راولپنڈی( مانٹرینگ ڈیسک)سابق وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان نے کہا ہے کہ ہمیں عدلیہ اور فوج سے لڑائی نہیں لڑنی چاہیے اسی میں نوازشریف، ن لیگ اور سیاسی عمل کی بھلائی ہے۔ ٹیکسلا میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے چودھری نثار نے کہا کہ انتخابی حلقے میں جو متبادل کی تلاش کررہے ہیں ان کی الیکشن میں ضمانت ضبط ہوگی، اپنے انتخابی حلقے میں مسلم لیگ ن کی ایک ایک اینٹ میں نے رکھی ہے، مجھ سے پہلے تو اس حلقے سے مسلم لیگ کے امیدواروں کی ضمانتیں ضبط ہوتی تھیں، مجھے یہ بتایا جائے کہ مسلم لیگ ن کا بیانہ کیا ہے، میرا موقف یہ ہے کہ ہمیں عدلیہ سے لڑائی نہیں لڑنی چاہیے، ہمیں پاکستانی افواج سے لڑائی نہیں لڑنی چاہئے، اگر نااہلی سے متعلق کوئی ریلیف ملے گا تو اسی سپریم کورٹ سے ملے گا۔ اس موقف کا اظہار پچھلی کابینہ اور پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو میں پیش کیا تھا ،کوئی فاروڈ بلاک نہیں بن رہا اور نہ کوئی دھڑے بندی ہورہی ہے،اس بات میں کوئی شک نہیں کہ میں مسلم لیگ ن میں ہوں،پارٹی کے معاملات پر پارٹی کے اندر ہی بات کرتا ہوں، پارٹی اور پالیسی کے حوالے سے تحفظات پارٹی کے اندر ہی کروں گا ان باتوں کو عام نہیں کرسکتا، میں نے کابینہ میں آنے سے معذرت کرلی اور خود کو حلقے تک محدود کردیا، بہت سی چیزوں کی وضاحت کا وقت آگیا ہے اور جلد ہی بہت سے باتوں کی وضاحت کروں گا ، ہرچیز پر تنقید نہیں ہونی چاہئے کیونکہ تنقید ملک کو لے بیٹھی ہے، مخالفین چاہتے تھے کہ میں کسی حلقے سے کامیاب نہ ہوں۔ جب وزیر داخلہ کے حوالے ذمہ داریاں سنبھالی تو غیرملکیوں کو ویزے کے حوالے سے مشکلات شدید تھیں،میں نے ملکی مفاد کے خاطر غیرملکیوں کے لیے ویزے کی شرائط کو سخت کیا، ویزے کے حوالے سے دوطرفہ پالیسی کا فیصلہ کیا کہ جن ممالک کو ہم ویزا دیں وہ ممالک جواب میں ہمارے شہریوں کو بھی اسی فیس پر ویزا دیں۔ سابق وزیرداخلہ نے کہا کہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن نے کہا کہ ای سی ایل کے حوالے سے حکومت کی کوئی پالیسی نہیں جس کے جواب میں ایوان کو بتایا کہ پالیسی ہے اور طریقہ کار بھی موجود ہے،ہم 2013 میں ای سی ایل پالیسی لے کرآئے۔
چودھری نثار علی خان نے مخلص دوست ہونے کاثبوت دے دیا، سابق وزیر اعظم کو اہم مشورہ۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا