اسلام آباد (این این آئی)عالمی اداروں نے پاکستان میں ٹیکس چوری پر تشویش کا اظہار کیاہے۔اقوام متحدہ کے ادارہ معاشی اور سماجی کمیشن نے پاکستان میں سالانہ 540 ارب روپے کی چوری کی نشاندہی کی ہے۔اقوام متحدہ کے ادارہ معاشی و سماجی کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہاہے کہ پاکستان میں ٹیکس چوری سے معیشت کو سالانہ 1.8 فیصد کا نقصان ہو رہا ہے کیونکہ پاکستان کا ٹیکسوں کا نظام مساوی نہیں ہے۔ رپورٹ کے مطابق با اثر طبقات ٹیکسوں کے دائرہ کار سے باہر ہیں اور پاکستان کو اپنی آمدن بڑھانے کے لیے ٹیکسوں کا دائرہ کار بڑھانا ہوگا۔
دوسری طرف گلگت بلتستان جس خطے کے حوالے سے وفاق پاکستان کا بار بار اعلان کرنے کے باوجود کہ یہ خطہ آئینی اور قانونی طور پر پاکستان کا حصہ نہیں لیکن ٹیکس نافذ کرنے کیلئے بضد نظر آتا ہے تاکہ چوری کے شرح میں مزید اضافہ ہوسکے اور غریب عوام مزید غربت کی چکی میں پستا رہے۔ یاد رہے گلگت بلتستان بین الاقوامی سطح پر متازعہ خطہ ہے اس خطے کی مستقبل کے حوالے سے اقوام متحدہ کی نگرانی میں رائے شماری ہونا باقی ہیں لیکن یہاں کے عوام کو گزشتہ ستر سالوں سے نہ ہی متنازعہ حیثیت پر حقوق میسر ہیں نہ ہی پاکستانی شہری کے برابر۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا