منانا عید تھا ہم کو ہوئی برسات آنگن میں
بہے سیلاب اشکوں کے ہوئے برباد ساون میں
آج سے ٹھیک ایک سال پہلے ۱۰ ذلحجہ۱۴۴۱ہجری، یکم اگست ۲۰۲۰ ہفتے کا دن تھا۔عید اور اس اعظیم قربانی کا دن تھا،جس دن حضرت ابراہیم پیغمبر۴ نے اللہ کی خوشنودی کے لئے اپنے بیٹے حضرت اسمائیل پیغمبر۴ کو اللہ کی راہ میں قربان کر دیا اور آپ کی قربانی بھی قبول ہوگئی ساتھ جان بخشی بھی۔میں عید کے اس موقع پر علٰی الصُبحَ اس نیت کے ساتھ جاگا کہ ہماری قربانی بھی اللہ قبول فرمائے گا۔لیکن یہ نہیں معلوم تھا کہ ربِ تعالی بہت بڑی قربانی کی صورت میں ہم پہ بھی ایک عظیم امتحان ڈالے گا اور ہماری عید کو ماتم میں بدل دے گا۔ شاید خدا کو یہی منظور تھا۔
ذبیحہ کے بعد نئے کپڑے پہن کر بابا کو ناشتہ وغیرہ لیکر “سی ایم ایچ” سکردو روانہ ہوئے ساتھ مصباح گاڑی چلا رہا تھا۔کسی سٹیشن پر فیول کرنے کے بعد ہم “سی ایم ایچ” پہنچ گئے۔وہاں پہنچنے کے بعد معراج سے بات ہوئی تو انہوں نے کہا ابو گھر جانے کا کہہ رہے ہیں۔سات دنوں سے اپنے دل اور دماغ کو سنبھال کر ہمت اور حوصلے کے ساتھ اللہ پر مکمل پختہ یقین رکھتے ہوئے بابا کا علاج کروا رہا تھا۔آج دل میں بیچینی تھی جب کچھ ہونا ہوتا ہے تو دل کو کہیں سکون نہیں ملتا۔۔۔موبائل فون پر اچانک دو سے تین مرتبہ مِس کال آنے پر خودساختہ طور پر ریسیپشن پر پہنچا۔ڈاکٹروں اور سٹاف نے مجھ سے روزمرہ کی طرح بابا کو ونٹیلیڑر پر شفٹ کرنے کی کاغذی کاروائی مکمل کی۔میرا دل غمگین تھا،اندر اندر سے ٹوٹ چکاتھا،میری زبان اور جسم بےجان سا ہو چکا تھا۔اتنے میں ڈاکٹر کیپٹن رمیض مجھے بلا کر کہنے لگے آپ دعا کریں بابا کی دلوں کی دھڑکنیں روک چکی ہے ہم کوشش کر رہے ہیں۔میں دعاکے سوا کر بھی کیا سکتا تھا ۔میری دھڑکنیں تیز ہونے لگی تو میں نے دل تھام کے ہمت اور حوصلے کا دامن پکڑتے ہوئے گھر میں اپنے بھائیوں(معراج،منہاج،افتخار،اعجاز اور نسیم) کچھ غزیز دوستوں کو (ذاکر،قاسم،عارف وغیرہ)کو کال کر کےبلالیا۔
اتنے میں ڈاکٹر کیپٹن رمیض آئے مجھے سے مخاطب ہو کر کہنے لگے “آپ کے بابا شہید ہوگئے ہیں” وہ اس اعظیم دن رہلت کر گئے۔بس یہ سنا تھا میرے لئے دنیا کے معنی ہو گیا ہم اپنا حواس کھو چکا تھا۔ہمارے اوپر مصیبت کا پہاڑ ٹوٹ کر گرا تھا بابا کے بغیر زندگی بے معنی تھی۔عزیزوں کے ساتھ گھر آئے تو قیامت خیز مناظر تھے۔۔۔ ان کے شاگردِ خاص شکیل صابری کے بقول۔
اہلِ ادب یتیم ہوئے آج صابری۔
شعراء شفیق باپ سے محرم ہوگئے۔
واقع انسان کے چلے جانے پر آپ کو لوگوں کی بے وفائی اور بے حسی پر صبر اور خدا کی رضا پر شکر ادا کرنا چاہے۔ جانے والوں کے جانے کے بعد جہاں بہت سارے چاہنے والوں کی محبتوں کا اندازہ ہوتا ہے خلوص کا اندازہ ہوتا ہے وہان انسان کا لبادہ اوڑھے ہوئے سانپوں اور بھیڑیوں کا بھی اندازہ انہی وقتوں میں ہوتا ہے اس وقت یہ بے حس لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ غم کا پہاڑ کسی دن ان پہ بھی گرے گا …خیر اللہ کی ذات بڑی عظیم اور رحم کرنے والا ہے وہ سب کچھ سننے اور سہنے کا حوصلہ بھی دیتا ہے اور اپنی راضی پہ رضا ہونا بھی سکھاتا ہے ..نیم حالت میں انہی کی آوازیں کانوں تک ٹکرائی، مکر، کینہ، فریب،جھوٹ کو چاک ہوتے ہوئے دیکھا اور ایسے سانپوں کو آستینوں سے باہر نکلتے ہوئے دیکھنے کا بھی اتفاق ہوا۔لیکن یہ بات بھی روزِ روشن کی طرح عیاں ہوئی کہ نصیب،قسمت اور مقدر کے آگے ان تمام بری صفتوں کی کوئی حیثیت نہیں۔ مشکل حالات کے باوجود اللہ نے حوصلہ دیا اور بابا کے نمازِ جنازے میں شریک ہوا ،ہماری آہ بری نگاہیں بابا کو تکتے ہوئے آخری خُداحافِظ کہہ رہے تھے اور دیکھتے ہی دیکھتے بابا سپرد خاک ہو گئے
خاک میں ڈھونڈتے ہیں سونا لوگ
ہم نے سونا سپرد خاک کیا
اللہ میرے بابا کو اپنی خاص رحمتوں سے نوازے اور جنت میں اعلی مقام عطا کرے.. آمین
عجب سی اب کی عید ہے
یہ عید کیسی عید ہے
ہے دھڑکنیں بھی بے سکوں
اداسیاں ہیں کو بہ کو
برس رہی ہیں چشم بھی
لبوں پہ آہ ہیں سجے
نہ پیار کی صدا رہی
نہ شفقتوں کی گفتکو
فقط ہے یادیں چار سو
دماغ میں بسی ہوئی
اسی حسین وقت کی
جو بابا جان ساتھ تھے
وہی ہماری عید تھی
جوہم چھن گئی کہیں
منانا عید تھا ہم کو ہوئی برسات آنگن میں
More Stories
شاہراہ بلتستان ،شاہراہ قراقرم کی زبوں حالی اور سیاحت کا مستقبل۔
دیرینہ کارکنوں کی قربانیاں اور سیاسی جماعتیں
اقوام متحدہ میں گلگت بلتستان کا مقدمہ ہے یا نہیں ؟