چلاس(پ،ر)چلاس ہسپتال کی بگڑتی ہوئی صورت حال اور ڈاکٹروں کی کمی کے حوالے سے دیامر یوتھ مومنٹ کا ایک اہم اجلاس چلاس کے مقامی ہوٹل میں منعقد ہوا ۔اجلاس میں یوتھ مومنٹ کے درجنوں کارکنوں نے شرکت کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شبیر احمد قریشی،عابد حسین چلاسی،شریف شاہ،شاہ ناصر ،رحمت شاہ عاطف محمود ،طاہر ایڈوکیٹ و دیگر نے کہا کہ چلاس ہسپتال کے نام پر تنخواہیں لینے والے کئی ڈاکٹر دیگر اضلاع میں بیٹھ کر تنخواہیں کھا رہے ہیں اور چلاس آنے کا نام ہی نہیں لے رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ چلاس ہسپتال میں گائناکالوجسٹ کی عدم موجودگی کی وجہ سے خواتین کو زچگی کے دوران کئی مسائل اور مشکلات کا سامنا ہے ،لیکن کسی نے اب تک اس ایشو پر سنجیدگی سے کام نہیں لیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہسپتال میں صفائی و ستھرائی کا بھی ناقص نظام ہے اور مریضوں کے ساتھ ہسپتال آنے والا شخص بھی بیمار پڑتا ہے اور پورا ہسپتال گندگی کے ڈھیر میں تبدیل ہوچکا ہے اور ہسپتال میں مریضوں کو ادویات تو دور کی بات انجکشن کیلئے سرنج تک نہیں مل رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ چلاس ہسپتال میں بننے والے تعمیراتی پراجیکٹ عرصہ دراز سے التوا کا شکار ہیں ،ان کا کام جلد مکمل کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ اگر متعلقہ حکام نے ہسپتال کے مسائل حل نہیں کئے تو پر یوتھ مومنٹ عوام کو سڑکوں پر نکالے گی جس کی زمہ داری ہسپتال حکام پر عائد ہوگی۔
چلاس ہسپتال میں سہولیات کا فقدان،ڈاکٹرز غائب ،مریض پریشان۔ دیامر یوتھ مومنٹ حرکت میں آگیا۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا