سکردو (ٹی این این,/ ایس حیدر صبا) دبنگ خاتون ڈی ایس پی ٹریفک چارج لئے چند دن نہیں گزری تھی ایک بار پھر گلگت ٹرانسفر کر دی گئی ہے ذرائع کے مطابق ایس ایس پی سکردو سے نہ بن پانا بتایا جاتا ہے اس سلسلے میں میڈیا کے نمائندوں نے ڈی ایس پی زرینہ بتول سے وجوہات جاننے کے لئے ان سے دابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ عورت ہونا شاید جرم بن گئ جی بی کا کوئی ایسا کونہ نہیں جہاں پوسٹیںنگ نہ کیا گیا ہو کھری باتیں اور کڑوی سچ نے ہمیشہ میرے ساتھ مشکلات پیش آتی رہتی ہے حالیہ پوسٹینگ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے چابکدستی سے کام لیتی تو شاید اس طرح نہ ہوتی ٹرانسفر پوسٹینگ سروس رول کا حصہ ہیں اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے دکھ اس بات کی ہے کہ اے ایس پی کی فیملی کے لیے سرکاری گاڑی بمع گارڈز کراچی تک پہنچ سکتی ہے لیکن میری سرکاری گاڑی مجھے سٹیشن تک نہیں پہنچانے دی اس دوہرے معیار پر مجھے بہت افسوس ہوئی ستم ظریفی یہ ہے کہ گاڑی فیول بھرنے گئی تو اس کی چابی چھین لی گئی کیا بحیثیت ڈی ایس پی مجھے اتنا بھی حق نہیں پچھلے 5 سے 6 سال سے زیر استعمال میری سرکاری گاڑی کو ایس ایس پی نے بیک جنبش قلم مجھ سے چھین لی جو کہ سراسر ناانصافی ہے انہوں نے مزید کہا کہ میری 24 سے 25 سالہ سروس کئریر یہ ہے کہ 1996 میں ٹیسٹ پاس کرکے میرٹ پر گریڈ 16 میں بحیثیت انسپکٹر بھرتی ہوئی ہوں میرے ساتھ سپاہی بھرتی ہونے والے ایس پی تک پہنچ کر ریٹائرڈ بھی ہوئے مگر میں بدقسمت بڑی مشکلوں سے اس مقام پہ ہوں سینیارٹی کو ملحوظ خاطر رکھتی تو میں گریڈ 20 سے 21 ہوتی لیکن ایسا نہیں ہوا انصاف کے لئے ہر وہ دروازہ کھٹکھٹایا لیکن کہیں سے کوئی شنوائی نہیں ہوئی جب بھی ٹریفک کا نظام بے قابو ہو جاتی تھی تو مجھے چارج سونپی جاتی تھیں جب حالات معمول پر آ جاتی تو مجھے نکال دی جاتی ہے جب بھی ذمہ داری ملی تو انتہائی ایمانداری سے ڈیوٹی سر انجام دیتی رہی ہوں خدا کا شکر ہے کہ آج تک کرپشن کی رتی برابر بھی کسی نے الزام نہیں لگایا شہر کے ٹریفک کا نظام کو بہتر بنانے کیلئے اپنی بساط کے مطابق ہر ممکن کوشش کیں بعض اوقات نظام کی بہتری ٹریفک قوانین کی پاسداری اور عوام کی خاطر سختیاں بھی کیں وگرنہ بے ہنگم رش کو کس طرح سے کنٹرول کرتی یہی وجہ تھی کہ جب بھی ٹریفک کے مسائل آڑے آتی تھی تب مجھے ذمہ داری سونپی جاتی تھی لیکن کبھی کسی سے شکوہ نہیں کیا عورت زات ہونے کی وجہ سے میری آواز ہر وقت دبتی رہی جس کا مجھے بے حد افسوس بھی ہے اور خاصا مایوس بھی ہوں ۔
محکمہ پولیس میں عورت ہونا شاید جرم بن گئی اخر وجہ؟ ڈی ایس پی سیدہ زرینہ بتول نے بڑا بیان جاری کردیا
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا