جب سے ہم نے شعور کی آنکھ کھولی تو ہمیں پتہ چلا کہ ہم اسٹیٹ لیس ہیں اور آئین سے محروم خطہ میں ہیں لیکن ہمارے معاشرے میں بھی شعور کی حد درجہِ تک کمی تھی ہم نے تصور کر رکھا تھا کہ ہم پاکستان کا پانچواں صوبہ بننا چاہتے ہیں مگر پاکستان کے حکمران جان بوجھ نہیں بنا رہے ہیں اور صوبے کو اپنا آئینی حقوق تصور کر رکھا تھا- اس کے بعد جب ہم نے اس بارے میں تھوڑی بہت تحقیق سے کام لیا تو پتہ چلا کہ جب تک ریاست جموں کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ نہیں ہوتا تب تک گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کا اختیار کسی کے پاس نہی ہیں۔
دنیا کے تمام جمہوری ممالک سوشل کنٹریکٹ کے تحت جڑتے ہیں جس کو علم شہریت یا پولٹیکل سائنس کی زبان میں دستور یا آئین کہا جاتا ہے۔ دنیا کا کوئی بھی آزاد جمہوری ملک دستور یا آئین بغیر نہیں چلتا ہیے کیونکہ یہی دستور ہی ہے جو ریاست اور شہری کے حقوق فرائض کا تعین کرتا ہے یہی دستور ہی ہے جو شہری اور ریاست کے آپس میں رشتے کو مظبوط کرتا ہے، یہی دستور ہی ہے جسے سامنے رکھ کر قانون ساز ادارے قانون سازی کرتے ہیں، یہی دستور ہی ہے جو شہریوں کو حقوق کی ضمانت دیتا ہے، اس کے برعکس اگر کوئی خطہ آڈر اور اور نوٹیفکیشن کے ذریعے چلایا جا رہا ہے تو خطہ ایک بدترین غلامی کا شکار ہے ہونے میں کوئی شک نہیں، کیونکہ جس خطہ کے قانون ساز ادارے ہی احکامات کے ذریعے چلائے جائے تو وہ خطہ آزاد نہ ہونے کا یہی سب سے بڑا ثبوت ہے۔
خطہ بے آئین ہونے کے باوجود جو بھی یہاں کے محکومیت مظلومیت و حقوق کی بات کرے تو اس کانام شیڈول فور میں ڈالا جاتا ہے ممبر گلگتبلتستان اسمبلی شہزاد آغا عوامی ورکرز پارٹی کے رہنما باباجان چئیرمن گلگتبلتستان یونائیٹڈ موؤمنٹ منظور پروانہ رہنما ایم ڈبلیو ایم آغا علی رضوی جیسے اہم شخصیات بھی اس خطہ بے آئین پر مسلط شدہ کالے قانون کی زد میں ہے
دوسری اہم بات اس اسمبلی کی اہمیت یہ ہے کہ ایک غیر منتخب شدہ غیر مقامی وزیر امور کشمیر کے نگرانی میں کام کرتے ہیں جو نہ اس علاقے سے ہوتا ہے اس وزیر کا انتخاب میں اس علاقے کے نمائندوں کی رضامندی شامل ہوتی ہے بلکہ یہ آسلام آباد سرکار جس کو چاہے مسلط کر دیتا ہے جس کو انکار کرنے کا بھی اختیار مقامی اسمبلی کے منتخب نمائندوں کے پاس نہیں حالانکہ ریاست آپنے حدود کے باہر تعلقات رکھنے کے لیے وزیر تعینات کرنے کا کوئی حق نہیں ریاستوں کے مابین تعلقات قائم رکھنے کے لیے وزیر کے بجائے سفیر ہوتے ہیں جو تعلقات کو استوار رکھتے ہیں تو ہم مطالبہ کرتے ہیں وزیر امور کشمیر کے جگہ پر سفیر کشمیر کا نام استعمال کیا جائے۔
خطہ بے آئین گلگت بلتستان گزشتہ چوہتر سالوں سے خطہ ہے آئین کے نام سے ہی جانا جاتا ہے یہ بات اٹل اور پاکستان کے عدالت عالیہ کا موقف ہے کہ دستور پاکستان کا حدود گلگت بلتستان تک نہیں یہ بھی تسلیم شدہ موقف ہے گلگت بلتستان ریاست جموں کشمیر کا حصہ ہے جب تک ریاست جموں و کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ نہیں ہوتا تب تک گلگت بلتستان کے مستقبل کے لیے کوئی حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار کسی کے پاس نہیں تو اس صورت میں واحد حل گلگت بلتستان کو پاکستان کے زیر انتظام آزاد کشمیر طرزِ اسمبلی دیکر عبوری آئین سازی کا اختیار گلگت بلتستان کے اسمبلی کو دینا اب ناگزیر ہوچکا ہے چونکہ گلگت بلتستان کی نئی نسل میں اس وقت کافی بے چینی پائی جاتی ہے اپنی اسمبلی کے دائرہ اختیار دیکھ کر کوئی بھی مقامی مطمئن نہیں ہے نہ اسمبلی کو نہ اس اسمبلی کے نمائندوں کو نہ عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے چونکہ ان کے پاس کوئی اختیار ہی نہیں ہوتا کہ اپنے علاقے کی نمائندگی کرے۔
المیہ یہ ہے کہ کوئی غیر مقامی سپاہی تک کی نظر میں اس اسمبلی کی کوئی اہمیت نہیں ہیے حالیہ واقعہ ایف ڈبلیو او کا غیر مقامی سپاہی کا عوامی منتخب نمائندے کے سامنے جو رویہ ا تھا یہ صرف راجہ صاحب اور حاجی گلبر صاحب کی توہین نہیں بلکہ اس اسمبلی کی توہین ہے جسکا وہ ممبر ہے، اس عوامی ووٹ کی توہین ہے اس صورت میں عوام میں بھی کافی غم و غصہ پائی جاتی بے چینی بے قراری پائی جاتی ہے ایسا نہ ہو مستقبل میں بغاوت کیطرف ہی قدم رکھنے پر مجبور ہوجائے تو واحد حل یہی ہے کہ اب صوبہ کے نام لولی پوپ دینا بند کریں اور گلگت بلتستان کے عوام کو گمراہ کرنے کے بجائے ایک خودمختار آئین ساز اسمبلی کا قیام عمل میں لائی جائے جس سے مقامی لوگ بھی مطمئن ہونگے چوہتر سالہ محرمیوں کا ازالہ بھی ہوسکے اور انڈئن زیر انتظام کشمیر میں کو اقوام متحدہ کے قراردادوں کے خلاف 5 اگست 2019 کو اٹھائے گئے اقدام کی بھی نفی ہو اور عالمی سطح پر پاکستان کے مسلہ کشمیر کے متعلق موقف کو بھی تقویت حاصل ہو۔
ا
تحریر عمران علی حسینی
More Stories
شاہراہ بلتستان ،شاہراہ قراقرم کی زبوں حالی اور سیاحت کا مستقبل۔
دیرینہ کارکنوں کی قربانیاں اور سیاسی جماعتیں
اقوام متحدہ میں گلگت بلتستان کا مقدمہ ہے یا نہیں ؟