیں۔ تیسرا تربیتی نظام آزادانہ کہلاتا ہے جس میں توجہہ حد سے زیادہ ہوتی ہے اور توقع بلکل نہیں رکھی جاتی ۔ یہ مادر پد ر آزاد معاشرے کی عکاس ہے یہاں بے جا لاڈ پیار کی ہر جائز و ناجائز خواہشات کو پورا کرنے کی کوشش بچے کو مختلف نفسیاتی پیچیدگیوں کا شکار کر دیتے ہیں۔ ایسے بچے جب زندگی کے تلخ حقائق کا سامنا کرتے ہیں تو ذہنی انتشار کا شکار ہو کر انفرادیت کی تلاش ADHD اور بہت سارے مختلف نفسیاتی ا نتشار کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اسکے علاوہ تنہائی ، بے نیازی اور لاپرواہی ایسے معاشرے کو زمینی حقائق کے تناظر میں مکمل انتشار (Anarchy) کی طرف دھکیل دیتا ہے جس سے معاشرے کا شیرازہ مزید بکھر جاتاہے اسی معاشرے کی قریب قریب عکاسی آخری تربیتی نظام بھی کرتا ہے جو کہ غیر جانبدارانہ ہے۔
جدید تحقیقات کے مطابق یہ نظام یکسر غافل اور لا پرواہ ہوتا ہے یہاں پہ توقعات ہوتی ہیں نہ توجہہ یہ مکمل نظر انداز معاشرہ ہے جو کہ مادہ پرستانہ ماحول کے ریلوں میں بہہ کر والدین اور اولادکے رشتے کو رسمی سا کر کے رکھ دیاتا ہے۔ یہاں نہ سر زنش ہوتی ہے نہ محکم ، نہ قانون کی بالا دستی، نہ جرائم کی روک تھام ، یہ ایسے معاشرے کی عکاس ہے جہاں انسان مشنیست کا شکار ہو کر ایک خودکار لا شعوری رویوں میں ڈھلتا ہے اور انارکی (Anarchy)سے بھی ایک قدم آگے نکل کر آئیڈیل انارکی (Ideal Anarchy) کی طرف بڑھ جاتا ہے جہاں نظام زندگی تو بظاہر پر سکون اور یکجا نظر آتی ہے مگر زرا سی شعور کی جھنجھلاہٹ معاشرے کا شیرازہ مکمل طور پر بکھیر کر رکھ دیتا ہے۔
المختصر سماج کی تشکیل میں والدین کے کردار کو کوئی رد نہیں کر سکتا ۔ والدین معاشرے کا ہو پہلا آئینہ ہے جس میں ایک معصوم بچے کا زہن اپنے مستقبل کا عکس دیکھتا ہے ۔ اگر اسے وہ آئینہ کرچیوں میں بٹا ہوا ملا تو وہ تا عمر ان بکھرے شیرازوں میں اپنی انفرادی پہچان کی حقیقت کا متالشی رہے گا اور اگر وہ اس آئینے کو مکمل پالے تو یہ وہ آئینہ ہے جس سے اسکی زندگی کا ایک مکمل عکس ابھر کر معاشرے کا حصہ بن سکتا ہے ۔ نظام تربیت کچھ بھی ہو نفسیاتی تحقیقات کتنی ہی محقیقانہ کیوں نہ ہوں جب تک معاشرتی آئینے میں حقیقت اور عکس مکمل ایک دوسرے کی پرچھائی نہ ہواور مکمل ایک دوسرے کی عکاسی نہ کر سکیں معاشرہ ترقی اور فلاح و بہبود کی راہ پر گامزن نہیں ہو سکتا۔ معاشر ہ تبھی فلاح و بہبود کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے جب تک والدین بچوں کی پرورش اور ان کی تربیت میں اپنا حقیقی کردار پوری ایمانداری اور مثبت طریقے سے سر انجام نہیں دیں گے معاشرے کا شیرازہ یونہی بکھرا رہے گا۔
تحریر: شمائلہ زبیری ایم ایس ایجوکشنل سےئکالوجی
اسلامک انٹرنیشنل یونیورسٹی اسلام آباد
More Stories
شاہراہ بلتستان ،شاہراہ قراقرم کی زبوں حالی اور سیاحت کا مستقبل۔
دیرینہ کارکنوں کی قربانیاں اور سیاسی جماعتیں
اقوام متحدہ میں گلگت بلتستان کا مقدمہ ہے یا نہیں ؟