اسلام آباد( غلام عباس سے)جی بی ریفارمز آرڈر 2019ء کو ایک سال تک التوا میں رکھنے کے بعد تحریک انصاف کی وفاقی حکومت نے ایک نئے آرڈر کو حتمی شکل دیدی ہے۔اہم ذرائع نے کے پی این کو بتایا کہ بدھ کے روز وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس میں گورنر گلگت بلتستان راجہ جلال حسین مقپون، وزیر اعلیٰ حفیظ الرحمن، وزیر امور کشمیر علی امین گنڈاپور، سیکرٹری کشمیر افیئرز، چیف سیکرٹری جی بی سمیت اعلیٰ سول و عسکری حکام نے شرکت کی۔ وزارت امور کشمیر کے اہم ذرائع تصدیق کی ہے کہ مجوزہ آرڈر 2020ء فائنل سٹیج پر پہنچ چکا ہے جلد ہی وفاقی کابینہ میں پیش کیا جائے گا، نیا آرڈر جی بی ریفارمز آرڈر2019ء میں ترمیم کی نئی شکل ہو گی جس میں تمام انتظامی اختیارات گلگت بلتستان کو منتقل کیے جائیں گے جس سے کشمیر کاز پر بھی کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ اجلاس میں شریک گلگت بلتستان کے ایک ذمہ دار سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کسی بھی قسم کی تفصیل بتانے سے انکار کیا تاہم ایک اور اہم ذرائع نے بتایا کہ بدھ کے روز ہونے والے اجلاس میں آرڈر 2020ء کو حتمی شکل دیدی گئی ہے ۔سرکاری ذرائع کے مطابق آرڈر 2019ء سے متعلق بعض سٹیک ہولڈرز کو کچھ تحفظات تھے، دوسری جانب وفاقی حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرنے کے بعد آرڈر پر عملدرآمد التوا میں پڑ گیا تھا، اب وفاقی حکومت سپریم کورٹ میں دائر درخواست واپس لے گی اور ساتھ یہ اپیل بھی کی جائے گی کہ نئے آرڈر کی منظوری دی جائے کیونکہ نئے آرڈر کو تمام سٹیک ہولڈرز کی حمایت حاصل ہے۔ یاد رہے کہ مسلم لیگ ن کے دور میں آرڈر 2018ء نافذ کیا گیا تھا جس کیخلاف عوام کی طرف سے شدید رد عمل آیا تھا تاہم بعد میں جب یہ معاملہ سپریم کورٹ کی ٹیبل پر پہنچا تو عدالت کے سات رکنی لارجر بنچ نے 17جنوری 2019ء کو آئینی حقوق کے کیس کا فیصلہ سنایا اور ساتھ ہی وفاقی حکومت کی جانب سے مجوزہ آرڈر 2019ء کو بھی اپنے فیصلے کا حصہ بنادیا۔ عدالت نے وفاقی حکومت کو ایک ہفتے کے اندر نئے آرڈر پر عملدرآمد کا حکم دیا تھا تاہم ایک سال گزرنے کے بائوجود بھی سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر عمل نہ ہو سکا۔
گلگت بلتستان آرڈر 2020 نافذ کرنے کی تیاریاں مکمل،وزیر اعظم نے گرین سگنل دے دی۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا