کھرمنگ (نمائندہ خصوصی) کھرمنگ کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنےوالے عمائدین و طلبہ جن میں منور علی،حاجی رسول حسن ،غلام حسین سابق ممبر یونین کونسل محمد حسن و طالب علم رضا علی نے حکومت وقت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پچھلے کئی برسوں سے بند سکردو کارگل روڈ اور بالائی کھرمنگ میں غیر ملکی سیاحوں پر پابندی عائد ہونے کی وجہ سے ہماری معشیت بُری طرح مفلوج ہو چکا ہے۔جس کی وجہ سے ہم اپنی پرکھوں کی زمین کو غیر آباد کر کے دوسرے شہروں میں زریعہ معاش کی خاطر ہجرت کرنے پر مجبورہے۔اس وقت سیاحت کا شعبہ گلگت بلتستان میں انڈسٹری کی حیثیت کر چکا ہے لیکن افسوس کھرمنگ میں حکومتی عدم توجہی کے باعث سیاحت کا شعبہ بلکل ابتر ہو چکا ہے۔اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ کھرمنگ کے کچھ علاقے خصوصاً بالائی کھرمنگ کےحسین علاقوں کو وار زون قرار دے کر عالمی سیاحوں پر پابندی عائد کیاہوا ہے تو دوسری طرف ملکی سیاحوں کو کھرمنگ کے مختلف علاقوں تک رسائی دینے کیلئےمحکمہ سیاحت کی طرف سے خاص میکنزم نہیں بنایا ہوا ہے جس کی وجہ سے کھرمنگ کے حسین مقامات ملکی و غیر ملکی سیاحوں کے آنکھوں سےاوجل ہے۔انہوں نے صوبائی حکومت و سکرٹیری سیاحت گلگت بلتستان سے مطالبہ کیا کہ وہ اس حساس معمولےکو جلد از جلد حل کریں بصورت دیگر عوام اپنے حقوق کی ناختم ہونے والے تحریک کاحصہ بن سکتے ہیں
سکردو کارگل روڈ سمیت بالائی کھرمنگ کے علاقوں کو سیاحت کیلئے کھول دیا جائے۔ اہل علاقہ
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا