کتاب میلہ ۔۔۔۔۔۔ کمیونٹی سنٹر حاجی گام سکردو میں

0 0

موجودہ ڈیجیٹل دور میں مطالعہ اور معلومات کے ذرائع بدل گئے ہیں اور متلاشی کو پی ڈی ایف ، آڈیو، وڈیو اور یو ٹیوب کی شکل میں ہر مواد آسانی سے دستیاب ہے۔ ایسے میں کہا جارہا ہے کہ چھپا ہوا مواد اور کتابوں کی ریڈر شپ میں کمی آرہی ہے بلکہ یہ کہا جائے تو بہتر ہوگا کہ مطالعہ کی صورت بدل رہی ہے۔ لیکن تحقیقاتی اعداد و شمار کے مطابق تو ترقی یافتہ ممالک میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی شاندار سہولت کے باوجود کتابوں کی اشاعت کا کام کم نہیں ہوا ہے اور وہاں چھپنے والے مواد کی ریڈر شپ بہت بہتر ہے۔ ترقی پذیر ممالک بشمول پاکستان جہاں کی اکثریتی عوام ابھی تک روٹی کپڑا مکان کی سہولیات کے لئے ترس رہے ہیں وہاں کتابوں اور اخبارات کی اشاعت و ترویج کے لئے کیا خاک کام ہونا ہے۔ یہاں علمی و ادبی کتابیں تو دور کی بات سکول کے بچوں کی کتابیں خریدنا بھی ایک جوئے شیر سے کم نہیں کیونکہ کتابیں روز بروز مہنگی ہوتی جارہی ہیں۔ ان  نامساعد حالات کے باوجود کچھ اشاعتی ادارے اور سٹاکسٹ نفع و نقصان کے گوشوارے دیکھے بغیر کتاب بینی کا رواج بڑھانے کے لئے کوشاں ہیں۔ بلتستان میں اس جدوجہد کا سہرا بلتستان بک ڈپو کے بزرگوں کے سر جاتا ہے جن میں خواجہ رسول جو اور خواجہ حسن جو کا نام سر فہرست ہے۔ پرانا بازار جو اب اپنی اصلی حالت کھو چکا ہے وہاں پر عام ایک مٹی پتھر سے بنی  ایک چھوٹی سی دکان سے خواجہ رسول جو نے چند کتابوں سے جن میں زیادہ تر مذہبی اور سماجی اخلاقیات پر ہوتی تھی کاروبار کا آغاز کیا۔ اسی دوران مہاجر بازار کے آخری سرے پر لکڑی اور گارے سے بنی ایک دکان میں موجودہ افضل برادرز کے والد حاجی ابراھیم نے بھی کتابوں کی محدود تعداد کے ساتھ دکان کھولی۔ اس میں بھی قرآن شریف، حدیث ، دعاؤں اور فقہی احکام سے مطلق کتابیں ملتی تھیں، ان کے بیٹے محمد افضل نے اپنا کاروبار بڑی حد تک بڑھایا ہے اور اب سکولوں اور کالجوں کی کتابیں بھی دستیاب ہیں۔
بلتستان بک ڈپو جو شروع شروع میں رسول جو حسن جو ناشران کتب کے نام سے مقبول عام تھا نے مذھبی کتابوں کے علاؤہ علمی و ادبی کتابیں اور ملک کے مقتدر اخبارات و جرائد بھی لانا شروع کردیا اس طرح اس بک ڈپو نے علمی و ادبی بڑی خدمت کی نیز اسی ادارے نے  مقامی قلم کاروں کی متعدد کتابیں بھی چھاپی ہیں۔ میں اور بشارت ساقی کا گزشتہ تیس سالوں سے بلتستان بک ڈپو سے کتابیں اور اخبار خریدنے کا رشتہ ہے اور مرحوم رسول جو کے بعد خواجہ نثار حسین، خواجہ محمد قاسم نسیم کے بعد اب ان کی نئی نسل کاظم، منظور اور عارف تک پھیل گیا ہے۔
ماڈرن سٹیشنری مارٹ کے نام سے جناب حاجی روزی نے شروع میں کشو باغ میں دکان ڈالی۔ بعد ازاں کاروبار کو جب وسعت ملی تو نیا بازار کے مرکزی چوک میں اپنا پلازہ کھڑا کیا۔ گو کہ ان کا بنیادی کام  جنرل پرنٹنگ کا ہے مگر انہوں نے بلتستان کے معروف ادبی شخصیات کی کتابیں بھی چھاپی ہیں جو بڑی علمی خدمت ہے۔
جب کہ گزشتہ بیس سالوں سے سکردو میں کتابوں کی چند نئی دکانیں کھل گئی جن میں سودے بکس کا نام پہلی لائن پر نظر آتا ہے۔ علی عباس سودے مشہور قلم کار اور ریڈیو براڈکاسٹر محمد عباس سودے کے فرزند ارجمند ہے انہوں نے سودے بکس کی بنیاد رکھی اور مقامی لکھاریوں کی کتابیں بھی چھاپنے کا بیڑا اٹھایا۔ سودے بکس بلتستان میں ادبی کتابوں کا بڑا مرکز ہے
یہ سارا تناظر اس لئے بیان کیا کہ سکردو بلتستان میں کتاب کلچر کو سمجھنے کے لئے صحیح مدد مل سکے۔ اب آتے ہیں گزشتہ دنوں ہونے والے کتاب میلہ کی طرف جس کا اہتمام تنظیم فلاح و بہبود حاجی گام سکردو نے کیا تھا اور اس کے روح رواں تھے ڈاکٹر محمد شریف۔ ڈاکٹر صاحب کا تعلق حاجی گام سکردو سے ہے انہوں نے میڈیکل تعلیم کے حصول کے بعد پولی کلینک ہسپتال اسلام آباد میں مسیحائی کا کام شروع کر دیا۔ اپنے چالیس سالہ دور ملازمت میں انہوں نے بلا تفریق گلگت بلتستان سے آنے والے مریضوں کی بے لوث خدمت کی اور بہت عزت اور دعائیں پائی۔ ملازمت کی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر محمد شریف اسلام آباد اور راولپنڈی کی سیاسی اور ادبی حلقوں میں بھی بہت مقبول رہے ہیں کیونکہ علم و ادب سے انہیں بے پناہ لگاؤ اور سیاست ان کی خمیر کا حصہ ہے۔ ڈگری کالج سکردو میں جب وہ سابق وزیر اعلی سید مھدی شاہ کے ساتھ پڑھتے تھے تو ان دونوں کی کاوشوں سے ذوالفقار علی بھٹو  ڈگری کالج سکردو آئے۔ ڈاکٹر صاحب کی سیاسی جدوجہد اور سماجی خدمت کی کہانی طویل ہے اس کا تذکرہ کسی اور دن مگر ڈاکٹر صاحب گلگت بلتستان کے ابتدائی نکلنے والے اخبارات سیاچن اور قراقرم میں تواتر سے کالم بھی لکھا کرتے تھے۔ ان دنوں ڈاکٹر صاحب معرفی فاؤنڈیشن کے تحت سکردو میں بننے والے ہسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے طور پر آئے ہیں اور اپنی خدمت کی روایت کو جاری رکھا ہوا ہے۔ انہوں نے ہم سب کے سامنے ایک تجویز رکھی کہ کیوں نہ اس بے یقینی کے دور میں کمیونٹی کی جانب سے ایک کتاب میلہ کا بندوست کریں تاکہ کچھ دیر سہی لوگ زندگی کی تلخیوں کو بھول کر فکری اور ذھنی بالیدگی کی طرف جائے۔ حاجی ناصر حسین شفا کی سربراہی میں اس تجویز پر کام ہوا مجھے اور بشارت ساقی کو ذمہ داری دی گئی کہ اس کے انتظامات اور بلتستان کے اہل قلم  کتاب فروش اور سرکاری زمہ داروں سے رابطہ کریں۔
یوں بارہ جون 2022 کو کمیونٹی سنٹر حاجی گام کے صحن میں یک روزہ کتاب میلہ لگایا گیا ساتھ ہی سکول طلباء کی جانب سے بنائے گی پینٹنگ بھی دیواروں پر آویزاں کی گئی۔ اس میلہ کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ اس مصروف دور میں کتاب بینی اور علم کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ  نوجوانوں کو کتاب کی طرف راغب کیا جائے۔
اس میلے میں شہر کے آٹھ سے زائد معروف بک ڈپو اور پبلیشرز نے سٹاک لگائے جن میں بلتستان بک ڈپو، سودے بکس اینڈ پبلیشرز، افضل برادرز، العارف بکس، چولونکھا کمیونٹی کا سٹال، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی، مہتاب پبلیکشنز اور میجر اقبال فاچو کا سٹال نمایاں تھے۔ جب کی میونسپل کمیٹی کی موبائل لائبریری جو کہ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر وقاص جوہر نے شروع کیا ہے وہ بھی کمیونٹی سنٹر کے باہر اوپن رھی۔ اس میلے کا افتتاح شجاع عالم کمشنر بلتستان نے کیا جب کہ محمد حنیف ڈی آئی جی ، حافظ کریم داد چغتائی ڈپٹی کمشنر، وقاص جوہر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر، مرزا حسن ایس ایس پی،  اقبال شہزاد ریجنل ڈائریکٹر  بلتستان علامہ اقبال یونیورسٹی سکردو ہمراہ تھے۔ علمی و ادبی شخصیات جنہوں نے اس میلے میں شرکت کی ان میں یوسف حسین ابادی، محمد حسن حسرت، محمد عباس کاظمی، خواجہ قاسم نسیم ، محمد علی، غلام حسن لوبسانگ،  میر اسلم سحر، مھدی شاہد ، افضل روش، باقر حاجی، عبداللہ کریم ، سید شکیل شاہ ، محمد میر سمیت کئی دیگر اہم افراد شامل ہیں۔
علمائے کرام میں شیخ ذاکر حسین، شیخ شمس الدین، شیخ ذوالفقار، شیخ طحہ نے خصوصاً شرکت کی۔
جبکہ وزیر بجلی و پانی وزیر محمد سلیم،  فدا محمد ناشاد ، سابق سینئر منسٹر اکبر تابان ، سابق ممبر کیپٹن سکندر علی، فضل علی، وزیر وقار ، نجف علی، ڈاکٹر نسیم، الیاس حسین، کلیم اللہ  نے تقریب میں شرکت کرکے رونق بخشی۔ اہم میڈیا شخصیات میں قاسم نسیم،  سینئر پروڈیوسر ریڈیو پاکستان سکردو ، نثار عباس ، قاسم بٹ، محمد علی انجم، اسحاق جلال، رجب قمر، عنایت حسین عینو نے نہ صرف شرکت کی بلکہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں اس میلے کی شاندار تشہیر کی۔ مشہور مورخ سید عباس کاظمی نے کمیونٹی سنٹر کی لائبریری کے لئے کچھ اہم رسالے اور اپنی مشہور کتاب جس میں کیسر کی داستان بیان کی گئی ہے تحفتاً پیش کیا۔ اس کتاب میلہ میں سول سوسائٹی، کتاب سے شغف رکھنے والے، سکول، کالجز اور کیڈٹ کالج کے طلبا و طالبات کی کثیر تعداد نے شرکت کی اور بڑی گہری دلچسپی لی۔ بڑی تعداد میں لوگوں کی شرکت نے اس یقین کو اور جلا بخشی کہ کتاب سے محبت اب بھی باقی ہے چاہے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی جتنے نت نئے جلوے کیوں نہ دیکھائے۔
اس ایونٹ کو کامیاب بنانے کے لئے ڈاکٹر شریف کے ساتھ ساتھ حاجی ناصر حسین شفا، حاجی احمد خان، غلام محمد، عاشق شمالی، عبداللہ حیدری، شیخ عباس، ماسٹر باقر حسین، انجینئر نجف علی، غلام علی اسسٹنٹ کمشنر، محمد تراب، اعجاز حسین، محمد خان، عبد المجید شاھین، ذوالفقار علی، غلام عباس، شاہ نواز، جاوید، حسنین، اسرارحسین، ظہیر عباس، عارف حسین، زیغم عباس، ڈاکٹرصابر حسین، انجنئیر مظفر حسین ، انجنئیر غلام عباس، ناصر کربلائی، ڈاکٹر غلام علی، الطاف حسین، ذاکر حسین ایڈووکیٹ، ڈاکٹر عاشق لغاری، غلام نبی ، محمد بشیر وغیرہ نے دامے درمے سخنے مدد فرمایا۔ اس کتاب میلہ کے لئے رابطہ کاری، انتظام و انصرام اور سوشل میڈیا میں تشہیری مہم میں محمد تراب کا سب سے زیادہ کردار رہا ہے
تقریروں میں اور تاثرات بک میں عملی ادبی، سیاسی، مذھبی، حکومتی اور میڈیا کی شخصیات نے حاجی گام کمیونٹی اس اقدام کی شاندار الفاظ میں تعریف کی اور سکردو میں کسی بھی کمیونٹی کی جانب سے  کتاب سے متعلق شعور و آگہی کے لئے پہلا اور مثالی اقدام قرار دیا۔

 

(عاشق فراز)

Happy
Happy
100 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website