سکردو(پ ر) مسلم لیگ ن سکردو نے یوم سیاہ یکجہتی کشمیر اور قائد کی صحتیابی کے لئے دعایئہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ
گلگت بلتستان کے عوام مظلوم کشمیریوں کے ساتھ ہیں ۔27 اکتوبر دنیا کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے بھارت نے اس دن لاکھوں فوجیوں کے ذریعے کشمیر پر جابرانہ قبضے کا آغاز کیا اور ظلم و استبداد کا سلسلہ آج بھی جاری ہے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ ن سکردو کے صدر و ممبر کونسل جی بی وزیر اخلاق حسین۔ اور جی بی کونسل کے سٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین و صوبائی ترجمان اشرف صدا سید محسن رضوی حسن سردار ۔جی ایم راہی۔عباس حافظی۔ واجد حسین اعجاز عباس۔قلبی عامر شریف شاہی ۔ و دیگر نے یوم سیاہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان مقررین کا مذید کہنا تھاکہ ہم غیور کشمیری مسلمانوں کی جرات کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے 84 دنوں سے سخت ترین کرفیو کا سامنا کررہے ہیں ہندوستانی جبر و آمریت کے خلاف سخت ترین مزاحمت کے ذریعے ہندوستان سے نفرت کا اظہار کررہےہیں اور پاکستان سے محبت کے لازوال کارنامے رقم کئے۔مسلم لیگ ن کے رہنماؤں نے کہا کہ کشمیر کی آزادی کی تحریک خالصاتا” جموں کشمیر کی اپنی تحریک ہے اور اس تحریک کو ریاست پاکستان کی سیاسی اخلاقی حمایت حاصل ہے قائدین نے کہا کہ میاں نواز شریف کی فیملی اس وقت شدید ترین انقلابی سیاست کا سامنا کررہے ہیں اور آج کا اجلاس اس بات کا عہد کرتی ہے کہ مسلم لیگ ن کا ایک ایک کارکن اپنے قائد میاں محمد نواز شریف کے شانہ بہ شانہ کھڑی ہے آج کا اجلاس میاں نواز شریف کے پرعزم قیادت کے لئے دعا گو ہیں۔اجلاس کے شرکا میاں نواز شریف کی گلگت بلتستان کے ترقی کے لئے اپنے دور میں کئے گئے ٹھوس اصلاحات پر شکریہ ادا کرتی ہے اجلاس کے آخر میں میاں نواز شریف کی صحت یابی کے لئے خصوصی دعا کی گئی۔مسلم لیگ ن کے رہنماؤں نے کہا کہ قائد مسلم لیگ ن میاں محمد نواز شریف کی زندگی کو خدا ناخواستہ کوئی نقصان پہنچا تو عمران نیازی اور اس کی حکومت زمہ دار ہوگی۔مقررین نے کہا کہ عمران نیازی اتنا ظلم کریں جتنا کل برداشت کر سکیں۔ ہم نواز شریف کی زندگی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرینگے اجلاس میں نجی ٹی وی پر وزیر اعلی گلگت بلتستان جناب حافظ حفیظ الرحمن پر جھوٹے الزامات اور ان کی کردار کشی کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی۔اور وزیر اعلی جناب حافظ حفیظ الرحمن کی مدبرانہ قیادت پر بھر پور اعتماد کا اظہار کیا گیا۔۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا