گلگت بلتستان جو کہ پاکستان کے جغرافیائی دفاعی اور اب معاشی حوالے سے بھی کلیدی کردار کا حامل ہے، گزشتہ ستر سالوں سے اپنے بنیادی حقوق سے محروم چلا آرہا ہے۔ بے پناہ قدرتی وسائل رکھنے کے باوجود روزمرہ کی ضروریات سے محروم اور مسائل میں گرا نظر آتا ہے۔آئینی و انتظامی مسائل اور معاملات کو دیکھا جائے تو گلگت بلتستان کے بڑے ایشوز مندرجہ زیل ہیں جو کہ عوامی مطالبات بھی ہیں اور جنکا ل کرنا ریاست پاکستان کے بہترین مفاد میں بھی ہے؛۱۔ گلگت بلتستان جو کہ یکم نومبر ۱۹۴۷ کو اپنی مدد آپ کے تحت آزاد ہوا تھا اور ب سے ہی پاکستان ک زیر انتظام ہے، آج تک حق حکمرانی سے محروم ہے۔ قومی اسمبلی سینیٹ آف پاکستان سمیت تمام آئینی اداروں میں اس خطے کی نمائندگی نہیں ہے۔ تنازع کشمیر کی وجہ سے گلگت بلتستان کو آئینی صوبہ یا عبوری صوبہ نہیں بنایا جاسکتا لیکن اس علاقے کو آزاد کشمیر طرز کی داخلی خودمختاری دے کر انہیں انکے حقوق دئیے جاسکتے ہیں۔
یاد رہےیہ عمل یہاں کی عوام سے احساس محرو میاں دورکرنے اور پاکستان سے اپنی بے لوث وابستگی کو برقرار رکھنے میں مددگار و معاون ثابت ہوگی۔
سی پیک جیسے گیم چینجر میں گلگت بلتستان کا کلیدی رول ہے کہ اسکے بغیر سی پیک مکمل نہیں ہوسکتا۔ اسے سی پیک کا گیٹ وے بھی کہا جاسکتا ہے۔ بدقسمتی سے پچھلی حکومت کے دور میں ہونے والے معاہدوں میں گلگت بلتستان کے لئے کچھ بھی نہیں ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سی پیک کے پراجیکٹس اور پرافٹ میں گلگت بلتستان کو مکمل اور انکی اہمیت کے مطابق حصہ دیا جائے۔
سی پیک کی وجہ سے گلگت بلتستان می جو ماحولیاتی تبدیلیاں آئیں گی انکے نتیجے میں گلیشئیرز کے پگھلاو اور ماحولیاتی آلودگی میں بے پناہ اضافہ ہوگا۔ گلیشئیرز کے پگھلاو کی وجہ سے سیلاب آئیں گے جس سے پورا ملک متاثر ہوگا۔ماحولیاتی اثرات سے بچانے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ملک کے مستقبل اور پانی کے سب سے بڑے زخیرے کو بچایا جاسکے۔
گلگت بلتستان میں عوام میں آج کل ناراضگی اور ریاست سے متنفر کرنے میں ایک بڑا عمل خالصہ سرکار کے نام پر عوامی اراضیوں پر سرکاری قبضے ہیں۔ پہاڑوںکے بیچ کچھ ہی میدانی علاقے ہیں جو کہ وہاں کے قدیمی قوانین کے تحت عوامی ملکیت ہیں۔ ان میدانوں اور اہم جگہوں پر سرکاری قبضہ اورعوام کو انکی زمین سے محروم کرنے کا عمل نہ صرف ظالمانہ ہے بلکہ عوام کو ریاست سے متنفر کرنے کا سبب بھی بن رہا ہے۔ جب گلگت بلتستان تنازع کشمیر کی وجہ سے متنازع ہے تو وہاں کی زمین کس حیثیت سے سرکارکی ہوسکتی ہے؟ حکومت کو اگر کسی پراجیکٹ کیلئے زمین چاہئے توعوام کو پیسے دیکر زمین حاصل کرے نہ کہ عوامی زمینوں پر جبری قبضہ کرے۔
واہگہ اور کرتارپور کوریڈور کی طرح گلگت بلتستان میں بھی قدیمی راستے کھولے جائیں تاکہ یہاں پر موجود خاندان جو پاکستان بھارت جنگ کی وجہ سے بچھڑ گئے ہیں انکو آپس میں ملنے کا موقع ملے۔ کارگل سکردو روڈ ، غذر تاجکستان روڈ استور سری نگر روڈ اور استور مظفرآباد روڈ کو باہمی رابطوں اور تجارت کیلئے کھولا جائے۔ ریاست کا یہ اقدام لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف موجود لوگوں کے دل جیتنے کا اہم ذریعہ ہوگا اورریاست کے بہترین مفاد میں ہوگا۔
دیامر بھاشا ڈیم سمیت دیگرمیگا پراجیکٹس جو گلگت بلتستان میں بنائے جارہے ہیں ان کی رائیلٹی اور ان میں نوکریوں کاپہلا حق گلگت بلتستان کو دیا جائے۔۷۔ گلگت بلتستان میں انجینئرنگ اور میڈیکل کالجز کا قیام عمل میں لایا جائے۔ المیہ ہے کہ آج تک گلگت بلتستان میں میڈیکل یا انیجینرنگ کالج کا قیام عمل میں نہیں لایا گیا۔
گلگت بلتستان میں سابق حکومتوں کی طرف سے سیاسی عناد پر سیاسی قیادت کے خلاف بنائے گئے مقدمے فی الفور ختم کرکے تمام سیاسی اسیروں کو فی الفور رہا کیا جائے۔ موجودہ وزیر اعلی حافظ حفیظ الرحمن یہ بات میڈیا میں تسلیم کرچکے ہیں کہ بابا جان اور انکے ساتھیوں پر قائم مقدمات سیاسی بنیادوں پر بنائے گئے ہی۔
گلگت بلتستان کو انتظامی عدالتوں کے بجائے آزاد اور آئینی عدالتیں فراہم کی جائیں اور تین سالہ کنٹریکٹ کی بجائے مستقل بنیادوں پر اعلی عدالتوں کے جج مقرر کئے جائیں۔
گلگت بلتستان میں سیاسی اور سماجی کارکنوں پر نیشنل ایکشن پلان اور شیڈول فور کا نفاذ فی الفور روکا جائے۔ دہشت گردوں اور انکے حمایتیوں کو کھلی چوٹ دیکر اس قانون کو سیاسی بنیادوں پر مخالفین کی آواز دبانے کیلئے استعمال کرنا بنیادی انسانی حقوق کے بھی خلاف ہے اور پاکستان کے آئین اور قانون کے بھی خلاف ہے۔امید ہے ارباب اختیار ان تمام اہم اور ضروری مطالبات و معاملات پر عمل کرینگے اور عوام گلگت بلتستان کی عمران خان پر قائم اعتبار اور امید کو ٹوٹنے سے بچائیں گے۔
تحریر:انجینئر تحسین علی رانا
سابق وزیر اعظم ، یوتھ پارلیمنٹ آف پاکستان
گلگت بلتستان کے معاملات ، مسائل اور عوامی مطالبات۔
More Stories
شاہراہ بلتستان ،شاہراہ قراقرم کی زبوں حالی اور سیاحت کا مستقبل۔
دیرینہ کارکنوں کی قربانیاں اور سیاسی جماعتیں
اقوام متحدہ میں گلگت بلتستان کا مقدمہ ہے یا نہیں ؟