تحریر
موسٰی چلونکھا
سکردو جتنا خوبصورت ہے اس حساب سے یہاں کے عوام بھی خوبصورت اور کھلے دل ہیں اور یہاں کے عوام کی مہمان نوازی دنیا کے کیلئے قابل تقلید ہے یہ کہنا تھا بلتستان میں بسنے والے مہاجرین کرگل لداخ کا جو 1971 اور 1948 میں ہجرت کرکے سکردو ائے تھے ان مہاجرین میں راقم کے دادا مرحوم حاجی عبداللہ بھی شامل تھا ان کی ایک بات میرے دل و دماغ سے نکلتی ہی نہیں ان کا کہنا تھا کہ سکردو جتنا وسیع ہے اس حساب سے سکردو کے عوام کا دل بھی وسیع ہے اور پاکستان کی افواج جتنی طاقتور ہے اتنی ہی عوام کیلئے دل میں نرم گوشہ رکھتے ہیں اور پاک فوج کے بغیر پاکستان ادھورا ہے اگر پاکستان کی فوج نہ ہوتی تو ہمارے سیاستدان ملک کب سے ہی فروخت کرچکے ہوتے اور میرا دادا مرحوم کہتا تھا کہ مہاجرین کو پی پی ن لیگ کا نام لینا ہی حرام ہے کیونکہ ان سیاسی پارٹیوں نے مہاجرین کیلئے کچھ کام نہیں کیا اور مہاجرین کچھ سہولیات دینے کے حوالے سے کوئی امید نہیں رکھنا اگر امید رکھنا ہے صرف پاک فوج پر رکھنا میرا دادا کو وفات ہوکر 12 سال ہونے کے قریب ہے اور مہاجرین کرگل لداخ 1971 کو اگر کسی نے دیکھا ہے تو صرف پاکستان ارمی نے ہی ان مہاجرین کو ہر سہولیت فراہم کرنے کیلئے اقدامات کئے ہیں اور مہاجرین کرگل لداخ میں جو احساس محرومیاں ختم کرنے کی کوشش کی ہے تو صرف پاک فوج ہی نے کی ہے اور اس طرح کی کوششیں اب بھی پاک فوج ہی کررہی ہے اگر ہم تاریخ پر نظر ڈوائیں تو 1971 میں مہاجر ہونے والوں کو اس دور کے جمہوری پارٹی نے صرف تسلی کے سوا کچھ نہیں دیا 1979 میں اس وقت ملک میں مارشل لاء نافذ تھا اور جنرل ضیاءالحق نے ان مہاجرین سے خود ملنے ایا اور اس دور میں مہاجرین کے فی گھرانہ 19 ہزار روپے دیئے گئے اور سرفرانگاہ کے مقام پر 22 کنال زمین الاٹ کئے گئے اور مہاجرین کو تمام سہولیات فراہم کرنے کیلئے اقدامات کئے گئے اس کے بعد کسی بھی جمہوری حکومت نے پلٹ کے بھی ان کی خبر نہیں لی گئی اور اللہ کا کرنا ملک کا اقتدار پھر پاک فوج کے ہاتھوں آیا اور جنرل پرویز مشرف ملک کے سربراہ بنے اور انہوں نے بھی سکردو دورے کے دوران سب سے پہلے مہاجرین کرگل لداخ سے ملاقات کی پانچ منٹ کا ٹائم ملا اس ملاقات میں مہاجرین نے مطالبہ کیا ایک تو آباد کاری دوسرا مطالبہ کرگل سکردو روڈ کا تھا اس روڈ کی کھولنے کی صورت میں دونوں اطراف میں پچھڑے ہوئے خاندان اپس میں مل سکتے ہیں اور محسن گلگت بلتستان و پاکستان جنرل پرویز مشرف نے مہاجرین کے آباد کاری کیلئے دو کروڑ کا خصوصی گرانٹ پاک فوج کے بجٹ سے رکھا بعد میں محکمہ تعمیرات عامہ کے افسران نے بھی اپنا دس فیصد کمیشن کے خاطر پروجیکٹ کو ناکام بنا دیا اور کرگل سکردو روڈ کو کھولنے کیلئے تیار دونوں ممالک کے وزیر خارجہ نے معاہدے پر دستخط بھی کیے اور اسی رات کو مہاجرین کی بدقسمتی سے بھارت اور پاکستان کے درمیان اچانک سے تعلقات خراب ہوئے اس دن سے اپ تک تعلقات خراب چلے آرہے ہے اور بہتری کی کوئی امید بھی نظر نہیں اہا رہی ہے اور مہاجرین کے دلوں میں احساس محرومی روز بروز بڑھ رہا تھا کیونکہ گلگت بلتستان کے سابق وزیر اعلیٰ سید مہدی شاہ جو مہاجرین کرگل لداخ کے ووٹوں سے ممبر منتخب ہوا تھا جو پانچ سالہ دور اقتدار میں مہاجرین کی مسائل تو حل کرنا دور کی بات مہاجرین کے ساتھ ملاقات کا ٹائم مانگنے پر دس بہانے بناکر ملاقات نہیں کی اور اب گلگت بلتستان میں مسلم لیگ ن کا اقتدار ہے اور وزیر اعلی حافظ حفیظ الرحمان کے کاندھے پر ہے انہوں نے بھی مہاجرین کی مسائل سنے کیلئے کبھی ٹائم نہیں دیا ملاقات کرکے کچھ نہیں دیا تو بھی پاکستان کے خاطر اپنا سب کچھ قربان کرنے والوں کو حوصلہ بڑھانا اور میرا دادا مرحوم کی وہی بات یاد ائی یہ بات سچ ہوئی اللہ تعالیٰ کا کرنا گلگت بلتستان کا فورس کمانڈر ایک فرض شناس اور انتہائی قابل دیانتدار میجر جنرل کو بنایا گیا جو پہلے سکردو کا بریگیڈ کمانڈر اپنا کام احسن طریقے سے بخوبی سرانجام دے کر بلتستان کے غریب عوام کے دلوں میں جگہ بناچکے تھے چلا گئے تھے جب ان کی مدت پوری ہونے کے بعد جب تبادلہ ہوکر چلا گیا تھا پورا سکردو کو اداس کرکے چھوڑ کر چلا گیا تھا اور اللہ تعالیٰ کا کرنا بلتستان کے عوام کی دعا قبول قبول ہوگئی وہ بریگیڈیئر سے ترقی ہوکر میجر جنرل بن کر پورے گلگت بلتستان کا کمانڈر بن کر ایا ان کا نام ہے میجر جنرل احسان محمود اور گلگت بلتستان کا فورس کمانڈر بننے کے بعد بلتستان کا دبنگ دورہ کیا اور اپنے دورے میں انہوں مہاجرین کرگل لداخ 1971 کے ساتھ ملاقات کیا اور مہاجرین کے اندر جو احساس محرومیاں جنم لے رہا تھا ان کو پہلی ملاقات میں ختم کردیا اور مہاجرین نے کہا اللہ تعالیٰ نے ہمارے اوپر فرشتہ بناکر بھیجا گیا ہے اور مہاجرین کرگل لداخ کا ایک چشم چراغ پاک فوج میں کرنل کی پوسٹ پر تعینات ہے کرنل افضل فاروقی نے مہاجرین کی تنظیم ال مہاجرین کرگل لداخ 1971 کے صدر محمد خان کو فون کرکے خوشخبری سنا دی اور کہا کہ فورس کمانڈر میجر جنرل احسان محمود نے مہاجرین کے ساتھ ملاقات کرنا چاہتے ہیں اور مہاجرین نے سوچا مہاجرین کی وفد میں پانچ چھ لوگ جائینگے اور اجلاس ہوا ملاقات کیلئے تنظیم نے وفد کا چناو کیا بعد میں دوبارہ اطلاع موصول ہوئی اور بتایا گیا کہ فورس کمانڈر نے ان تمام بزرگوں سے ملنا چاہتا ہے جو پاکستان کا نام لیکر پاکستان کے خاطر اپنا گھر بار چھوڑ کر ائے ہوئے ہیں ان سب سے ملنا چاہتے ہیں تو مہاجرین میں الگ خوشی کی لہر دوڑ گئی اور مہاجرین نے شکر ادا کیا اج ہم سب کی فریاد کو سنے والا ملا اور اس ملاقات میں مہاجریں کی 50 سے زائد لوگ شامل تھے ویسے تو وفد کی ملاقات میں پانچ دس لوگ ہوتے ہیں قارئین کرام اپ اس بات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے ملاقات میں پچاس سے زائد افراد پر مشتمل ہو اور ہر بزرگ مہاجرین کے ساتھ گلے مل کر حال چال پوچھ رہا تھا سب سے اچھی بات یہ کھلی کچہری کی طرح تھا قائم مقام کمشنر سیمت اہم سرکاری محکموں کے سربراہان کو بھی ملاقات میں ساتھ لیکر ایا تھا اور مسائل کے نشاندہی پر متعلقہ محکمے کے سربراہ کو مسائل کے حل کرنے کی احکامات جاری کیے گئے اور مہاجرین کرگل لداخ 1971 کے چیئرمین غلام احمد نے مہاجرین کے مسائل پر روشنی ڈالی اور گلگت بلتستان کے فورس کمانڈر میجر جنرل احسان محمود خان نے اس موقعے پر فورس کمانڈر نے غریب مہاجرین کے بچوں کے لئے تعلیمی خصوصی سہولتوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ مستحق گھرانوں کے آٹھوین جماعت میں زیر تعلیم 5 بچوں کو گلگت لے جاکر پاک فوج تعلیم دلائے گی ۔ انھوں نے بی ایس سی پاس ایک طالبہ جس کے پاس آگے تعلیم کے لئے مالی وسائل نہ تھے پاک فوج کی طرف سے تعلیم دلانے کا اعلان کیا ۔ انھوں نے مہاجرین کی مستقل آباد کاری کے لئے بھی ہر ممکن مدد کرنے کی یقین دلائی ۔انھوں نے انجنرینگ کی تعلیم حاصل کرنے والوں کے لئے روزگار کی فراہمی میں مدد دنیے اور مہاجرین کے لئے قبرستان کے لئے زمین دلانے کا بھی اعلان کیا غریب مہاجرین کیلئے صحت کیلئے اہم پیکچ کا اعلان کرتے ہوئے کہا سی ایم ایچ سکردو میں فری اعلاج کیا جائے گا اور مہاجرین کا سب سے بڑا مسلہ بے روزگاری کا تھا اس کو بھی حل کرتے ہوئے پاک فوج میں مہاجرین کرگل لداخ کے بے روزگاروں کو بھرتی کرنے کا اعلان کردیا ۔اس کے علاوہ غریب معذور بیوہ یتیم مہاجرین کیلئے مالی تعاون کرنے کا بھی اعلان کیا اور غریب مہاجرین کا دل جیت لیا اور انہوں نے کہا کہ پاک فوج اورحکومت آپ لوگوں کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے مہاجرین لداخ کرگل 1971 نے محسن گلگت بلتستان فورس کمانڈر جنرل احسان محمود صاحب کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع مہاجرین کرگل لداخ 1971 نے حال میں ایک ہی نعرہ لگا رہا تھا پاکستان زندہ باد ،پاک فوج زندہ باد فورس کمانڈر گلگت بلتستان احسان محمود زندہ باد ان نعروں سے پورا حال گونج رہا تھا.
More Stories
شاہراہ بلتستان ،شاہراہ قراقرم کی زبوں حالی اور سیاحت کا مستقبل۔
دیرینہ کارکنوں کی قربانیاں اور سیاسی جماعتیں
اقوام متحدہ میں گلگت بلتستان کا مقدمہ ہے یا نہیں ؟