واشنگٹن(آئی این پی) وائٹ ہاؤس نے پاکستان کی 255 ملین ڈالر فوجی امداد بحال کرنے کا امکان مسترد کردیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی قومی سلامتی کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان کو 25 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی فوجی امداد جاری نہیں کی جائے گی، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ پاکستان اپنے ہاں موجود دہشتگردوں اور عسکریت پسندوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے، جس کی روشنی میں ہی دونوں ممالک کے تعلقات بشمول فوجی امداد کا فیصلہ کیا جائے گا۔امریکی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ سیکیورٹی شعبہ جات میں پاکستان کے تعاون کا جائزہ لیتی رہے گی۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اگست سے ہی ڈو مور کا مطالبہ کرتے ہوئے پاکستان کی 255 ملین ڈالر کی امداد روکی ہوئی ہے۔ اس امداد کو غیرملکی فوجی معاونت کہا جاتا ہے۔غیر ملکی اخبار نے وائٹ ہاؤس کی تصدیق کے بعد یہ خبر شائع کی ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے255ملین ڈالر کی پاکستان کو فوجی امداد روک لی ہے۔اخبارکے مطابق یہ امداددہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن آپریشن تک روکی گئی ہے۔یہ امداد ایک اعشاریہ ایک ارب ڈالر فوجی معاونت پروگرام کا حصہ ہے۔وائٹ ہاس کے ترجمان کے مطابق پاکستان اور امریکا کے تعلقات کا دارومدار جنوبی ایشیا کے لیے نئی امریکی اسٹریٹیجی کی حمایت پر ہے۔امریکی میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق واشنگٹن کی نیشنل سیکیورٹی کونسل کے ایک عہدیدار کا کہنا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ پاکستان کے تعاون کا جائزہ لے رہی ہے۔ امریکا نے یہ امداد ایسے وقت میں روکی ہے جب پیر کو صدر ٹرمپ نے پاکستان کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ پاکستان امریکی رہنماں کو بے وقوف سمجھتا ہے اور امریکا نے بھی پاکستان کی مدد کرکے بے وقوفی کی۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہاتھاکہ امریکا نے گزشتہ 15 سال میں پاکستان کو 33 ارب ڈالرامداد دے کر بہت بڑی بے وقوفی کی۔ امداد وصول کرنے کے باوجود بھی پاکستان نے امریکا کے ساتھ جھوٹ بولا۔امریکی صدر کاکہنا تھا کہ پاکستان امریکی رہنماں کو بے وقوف سمجھتا ہے اور ان دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرتا ہے جنہیں ہم افغانستان میں تلاش کررہے ہیں۔دو روز قبل امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ امریکا نے پاکستان میں گرفتار حقانی نیٹ ورک کے ایک جنگجو تک رسائی مانگی تھی لیکن پاکستانی حکام نے منع کردیا تھا جس پر برہم ہوکر ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ انتہائی سختی کے ساتھ پاکستان کی 25 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی امداد روکنے پر غور کررہی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ حکومت پاکستان دشمنی میں مزید ایک قدم آگے بڑھ گیا۔ تشویس ناک خبر۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا