نگر ( اقبال راجوا) وزیر اعلیٰ کے بر روڑٹینڈر بارے میں سازش کے انکشاف کا کچھ پتہ چلاہ اور نہ الٹیمٹم دئے گئے دس دن میں چھلت بر ویلی روڑ منصوبے پر کام کا آغاز ہوگیا۔وزیر اعلیٰ کے انکشاف کردہ اعلان میں کا کسی بھی سازشی عناصر کو پکڑا گیا ۔تحصیل چھلت شینبر کے عوامی حلقوں بر ویلی روڑ پر وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمان کے سازش ہونے کے انکشاف کے بعد میں تشویش انتہاتک پہنچ گئی۔ زندگی کے مختلف طبقوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے چھلت بر ویلی روڑ کی تعمیر و توسیع اور میٹلنگ منصوبے کے التواء در التواء کا شکار ہونے پر لمحہ لمحہ بے چینی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آخر ہمارے علاقے کے ساتھ اس طرح کا ظالمانہ سلوک کیوں رو ا رکھا جا رہا ہے ۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان نے اپنے سراکری دورے پر یہ انکشاف کیا ہے کہ اس منصوبے کے خلاف سازش کی گئی ہے لیکن آج تک ان سازشی افراد کو سامنے لاکر کوئی سزا کیوں نہیں دی جارہی اگر حکومت سازشی افراد سے خوف کھا رہی ہے تو ہمیں بتا دیں کہ کون ہے ہم عدالت سے رجوع کر کے ان سازشی عناصر کو بے نقاب کرنے کے ساتھ سزا بھی دلا دیں گے۔ یہ کیا ہے کہ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان سازش کا انکشاف کرنے کے بعد محکمہء تعمیرات عامہ کو دس دن کی مہلت دیتا ہے لیکن مہلت کے دس دن گزر جانے کے باوجود ابھی تک اس معاملے بارے میں کچھ بھی نہیں ہو رہا ہے ٹینڈر منسوخ ہو رہا ہے یا کچھ اور عوام کو اس سے بے خبر رکھا گیا ہے ۔ وزیر اعلیٰ کے اس اعلان پر عملدر آمد نہیں ہو رہا ہے تو دیگر اعلانات پر کیسے عملدر آمد ہوگا۔ آخر کار ہمارے اس معاملے کو کون اور کب عمل کرے گا۔ ہمیں اس بات بات پر کہیں مجبور تو نہیں کیا جارہا ہے کہ ہم عدلیہ سے رجوع کریں یا کوئی احتجاج کریں ۔ وزیر تعمیرات عامہ سے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ کم از کم ان کے سربراہ کے اعلا ن پر عملدر آمد نہ ہونیکی وجوہات معلوم کر کے عوام کو اس سے آگاہ کریں ۔ واضح رہے کہ 13کروڑ روپے سے زائد مالیت کی خطیر رقم سے چھلت تا بر ویلی 27کلومیہٹر توسیع،مرمت اور کارپٹنگ کیلئے آج سے دو ماہ قبل ٹیندر کرایا گیا تھا جس کو ایک نو وارد ٹھیکیدار نے صرف پانچ کروڑ چالیس لاکھ روپے کے ٹینڈر سے حاصل کرلیا تھا اسی منصوبے بارے میں عوامی مطالبے پر وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان نے منصوبے کے ٹینڈر میں سازش ہونے کا اظہار اپنے دورہ نگر کے دوران ایک عوامی اجتماع میں کیا تھا۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا