گلگت ( نامہ نگار ) مارچ کے مہینے میں وومن ٹریفکنگ ایشو کے حوالے سے حکومتی ترجمانی کرتے ہوئے کئی آڈیوز لیک ہونے اور مقامی میڈیا ہاوسز کوبلوں کی ادائیگی کے حوالے من مانی کرنے پر تمام میڈیا ہاوسز کی مشترکہ مطالبے پر سابق چیف سیکرٹری نے فاروق احمد کو ڈی ڈی انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے عہدے سے ہٹا دیا تھا۔ لیکن ٹھیک پانچ ماہ بعد بغیر کسی کاروائی اور انکوائری کے حکومت نے ایک بار پھر انہیں انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ میں ڈپٹی ڈائریکٹر تعینات کرتے ہوئے نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ گلگت بلتستان کی صحافتی تنظیمیں اور اخبار مالکان اس حوالے سے کیا حکمت عملی طے کرتے ہیں کیونکہ جب فاروق احمد خان کو عہدے سے ہٹایا تھا تو گلگت بلتستان کے صحافی برادری اور اخبار مالکان نے جشن منایا تھا اور فاروق احمد خان نے اس تمام صورت حال سے پریشان ہو کر کچھ وقت تک کیلئے گوشہ نشینی اختیار کیا تھا۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا