چلاس:(چیف رپورٹر)متاثرین بنگچولی گوہر اباد کا احتجاجی دھرنا 33ویں روز میں داخل ہو گیا۔احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے فرمان اللہ, رحمت خان و دیگر نے کہا چیف سیکریٹری جلد سے جلد بلڈوز شدہ مکانات کا ازالہ کرنے کے لیے کمیشن کو گوہر اباد بیھج دیں تاکہ متاثرین کی بے چینی ختم ہو جائے گی انہوں نے کہا کہ مسمارشدہ مکانات کے ایک ایک اینٹ کا حساب لینے تکاحتجاجی دھرنا جاری رہے گا۔ انھوں نے کہا کہ ایک مہینے سے اوپر کا عرصہ گزر چکا ہے، ہمارا پرامن دھرنا جاری ہے اور ہم نے کسی کو ایک پتھر تک نہیں مارا ہے اور قانون کے دائرے میں بیٹھ کر احتجاج کر رہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ ہماری پرامن جد وجہد کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے ۔ کل سے پلین بی کا اعلان کرینگے ۔ جس میں گلگت کی طرف لانگ مارچ اور شاہراہ قراقرم کو بند کرنا بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا واپڈا مکمل طور پر بے لگام ہو گیا ہے اس ادارے کو لگام دینے والا کوئی نہیں ضلعی انتظامیہ نے بھی اپنی بے بسی کا اعلان کر دیا ہے۔ اب سوائے پاک فوج کے علاوہ سفید ہاتھی کو لگام دینے والا نہیں بچا ہے ۔انھوں اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ہم فورس کمانڈر گلگت بلتستان سے درخواست کرتے ہیں کہ واپڈا کو لگام دے اور دولت کے بل بوتے پر دیامر کے قبائلیوں کوآپس میں لڑانے سے باز آجائیں ۔انہوں نے مزید کہا موجودہ جی ایم واپڈا پہلے والے سے بھی نااہل ہے ،سوائے دھوکہ بازی اور ٹال مٹول کے علاوہ کچھ بھی نہیں جانتا ہے ۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا