سکردو (ڈسٹرک رپورٹر) گلگت بلتستان میں ایس سی او کی طرف سے 4 جی چلانے میں ناکامی اور مبینہ طور پر رکاوٹ یں کھڑی کر کے دوسری کمپنیز کو 4 جی لائسنس حاصل کرنے سے روکنے پر گلگت بلتستان کی عوام میں شدید غم و غصہ ، سکردو مین نوجوانوں نے 10 فروری کو ایس سی اور آفس کے سامنے اپنی اپنی سمیں جلانے کا اعلان کر دیا ، ذرائع کے مطابق گلگت بلستان کی عوام ، پڑھے لکھے اور ہنر مند افراد اس بات پہ بھی نالاں ہیں کہ ایس سی او نہ صرف علاقے کی ہزاروں نوکریوں پر قابض ہے بلکہ اس جدیددور میں بھی جی بی کو ٹیلی مواصلات کی جدید سہولتوں سے محروم رکھنے کی ذمہ دار بھی ہے، احتجاج کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ایس سی او پچھلے تین سالوں سے گلگت بلتستان میں 4 جی لائسنس کی نیلامی میں رکاوٹ ڈال رہا ہے ، یہ خود تو اس قابل نہیں کہ عوام کو 4 جی کی سہولت دیں بلکہ دوسری کمپنیز کو لائسنس کے اجراء مین بھی رکاوٹ ڈال رہا ہے ۔ عوامی حلقوں کی طرف سے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ایس سی او نے قبل از وقت 4 جی سمیں 1000 سے 1500 میں فروخت کیں مگر اب وہ سمیں نہین چل رہی ہیں ۔ ایس سی او نے اب ایک ڈرامہ شروع کیا ہوا ہے جس کے تحت گلگت بلتستان میں ایکٹو 4 جی سموں پر 4 جی سہولت بلاک کر کے کشمیر سے سمم سپلائی کی جا رہی ہے جو ایک بار پھر 1000 سے 1500 میں مل رہی ہیں ، اس طرح 4 جی کی آر میں ایس سی او اب تک جی بی والوں سے کڑوڑوں راپیئے ہڑپ کر چکی ہے ، لیکن تاحال 4 جی کی سہولت پوری طرح دستاب نہیں ہے ۔ احتاجان کی کال دینے والوں کا کہنا ہے کہ ایس سی او نے عوام کو بے وقوف سمجھا ہوا ہے جس کے خلاد شدید رد عمل آئے گا ، دوسری طرف جی بی کے سوشل ایکٹوسٹتس کی طرف سے سوشل میڈیا پر ایک کمپئین لانچ کی ہے جسے عوام کی طرف سے خوب پذیرائی مل رہی ہے.
ایس سی او کی طرف سے 4G سروس کی فراہمی میں ناکامی اور دوسری کمپنیز کو لائسنس حاصل کرنے سے روکنے پر گلگت بلتستان کی عوام میں شدید غم و غصہ۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا